آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ16؍رمضان المبارک 1440ھ22؍ مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

محکمہ جنگلی حیات بلوچستان نے شکار کےحالیہ سیزن میں تلور کےشکار کی فیس کی مد میں 9کروڑ روپے کی خطیر رقم وصول کرلی ۔

کنزرویٹر جنگلی حیات بلوچستان شریف الدین بلوچ نے بتایا کہ بلوچستان میں شکارکےحالیہ سیزن میں تلورکےشکارکی فیس کی مد میں تقریبا9 کروڑروپےوصول کئےگئے ہیں۔

تلورکےشکارکےسیزن میں یہ خطیررقم پانچ عرب شہزادوں سےفیس کی مد میں وصول کی گئی ،عرب شہزادےسیزن میں صوبےکےمختلف علاقوں میں تلورکےشکارکےلئےپہنچے تھے اس مقصد کےلئے انہیں پندرہ علاقے الاٹ کئے گئے تھے۔

کنزرویٹر جنگلی حیات کا کہناتھا کہ محکمہ جنگلی حیات کی جانب سے گذشتہ سال ماہ اکتوبر میں نئے قواعدوضوابط کےتحت تلورکےشکارکےلئےایک لاکھ ڈالرفیس مقررکی گئی تھی جبکہ تلورکےشکارمیں استعمال ہونےوالےفیلکن یعنی شکرہ /باز کےلئے علیحدہ سے ایک ہزارڈالرفیس مقررکی گئی تھی،شریف الدین کےمطابق قواعدوضوابط کےتحت عرب شہزادوں کو 10روز میں 100تلورکےشکار کی اجازت دی گئی تھی۔

کنزرویٹر جنگلی حیات کا کہناتھا کہ محکمہ کوموصول ہونےوالی رقم سےجنگلی حیات کےتحفظ کےلئےانڈوومنٹ فنڈ قائم کیاجانےکاپلان ہے۔

اس کےعلاوہ جنگلی حیات کےتحفظ کےلئےمزید اقدامات پربھی کام جاری ہے ۔اس حوالےسے بلوچستان میں جنگلی حیات کےتحفظ کےلئےوزیراعلی کی سربراہی میں ایک کونسل تشکیل بھی دی جاچکی ہے،اسی طرح محکمہ جنگلی حیات میں چیف کنزرویٹر کی نئی آسامی کی منظوری بھی دے دی گئی ہے۔

بلوچستان کو جنگلی حیات کےحوالےسےملک بھر میں اہم مقام حاصل ہے،یہ صوبہ ملک میں پائے جانےوالے 53فیصدپرندوں ، 54فیصدرینگنےوالےجانوروں اور38فیصد میملز یعنی دودھ پلانے والے جانوروں اور 57فیصدخشکی اور تری دونوں جگہ پرپائےجانےوالےجانوروں کا مسکن ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں