آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ19؍رمضان المبارک 1440 ھ25؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شیخ رشید احمد کی یہ بات تو درست ہے کہ پی ٹی آئی کے آدھے مسائل سوشل میڈیا کی وجہ سے ہیں مگر شیخ رشید احمد کی یہ بات بالکل درست نہیں کہ اسد عمر کو صرف عمران خان نے فارغ کیا ہے۔ دراصل اسد عمر اُسی دن فارغ ہو گئے تھے جس دن اُنہوں نے عوام کے خلاف فیصلے کرنا شروع کئے تھے۔ معاشی عالم چنے کو اُن کا غرور لے ڈوبا۔ وہ اکثر میٹنگوں میں خود کو ’’ارسطو‘‘ ثابت کرتے تھے اور وزیراعظم کی رہنمائی کو بھی نظر انداز کر دیتے تھے۔ اُن کی ’’آکڑ خانی‘‘ نے اُنہیں مروا دیا۔ پی ٹی آئی پر عجیب وقت تھا کہ ایک غیر سیاسی آدمی اُن پر مسلط تھا، یہ غیر سیاسی آدمی ویسے تو کونسلر بھی نہیں بن سکتا تھا مگر عمران خان کی مہربانیوں نے اُسے اسلام آباد سے دو مرتبہ ایم این اے بنوا دیا۔ سات سالہ تیاری کے بعد جب عالم چنے کو صلاحیتیں دکھانے کا موقع ملا تو پتا چلا کہ جس کی تعریفیں چیئرمین تحریک انصاف سات سال کرتے رہے، وہ تو انتہائی نکما نکلا، اُس نے عمران حکومت کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا۔ شیخ رشید احمد کابینہ کے اجلاسوں کی باتیں بے شک نہ بتاتے، جن اجلاسوں میں وزراء کھل کر اسد عمر پر تنقید کرتے رہے، خاص طور پر نوجوان وزراء نے اُنہیں ہدفِ تنقید بنایا۔ ہدف سے یاد آیا کہ اِس نام سے کومل سلیم ایک پروگرام کرتی ہیں۔ باتونی جادوگر پر پی ٹی آئی حکومت کے انتہائی سینئر وزیر نے ایک روز بہت تنقید کی، اُنہوں نے عالم چنے کو خوب ہدفِ تنقید بنایا۔ ملک کو بہت سا نقصان پہنچانے والے کو میڈیا سے بھی خوف آتا تھا۔ شیخ رشید احمد کو رات گئے ہونے والی اِس میٹنگ کا تذکرہ کرنا چاہئے تھا جس میں دو خاص شخصیات کے ساتھ چند ماہرین بھی شریک تھے۔ اُس میٹنگ میں وزیراعظم خاموش رہے۔ جب ماہرین نے حقائق سامنے رکھے تو پوری پی ٹی آئی کو باتوں سے رام کرنے والے کی حالت دیدنی تھی، اُس سے کوئی جواب نہ بن پا رہا تھا، آدھی رات کے بعد ہونے والی اِس میٹنگ میں عمران خان چپ ضرور رہے مگر اُنہیں اپنے عالم چنے پر بہت غصہ آیا۔ جو لوگ اُن کی پرانی جاب سے متعلق جانتے ہیں، اُنہیں اچھی طرح علم ہے کہ سیٹھ نے اُنہیں تین منٹوں میں فارغ کیا تھا اور ساتھ ہی یہ کہہ دیا تھا کہ یہ کام تو میرا منشی بھی کر سکتا ہے، اِس کے لئے آپ کی کیا ضرورت ہے۔ اِس گفتگو کے بعد اُس شخص نے کمال مہارت سے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی۔ اُس نے عمران خان کے گرد باتوں کا حصار بنایا۔ اُس حصار کا عمران خان کو یہ نقصان ہوا کہ پی ٹی آئی کے کئی پڑھے لکھے اور معیشت کو سمجھنے والے عمران خان سے دور ہو گئے۔ اب عمران خان کے ہمدردوں کا خیال ہے کہ اُس سے چار پانچ ماہ پہلے ہی جان چھڑوا لینا چاہئے تھی مگر سمجھدار لوگ تو یہ کہتے ہیں کہ ایسے شخص کو وزیر خزانہ نہیں بنانا چاہئے تھا جسے معیشت کی الف ب کا بھی پتا نہیں تھا۔ اُن کی فراغت سے پہلے چار سوال بڑے اہم تھے۔

1۔اُنہوں نے عمران خان کے وژن کے خلاف پالیسیاں بنائیں، وزیراعظم عمران خان عوام کے لئے سہولیات چاہتے تھے مگر اُن کا وزیر خزانہ عوام کو مشکلات سے دوچار کرنے پر بضد تھا۔

2۔ایک طرف ملکی معیشت کی بربادی کا سفر جاری تھا تو دوسری طرف موصوف نے عالمی مالیاتی اداروں کے لوگوں کو ناراض کر رکھا تھا، وہ وہاں بھی ’’افلاطون‘‘ بننے کی کوشش کرتے تھے۔ اپنے ساتھی وزراء اور اراکین اسمبلی کے ساتھ بھی ان کا رویہ بہت اچھا نہیں تھا۔

3۔عمران خان کرپشن کے خلاف جہاد کرنا چاہتے ہیں جبکہ ان کے محبوب وزیر اسد عمر نے کرپشن کے دروازوں کو بند کرنے کی تمام کوششوں کو ناکام بنایا۔ اُنہوں نے ایف بی آر میں بھی ایسے لوگوں کو آگے کیا جو کرپشن کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ معیشت کے ایک ماہر نے جب اسد عمر کی توجہ اسٹیٹ بینک میں بیٹھے ہوئے دو تین کرپٹ افراد کی طرف مبذول کروائی تو اُنہوں نے کہا کہ ہم نے کام چلانا ہے، کیا کریں۔ اُنہوں نے ایسے افسران کو ہٹانے سے انکار کر دیا۔

4۔اسد عمر کی موجودگی میں معیشت ڈوب رہی تھی، بیرونی دنیا سے جن لوگوں نے مدد کروائی تھی اُن کی طرف شہباز شریف اشارہ کر چکے ہیں۔ اِس صورتحال میں اسد عمر بہت سے اداروں کو مطمئن کرنے میں بھی ناکام ثابت ہوئے۔

خزانہ کے نئے مشیر ڈاکٹر حفیظ شیخ معیشت کے میدان میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں، اندرونِ سندھ سے تعلق رکھنے والے دھیمے مزاج کے حفیظ شیخ صرف کام سے کام رکھیں گے، وہ کسی گروہ بندی کا شکار بھی نہیں ہوں گے، نہ وہ وزیراعظم کی ہر وقت خوشامد کریں گے اور نہ ہی باتوں کے سہارے سوشل میڈیا کا ہیرو بننے کی کوشش کریں گے۔ اطلاعات کی مشیر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان سیاسی خانوادے سے تعلق رکھتی ہیں، وہ خود زمانۂ طالب علمی سے سیاست میں ہیں، ملکی اور غیر ملکی حالات پر گہری نظر رکھتی ہیں۔ اُنہیں سیاسی و سماجی امور کے علاوہ میڈیا کے معاملات کی بھی خاصی سوجھ بوجھ ہے۔ سیالکوٹ کے نواحی گاؤں کوبے چک کی رہائشی اِس خاتون کا نام اُن کی حویلی میں بیٹھنے والے ایک ملنگ سائیں فردوس کے نام پر رکھا گیا تھا، دراصل اُس درویش سے ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے والد ملک عاشق اعوان عقیدت رکھتے تھے۔

اللہ کرے نئی تبدیلیاں عمران خان حکومت کے لئے سازگار ثابت ہوں۔ پاکستان میں احتساب کے نام پر کئی ادارے کام کر رہے ہیں، اُنہیں ایک نظر بیورو کریسی پر بھی کرنا چاہئے۔ پاکستان کے عوام تو ملک کی گلیوں میں جھاڑو پھیرتے ہیں جبکہ پاکستان کے خزانے اور اثاثوں پر پڑھے لکھے (کالے انگریز) جھاڑو پھرتے ہیں، اُسے روکنے کی ضرورت ہے۔ بقول غالب

ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن

خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں