آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 11؍ذیقعد 1440ھ15؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کبھی ہم بھی اینکر ہوتے تھے۔ جی ہاں، آپ نے ٹھیک سنا۔ میں اپنی بات کررہا ہوں۔ اپنے پورے کنبے کی بات نہیں کر رہا۔ جب کوئی آدمی دبنگ بن جاتا ہے تب اپنا ذکر صیغہ عددِ واحد میں نہیں کرتا بلکہ صیغہ جمع میں کرتا ہے۔ ہم آرہے ہیں، ہم جا رہے ہیں۔ لگتا ہے جیسے کوئی شخص لائو لشکر کے ساتھ آ،جا رہا ہے۔ ہم آپ کے ہاں کھانا کھانے آ رہے ہیں۔ یہ سننے کے بعد آپ ایک عدد بکرا ذبح کروا تے ہیں، دوچار مرغے کٹواتے ہیں، دم پخت، بریانی، قورمہ، تکے کباب تیار کرواتے ہیں۔ جب مہمان تشریف لے آتے ہیں تب صیغہ عددِ واحد میں نموادار ہوتے ہیں۔ پہنچ جانے کے بعد فرماتے ہیں، ہم آپ کے ہاں کھانا کھانے پہنچ چکے ہیں۔ اگر آپ کسی کو یہ کہتے ہوئے سنیں کہ کل ہم شادی کرنے جا رہے ہیں۔ تب مت سوچئے گا کہ اُس شخص کے محلے کے تمام مرد کل شادی کرنے جا رہے ہیں، کل اُس شخص کی اپنی شادی ہے۔ وہ شخص چونکہ دبنگ بن چکا ہے یا پھر اپنے آپ کو دبنگ سمجھتا ہے، اِس لئے اپنا ذکر صیغہ عددِ جمع میں کرتا ہے۔ لوگوں نے کسی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ کل ہم زندہ نہیں رہیں گے، کل ہم مر جائیں گے۔ تب لوگوں نے خالی پڑے ہوئے میدان میں تدفین کے لئے دو چار سو قبریں کھدوا دیں۔

اینکر بن جانے کے بعد آدمی دبنگ بن جاتا ہے۔ میں جب اینکر ہوا کرتا تھا تب میں دبنگ ہوتا تھا۔ اِس لئے اپنے اینکر ہونے والے دور کی کتھا کہانی سناتے ہوئے میں نے اپنا ذکر صیغہ عددِ جمع میں کیا ہے۔ اب جبکہ میں اینکر نہیں رہا اور آپ سب کی طرح عام آدمی بن چکا ہوں، میں اپنا ذکر صیغہ غائب میں کرتا ہوں۔ سردست چونکہ ذکر میری آتم کتھا کے اُس دور کا ہے جب میں اینکر ہوا کرتا تھا اور دبنگ بن چکا تھا، اِس لئے اپنا ذکر صیغہ عددِ جمع میں کر رہا ہوں۔

میری آتم کتھا سننے سے پہلے اگر آپ مجھ سے یہ پوچھتے ہیں کہ تیری حیثیت ہی کیا ہے کہ تو اینکر بن بیٹھا تھا؟ آپ کی دل جوئی کے لئے میرا سادہ سا جواب سن لیجئے۔ میری اپنی حیثیت خاک برابر تھی مگر حیثیت رکھنے والوں کی سفارش سے میں اینکر بنا تھا۔ میں آپ کو یہ بھی نہیں بتائوں گا کہ میں کس ٹیلی وژن چینل پر بطور اینکر ظہور پذیر ہوتا تھا۔ میں آپ کو صرف اتنا بتا سکتا ہوں کہ مجھے پہلی مرتبہ اسکرین پر دیکھ کر اور سن کر کئی ایک ناظرین اور سامعین غش کھا کر گر پڑے تھے اور بیہوش ہو گئے تھے۔ بڑے جتن سے اُنہیں ہوش میں لایا گیا تھا۔ اُنہیں دوبارہ میری جھلک دکھائی گئی تھی اور میری آواز سنائی گئی تھی۔ اِس طرح اُنہیں یعنی ناظرین اور سامعین کو مجھے دیکھنے اور برداشت کرنے کی عادت ڈالی گئی تھی۔ اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے سامعین اور ناظرین کو مجھے سننے اور دیکھنے کی عادت سی پڑ گئی۔ وہ مجھے دیکھنے اور سننے کے لئے بے چین رہنے لگے۔ ایسی صورتحال میں میرا دبنگ بننا لازمی تھا۔ اچھے اچھے کائیاں قسم کے سیاست دان میرے پروگرام میں آ کر بیٹھتے تو سہمے سہمے سے لگتے تھے۔ مختلف سیاسی پارٹیوں کی نمائندگی کرنے آتے تھے۔ پروگرام کے دوران آپس میں جھگڑتے تھے، لڑ پڑتے تھے۔ کچھ سیاست دان ایسے بھی ہوتے تھے جو گالم گلوچ سے بھی باز نہیں آتے تھے۔ بدزبان ہوتے تھے مگر مجھ سے ادب سے بات کرتے تھے۔ مجھ سے مخاطب ہوتے تو مجھے بالم بھائی اور کبھی کبھی تو مجھے سر Sirبھی کہتے تھے۔ بالمSir۔

میں چونکہ مکمل طور پر دبنگ بن چکا تھا، لہٰذا منہ پھٹ سے سیاستدان میرے پروگرام میں آتے تو اپنی اوقات یاد رکھتے تھے۔ بغیر کسی رکھ رکھائو کے میں اُنہیں جھاڑ دیتا تھا، اُن کو ان کی اپنی پرانی کلپنگز دکھا کر شرمندہ کرتا تھا۔ آج کل کے کئی اینکر پرسن میری کاپی کرتے ہیں۔ آپ جائز طور پرسوچ رہے ہونگے کہ گت بن جانے کے بعد سیاست دان میرے پروگرام ’’بالم بھائی کی باتیں‘‘، میں آنے کے لئے کیوں ہاتھ پیر مارتے رہتے تھے۔ بات سیدھی سی ہے۔ میرے پروگرام کی مقبولیت، سیاست دانوں کو کھری کھری سنانے کے علاوہ میں جب بدتمیزی پر اترآتا تھا تب بھارتی چینلوں کے بدتمیز سے بدتمیز اینکرز کو بھی پیچھے چھوڑ جاتا تھا۔ سیاست دانوں سے جلے بھنے ناظرین اس طرح کے پروگرام بڑی دلچسپی سے دیکھتے تھے۔ ایسے پروگرام دیکھنے کے لئے وہ دعوتیں اور شادی بیاہ کی تقاریب ملتوی کر دیتے تھے۔ کالج اور یونیورسٹی کے امتحانات کی تاریخیں بدل دی جاتی تھیں۔ ریل گاڑیاں اور بس روک کر مسافروں کو میرا پروگرام ’’بالم بھائی کی باتیں‘‘ دکھایا جاتا تھا۔ آپ خود سوچیں، ایسے میں، میں دبنگ کیسے نہ بنتا؟

وزیروں کے پی اے نہیں، بلکہ وزیر بذات خود مجھے فون کرتے تھے۔ کہتے تھے: بالم بھائی بہت دن گزر گئے ہیں، آپ نے ہمیں اپنے پروگرام میں نہیں بلایا۔ ہم سے ناراض تو نہیں۔

کئی مرتبہ ایسے بھی ہوا تھا کہ وزیروں سے میری گاڑھی چھننے لگی تھی۔ وہ مجھے اپنی نجی محفلوں میں بلاتے تھے، خوب آئو بھگت کرتے تھے، مجھے تحفے تحائف دیتے تھے۔ میرے بدخواہوں اور ہم عصر اینکر پرسن کی نیندیں تب اڑیں جب صوبائی وزراء اعلیٰ، وزیراعظم اور صدر مملکت میرے پروگرام ’’بالم بھائی کی باتیں‘‘ میں دکھائی دیئے۔ وہ سب مجھے مدعو کیا کرتے تھے اور اپنے ایوانوں میں پروگرام کی ریکارڈنگ کرواتے تھے۔

پھر کیا ہوا کہ میں اینکر رہا، نہ دبنگ؟ یہ بپتا میں آپ سے شیئر نہیں کر سکتا۔ یہ بپتا میں نے صرف پروین شاکر سے شیئر کی تھی۔ میری بات سننے کے بعد پروین شاکر نے کہا تھا، تیری بات سچ تو لگتی ہے، مگر بات ہے رسوائی کی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں