آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ18؍رمضان المبارک1440 ھ24؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ بھارت پاکستان میں  16 سے 20 اپریل کےدرمیان کارروائی کرسکتا ہے۔


ملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت کی جانب سے پاکستان میں 16 سے 20 اپریل کے درمیان کارروائی کا خدشہ ہے اور اس حوالے سے پاکستان کے پاس قابل بھروسہ اطلاعات ہیں کہ بھارت تیاری کر رہا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جنگ کے بادل اب بھی منڈلا رہے ہیں، مودی سرکار نے سیاسی مقاصد کے لیے پورے خطے کے امن کو داؤ پر لگا دیا ہے، ہمارے پاس مصدقہ انٹیلی جنس ہے کہ بھارت ایک اور جارحیت کا منصوبہ بنارہا ہے۔

بھارت کی جانب سے پاکستان میں 16 سے 20 اپریل کے درمیان کارروائی کا خدشہ ہے

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اس اطلاع کو عالمی برادری کے ساتھ شیئر کریں اور بھارتی عزائم کو بے نقاب کریں۔بھارت بہانے کے طور پر مقبوضہ کشمیر میں پلوامہ جیسا واقعہ بھی کراسکتا ہے، عالمی برادری بھارت کے غیر ذمہ دارانہ رویے کا نوٹس لے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا دنیا جانتی ہے پاکستان نے ذمہ دارانہ اور بھارت نے غیر ذمہ دارانہ رویہ اپنایا، لائن آف کنٹرول پر مسلسل فائرنگ جاری ہے لیکن پاکستان بردباری سے معاملات کو سلجھانے کی کوشش کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم زندہ قوم ہیں اور دفاع کا حق رکھتے ہیں، اگر بھارت نے جارحیت کا مظاہرہ کیا تو ملک کا بھرپور دفاع کیا جائے گا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم زندہ قوم ہیں اور دفاع کا حق رکھتے ہیں

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارتی پائلٹ کو لوٹانے کا مقصد امن کا پیغام اور کشیدگی کم کرنا تھا، پاکستان کل بھی امن کا داعی تھا اور آج بھی ہے، پاکستان نے اسی ماہ 360 بھارتی قیدی رہا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ابھی بھارت میں انتخابات ہیں، الیکشن کے دوران بھارتی حکومت کی طرف سے ہمت اور جرات کا مظاہرہ مشکل ہے لیکن انتخابات کے بعد کشمیر، پانی، سیاچن، راہ داری یہ مسائل بیٹھ کر بات چیت سے حل کیے جاسکتے ہیں، امید ہے بھارت اس اہمیت کو سمجھے گا۔

انہوں نے کہا کہ 71 کے بعد پہلی مرتبہ ایل او سی کو عبور کیا جاتا ہے، اس پر دنیا خاموش رہتی ہے، بہت سے ذمہ دار ممالک جانتے ہوئے کہ یہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور پھر بھی خاموش رہتے ہیں، یہ خاموشی کیوں ہے، یہ جیو پولیٹیکس ہے جو خاموشی کی وجہ بن رہی ہے۔

امریکا نے تصدیق کردی کہ پاکستان کا کوئی F16  نہیں گرایا گیا

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ عالمی برادری کو خطے کی حساسیت کو سامنے رکھتے ہوئے خاموش نہیں رہنا چاہیے، انہیں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور کرنا چاہیے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پلوامہ واقعے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کئی گنا شدت آئی ہے، جبر اور تشدد بڑھا ہے اور عالمی برادری کو اسے صرف نظر نہیں کرنا چاہیے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں