آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 11؍ذیقعد 1440ھ15؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گزشتہ ہفتے کرائسٹ چرچ میں ایک نسل پرست شخص کی دہشت گردی سے پچاس معصوم انسان اپنی جان سے گئے لیکن اس سانحے سے روشنی کی ایک کرن بھی برآمد ہوئی۔ آپ نے ملاحظہ کیا ہو گا کہ ہمارے ذرائع ابلاغ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن کی تحسین و توصیف سے بھرے پڑے ہیں۔ وجہ یہ کہ اس سانحے کے بعد جیسنڈا آرڈرن نے جس اخلاص سے اپنے ملک کے مسلمان شہریوں کی ڈھارس بندھائی، مظلوم گروہ سے یک جہتی کا اظہار کیا، فوری طور پر انتظامی اور قانونی اقدامات کئے، دہشت گرد کی سوچ کے سامنے جھکنے سے انکار کیا، اس سے نیوزی لینڈ کے معاشرے کو مساوی شہریت، رواداری اور تمام معاشرتی اکائیوں میں سچے باہمی احترام کا پیغام دیا گیا۔ نیوزی لینڈ کے باشندوں نے بھی انسان دوستی کی اعلیٰ مثال پیش کی اور عقیدے کے کسی اختلاف کی پروا کئے بغیر مسلم عبادت گاہوں کی حفاظت پر کمر بستہ ہو گئے۔ پچاس لاکھ آبادی کے اس ملک میں مسلمانوں کی تعداد ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ اس کے باوجود وہاں کی قومی قیادت، ریاستی اداروں اور عام شہریوں نے جس طرح اس سانحے پر ردعمل دیا ہے، اس سے وہاں بسنے والے مسلمانوں میں نیوزی لینڈ سے حقیقی محبت پیدا ہوگی۔ کسی کو اپنی جان بچانے کے لئے نیوزی لینڈ چھوڑ کر کہیں اور پناہ ڈھونڈنے کی ضرورت محسوس نہیں ہو گی۔ نیوزی لینڈ میں مذہب، جنس یا نسل کی بنیاد پر امتیاز کے بغیر ووٹ کا حق 1893میں دیا گیا۔ واضح رہے کہ امریکہ اور برطانیہ جیسے ملکوں میں عورتوں کو ووٹ کا حق بالترتیب 1921اور 1929میں ملا۔ افریقی نژاد امریکی باشندوں کو مساوی شہری حقوق کے لئے 1964تک انتظار کرنا پڑا۔ سوئٹزرلینڈ جیسے ملک میں 1970تک عورتوں کو ووٹ کا حق نہیں تھا۔ چنانچہ جدید جمہوری اقدار اور اداروں کی تاریخ میں نیوزی لینڈ صف اول کی رہنما ریاست ہے۔ سوا صدی پر محیط جمہوریت کا ثمر یہ ہے کہ دہشت گردی کے اتنے بڑے واقعے کے باوجود کسی کو نیوزی لینڈ کے ریاستی بندوبست، سیاسی قیادت اور معاشرتی رویوں پر انگلی اٹھانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ دائیں بازو کے انتہا پسند سیاسی عناصر پارلیمنٹ میں موجود ہیں لیکن جیسنڈا آرڈرن نے السلام و علیکم کہہ کر پارلیمنٹ میں تقریر شروع کی، سرکاری طور پر اذان نشر کی گئی اور ایوان میں موجود کسی نسل پرست سیاستدان کو اختلاف کی جرات نہیں ہوئی۔ ایسا کیسے ممکن ہوا؟ جمہوری معاشرے میں انسانی جان کا تحفظ اعلیٰ ترین قدر ہے۔ انسانی جان کی حرمت کسی مذہبی، سیاسی یا معاشی مفاد سے بالاتر ہے۔ دوسرے یہ کہ سربراہ حکومت نے اس واقعے کی عذر خواہی کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ شہریوں کے تحفظ میں ناکامی کا واضح اور فوری اقرار کیا۔ تیسرے یہ کہ دہشت گرد کے فکری محرکات اور کسی مفروضہ سیاسی نصب العین کو تسلیم کرنے سے دوٹوک انکار کیا گیا۔ پیغام واضح تھا کہ دہشت گردی کا کوئی حقیقی یا مفروضہ جواز قابل توجہ نہیں۔ دہشت گردی ایک جرم ہے اور اس کی عذر خواہی سے دہشت گردی کو فروغ ملتا ہے۔

نیوزی لینڈ کی 38سالہ خاتون وزیراعظم مارمن مسیحی فرقے میں پیدا ہوئیں لیکن اب خود کو لاادری (agnostic) قرار دیتی ہیں یعنی کسی خاص عقیدے سے وابستہ نہیں ہیں۔ اس سے دنیا بھر میں خود کو روشن خیال کہلانے والے افراد اور گروہوں کو یہ قابل تقلید پیغام ملا ہے کہ روشن خیالی دوسروں کے عقائد کی تحقیر کا نام نہیں بلکہ ہر فرد کے حق عقیدہ کا غیر مشروط احترام کرنے کا نام ہے۔ روشن خیالی کا اعلیٰ ترین درجہ یہی ہے کہ ہمیں عقیدے کے کسی اختلاف سے قطع نظر ظلم، ناانصافی، امتیاز، تفرقے اور تشدد کے خلاف پوری قوت سے کھڑے ہونا چاہئے۔ اب اپنے وطن کے احوال و واقعات پر نظر ڈالنی چاہئے۔ ہم نے چالیس برس پر پھیلی منافرانہ پالیسیوں کے نتیجے میں ستر ہزار جانیں گنوائی ہیں۔ ہماری عبادت گاہوں اور درس گاہوں پر حملے ہوئے۔ ہمارے بہترین سیاسی رہنماؤں نے اپنی جانوں کی قربانی دی۔ ہمارے چھ ہزار سے زیادہ فوجی جوان اور افسر شہید ہوئے ہیں۔ دہشت گردی سے ہونے والے معاشی اور تمدنی نقصان کا کوئی تخمینہ ممکن ہی نہیں۔ ہمیں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے بارے میں دوسرے ممالک سے زیادہ حساس ہونا چاہئے لیکن ہمارا ایک وفاقی وزیر اسمبلی کے اندر اور باہر ایسے غیرذمہ دارانہ بیان دیتا ہے جن کا کوئی دفاع ممکن نہیں۔ خیبر پختونخوا میں ایک رکن صوبائی اسمبلی نے پاکستان کی سب سے بڑی مذہبی اقلیت کے بارے میں غیرحساس الفاظ ادا کئے۔ ایوان میں موجود اقلیتی ارکان کے احتجاج پر اسپیکر مشتاق احمد غنی نے تدبر سے کام لے کر نازیبا الفاظ حذف کرائے اور اعلان کیا کہ پاکستان میں ہر شہری برابر ہے خواہ اس کا کوئی بھی مذہب ہو۔ مشتاق احمد غنی کا دم غنیمت ہے۔ کاش اس درست سوچ کو ملک کے سیاسی اور تمدنی مکالمے میں زیادہ جگہ مل سکے۔

21اگست 1969کو مسجد اقصیٰ میں آتش زنی کے افسوسناک واقعے کے بعد اسلامی ممالک کی کانفرنس قائم ہوئی لیکن اس ادارے کے فکری اور سیاسی خدوخال کبھی واضح نہیں ہو سکے۔ اس ادارے کی رکنیت کا معیار محل نظر رہا۔ اگر یہ مسلم اکثریتی ممالک کا پلیٹ فارم ہے تو گیانا اور بنین جیسے ملک کیسے اس کے رکن ہیں جہاں مسلم آبادی بالترتیب 7فیصد اور 27فیصد ہے۔ پھر خیال آتا ہے کہ خلیج کے دو بڑے مسلم اکثریتی ممالک میں مسلم اقلیتی مسالک پر عرصہ حیات تنگ ہے۔ کسی کو نشاندہی کی توفیق نہیں۔ ایک دوست ملک میں ڈیڑھ لاکھ سیاسی کارکن، دانشور اور صحافی قید ہیں۔ ایک بڑی عالمی طاقت نے اپنے ملک میں مسلمانوں پر عبادت اور مذہبی شعائر کی ناجائز پابندیاں لگا رکھی ہیں۔ دس لاکھ مسلمان محض عقیدے کی پاداش میں قید ہیں۔ برما کے روہنگیا مسلمان نسل کشی کا شکار ہیں۔ عراق، شام، لیبیا اور یمن برباد ہو چکے، اسلامی کانفرنس کے رکن ممالک خاموش ہیں۔ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے یاد دلایا ہے کہ اسلام سلامتی کا مذہب ہے، سلامتی اپنے لئے اور سلامتی سب کے لئے۔ کرائسٹ چرچ کے سانحے کے بعد دنیا میں بالآخر ایک اسلامی ملک دریافت ہو گیا ہے جہاں ریاست اور معاشرہ اقلیت کے تحفظ پر یکسو اور پرعزم ہیں۔ ایک حقیقی اسلامی ملک وہی ہو سکتا ہے جہاں عقیدے کو سیاسی اور معاشی مفادات کا آلہ کار نہ بنایا جائے۔ اہلِ نیوزی لینڈ کا شکریہ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں