آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 17؍ذیقعد 1440ھ21؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان دنیا کے ان ممالک میں سے ایک ہے، جہاں مہذب تہذیب کے آثار کئی صدیوں پرانے ہیں، جن میں سے ایک وادی سندھ کی 5 ہزار سالہ قدیم تہذیب کا مرکز موئن دڑو ہے جو صوبہ سندھ میں لاڑکانہ کے قریب واقع ہے۔ قدیمی تہذیب کی حامل وادی سندھ کے اس شاہکار نے ایک تہائی صدی سے عالمی محققین، مؤرخین، ماہرین آثار قدیمہ کو حیرت میں مبتلا کررکھا ہے۔ موئن جو دڑو کی تاریخ پر سرسری کی نگاہ ڈالی جائے تواسے 1922 میں برطانوی ماہر آثار قدیمہ ،سر جان مارشل نے دریافت کیا۔ موئن جو دڑو سندھی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب’’ مُردوں کا ٹیلہ ‘‘ہے، یہ شہربہترین منصوبہ بندی سے بسایا گیا تھا۔ اس شہر کی گلیاں کھلی اور سیدھی جب کہ پانی کی نکاسی کا مناسب انتظام تھا۔محققین کے مطابق یہ شہر 7 مرتبہ اجڑا اور دوبارہ بسایا گیا جس کی اہم ترین وجہ دریائے سندھ کا سیلابی ریلاتھا تاہم یہ کب کھنڈرات میں تبدیل ہوا، اس کے بارے میں مختلف آراء ہیں۔ کچھ لوگ اس خوب صورت شہر کی تباہی کا سبب وسط ایشیاء سے آریہ قوم کی آمد کو قرار دیتے ہیں جب کہ بعض قدرتی آفات کو۔ پرانی کتب کے مطالعےکے بعد یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ قدیم زمانے میں دریائے سندھ موئن جو دڑوکے قریب سے گزرتا تھا۔ وہاں کا حقیقی شہر دریائے سندھ اور مغربی کنارے کے درمیان واقع ایک جزیرہ تھا۔اس سرزمین کا جائزہ لینے سے یوں سمجھ میں آرہا ہے کہ وہاں پر دراصل پانچ جزیرے تھے جو بعد میں دریا کے رخ تبدیل کرنے اور ان کے اوپر ریت چڑھ جانے کے سبب اکٹھے ہوگئے اورجزیروں کا گویا ایک گچھایکجاہوگیا۔ اب وہاں صرف ٹیلے ہی ٹیلے نظر آتےہیں جو تقریبًا اڑھائی سو ایکڑ رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں۔ کچھ ٹیلے 20تو کچھ 30فٹ بلند ہیں۔اب تک موئن جو دڑو کی تقریبًا تیرہ ایکڑاراضی کی کھدائی کی گئی ہے، اس دوران یہاں سے تہہ در تہہ سات شہر ایک دوسرے کے اوپر ملے ہیں۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ سیلابی موسم میں جب پانی سے شہر تباہ ہوجاتا تھا تو یہاں کے لوگ اس شہر کے اوپر ایک دوسرا شہر تعمیر کرلیا کرتے تھے۔ موئن جو دڑو کے آثار کی کھدائی کے دوران قیمتی نوادرات و اشیاء بھی ملی ہیں، جن کا ذیل میں تذکرہ پیش خدمت ہے۔

پیراہن

موئن دڑو میں رہنے والے،مردوں کا لباس دھوتی اور چادر تھا۔ وہ چادر کو دائیں بازو بغل کے نیچے سے گزار کر بائیں کاندھے پر ڈال کر پہنا کرتے تھے۔ اس کے کھنڈرات سے برآمد ہونے والےکچھ مجسموں کودیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے مردوں نے دھوتی کے بجائے ایک ایسی کھگھری پہنی ہوئی ہے جیسے آج کل شہنائی والے (ڈھول بجانے والے) پہنا کرتے ہیں۔ کچھ مجسم بالکل برہنہ ہیں اور کچھ میں لوگوں کو لنگوٹ پہنے ہوئے نظر آتے ہیں۔

زیورات

موہن جو دڑو والےعہد میں مرد و خواتین عام طور سے زیورات پہنا کرتے تھے۔ عورتیں منکوں کے ہار، چاندی یا سونے کی چوڑیاں اور پازیب پہنا کرتی تھیں۔ کچھ مجسموںمیں عورتوں کو کہنی سے لے کر کندھے تک چوڑیاں پہنے دکھایا گیاہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس دور میں بھی چوڑیوں کا رواج عام تھا، کچھ زیورات پر جڑاؤ کا کام بھی دیکھنے میں آیا ہے۔ اس لئے کہہ سکتے ہیں کہ اس دور میں سنار بھی ہوا کرتے تھے۔

قیمتی پتھر

موہن جو دڑو کے آثار سے جو زیورات ملے ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ قدیم سندھ کے باشندے عقیق یا سنگ سلیمانی (Agate) ، نیلم، اور دیگر قسم کے قیمتی پتھر ہار کے منکوںکوزیورات میں جڑاؤ کے طور پر استعمال کرتے تھے۔

کھیتی باڑی، دیگر ہنر و فصلیں

وادی مہران کی قدیم تہذیب میںکاشت کاری اور زراعت سے متعلق اتنی زیادہ معلومات حاصل نہیں ہوئی ہیں، تاہم موئن جو دڑو سے گندم اور جو کے دانےملے ہیں۔ اگر چہ تلوں کا ایک دانہ ہی وہاں سے نہیں ملا ، لیکن لگتا ہے کہ وہاں تلوں کی فصل بھی ہوا کرتی تھی۔ کیونکہ وید سے معلومات ہوتا ہے کہ اس قدیم دور میں پنجاب اور سندھ میں تلوں اور جو کی فصلیں بہت ہی اچھی ہوتی تھیں۔ اس وقت اناج پیسنے کے لئے جو چکیاں استعمال کی جاتی تھیں وہ آج کے دور سے خاصی مختلف ہیں۔ پہلے ان چکیوں کے نمونے بھی مختلف ہوا کرتے تھے۔ وہ چکیاں موہن جو دڑو سے بڑی تعداد میں ملی ہیں۔

خوراک

تحقیق یہ بتاتی ہے کہ موہن جو دڑو کے لوگ گندم اور جو کے علاوہ کھجور بھی بہت کھاتے تھے۔ کھجوروں کی گٹھلیاں کھدائی کے وقت ملی ہیں، اسی وقت لوگ مچھلی بلکہ بڑا گوشت بھی کھاتے تھے۔ دریا کی مچھلی تو شوقین تھے لیکن کچھوے کو بھی بہ طور خوراک استعمال کرتے تھے۔

چرخہ کاتنے اور کپڑا بننے کا ہنر

کئی چرخے اور چرخے میں استعمال ہونے والی لوہے کی میخیں ملی ہیں، ان میں سے کچھ سادہ سی اور کچھ قیمتی ہیں۔ اس سے لگتا ہے کہ غریبوں اورامیروںکے گھروں میں چرخہ کاتنے کا یکساںرواج تھا۔ ایک تھیلہ چاندی کے ظروف، جواہرات اور منکوں سے بھرا ہوا ملا ہے جو اعلیٰ طرح بنے ہوئے کپڑے میں لپیٹا ہوا تھا۔ اس میں دیسی روئی استعمال کی ہوئی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پانچ ہزار برس پہلے سندھ میں کپاس کی فصل ہوتی تھی اور اسی دور میں ہی سندھیوں کے پاس کپڑے بننے کے کرگھے بھی تھے۔

دھات

پتھر کے دور کے انسانوں کی طرح موئن جو دڑو کے باشندے بھی پتھر کے اوزار اور برتن استعمال کرتے تھے لیکن تانبے کا بھی ان کو علم تھا جس سے وہ برتن اوزار بلکہ زیور بھی بناتے تھے اور لوہے کا تو ایک ذرہ بھی ہاتھ نہیں آیا، لیکن یہ زمانہ ہی ایسا تھا جس میں لوگوں کو لوہامارنے کی عقل ابھی نہیں آئی تھی۔ قلعی بھی الگ سے نہیں ملی۔ لیکن فقط تانبے کے ساتھ استعمال شدہ ملی ہے۔ مہن جو دڑو کے لوگ تانبہ اور قلعی ملا کر ’’برانز‘‘ بناتے تھے۔ اس سے بھی اوزار اور برتن بناتے تھے۔

ہتھیار: موہن جو دڑو سے چند پتھر اور تانبے سے بنے گرز (Maces) چند بھالے، کٹار ، تیر اور کمانیں ملی ہیں۔ تلوار بنانے کا رواج تو بہت بعد کی بات ہے اس لئے تلوار وہاں سے نہیں ملی۔ اسی وجہ سے لگتا ہے کہ ملک میں اکثر لڑائی وغیرہ نہیں لگتی تھی اور لوگ امن وسکون سے زندگی گزارتے تھے۔

باٹ اور پیمانے : باٹ اور پیمانے کئی انواع کے ملے ہیں۔ وہ اکثر نازک اور چھوٹے ہیں۔ کچھ مخروطی شکل کے بڑے پتھر ملے ہیں جن کے پر اوپر سے سوراخ ہے۔ ان سوراخوں سے رسی گزاری جا سکتی ہے۔ ان پتھروںکو تول کے وقت باٹ کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ کچھ چھوٹے باٹ خاستری رنگ کی سلیٹ کے، پیسے کی شکل جیسے ہیں۔ جو ایم اور میسو پوٹیمیا کے باٹوں سے مشابہت رکھتے ہیں۔

مہریں : موہن جو دڑو سے سیکڑوں کی تعداد میں علیحدہ علیحدہ نمونوں اور سائز کی مہریں بھی ملی ہیں، قدیم زمانے میں دستور تھا کہ لوگ جب کہیں باہر جاتے تھے تو دروازوں کو باہر سے مہر لگاتے تھے۔ ہر ایک مہرپر دیوتا کی شکل بنی ہوئی ہوتی تھی۔ وہ دیوتا گویا کہ مکان کی رکھوالی کرتا تھا اور ان کی ملکیت کو کوئی بھی ہاتھ نہیں لگتا تھا۔ موہن جو دڑو کے لوگوں کا بھی شاید یہی دستور تھا۔

فن تحریر: موہن جو دڑو سے دریافت شدہ مہروں پر جانوروں کی شکلوں کے علاوہ ایک دو سطور بھی لکھی ہوئی ہیں لیکن حروف کی تصویروں کی صورت میں ہیں، ساری دنیا میں جو رسم الخط مروج ہیں ان سے حروف اکثر ایسی تصویری تحریروں میں سے بنے ہیں۔ پہلے حروف کی بجائے جانوروں وغیرہ کی شکلیں بناتے تھے۔ وہ شکلیں بعد میں اپنی صورت مٹاکر موجودہ حروف بنی ہیں۔ مہروں میں ایسے حروف کے درمیان کہیں دیوتا گری طرز کے اعراب (زیر، و زبر و پیش) وغیرہ ہیں جس سے لگتا ہے کہ یہاں پر فن تحریری کی اچھی خاصی ترقی ہوئی تھی۔ اس قسم کی مہریں میسو پوٹیمیا کی طرف سے بھی دریافت ہوئی ہیں جو تین ہزار برس ق ۔ م کی ہیں۔ اس سے سر جان مارشل نے قیاس آرائی کی ہے کہ موہن جو دڑو کی تہذیب بھی اس قدیم زمانے کی ہے۔

کھیل اور کھلونے:

موہن جو دڑو میں سنگ سلیمانی اور دیگر پتھروں سے بنی ہوئی گولیاں، شطرنج اور چھکے ملے ہیں۔ وہ آج کل کے چھکوں کی طرح لمبے نہیں بلکہ کعب شکل کے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگوں کی فرصت میں تفریح کا سامان یہ کھیل تھے۔ اس وقت کے لوگوں کو اپنے بچوں کی تفریح کی بھی بڑی فکر ہوا کرتی تھی سی قسم کے کھلونے وہاں سے دریافت ہوئے ہیں۔ جو لوگوں، بیلوں اور گھوڑوں کی شکل کی ہیں، ایک بیل کو دم سے کھینچا جاتا ہے تو وہ اپنی گردن ہلاتا ہے۔ ایک ہاتھی کی شکل کا ہے، ایک پکائی ہوئی مٹی کی بنی ہوئی گاڑی پہیوں سمیت ملی ہے۔ اس قسم کی گاڑیاں 32 سو قبل مسیح میسو پوٹیمیا کی طرف مروج تھیں۔ اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ یہ گاڑیوں کا سب سے پرانا نمونہ ہے۔

موہن جو دڑو کی کھدائی کے دوران درج بالا اشیاء کے علاوہ دیگر قیمتی نوادرات و چیزیں بھی ملی ہیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ موہن جو دڑو قدیم تہذیب کا شاہکار ہے، جس پر تحقیقات تاحال جاری ہے، دنیا بھر کے محققین، ماہرین یہاں سے ملنے والی چیزوں کا مشاہدہ کررہے ہیں اور نت نئے انکشافات سامنے آرہے ہیں، اس ضمن میں اگر یہ کہا جائے کہ موہن جو دڑو کسی حیرت کدے سے کم نہیں تو بے جا نہ ہوگا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ موہن جو دڑو کے ان آثار کو محفوظ بنانے کے لئے حکومت موثر اقدامات کریں تاکہ قدیمی تہذیب کے حامل اس شاہکار کے آثار کو محفوظ بنایا جاسکے۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں