آپ آف لائن ہیں
پیر10؍صفر المظفّر 1442ھ 28؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

یہ کالم لکھتے ہوئے اور اِس کے عنوان کا انتخاب کرتے وقت جو تکلیف محسوس ہوئی، میں اُس کو بیان نہیں کر سکتا، پہلے سوچا کہ حکمرانوں کو براہ راست مخاطب کر کے پوچھا جائے کہ قبلہ ایسی حکمرانی کرنے کا طریقہ کہاں سے سیکھا؟ پھر خیال آیا کہ یہ تخاطب بھی کسی حد تک انتہائی Rough ہوگا، بعد میں خیال آیا کہ یہ عنوان دوں کہ ’قبلہ حکمرانی کے اِس طریقہ کار پر کب نظرثانی کریں گے؟‘ بہرحال اِس مخمصے سے نکلنے کے لئے میں نے اوپر دیئے ہوئے مختصر عنوان پر اتفاق کر کے کالم لکھنا شروع کردیا ہے۔ ویسے بھی حکمرانوں، جو جمہوری طور پر منتخب ہو کر آنے کا دعویٰ کرتے ہیں، سے مخاطب ہوتے وقت صحافتی اخلاقیات کو ملحوظ خاطر رکھنا پڑتا ہے مگر وہ دوست جن سے اِس عنوان کے انتخاب پر میری مختصر بحث ہوئی، اُن کا موقف ہے کہ جمہوری حکمران ہونے کا دعویٰ کرنے والوں کے بیانات، الفاظ اور اقدامات جمہوری کہلوائے جا سکتے ہیں اور یہ کہ جب سے یہ اقتدار میں آئے ہیں، وہ پریس کانفرنسوں، اخباری بیانات اور ملک کے اندر اور بیرون ملک اجتماعات کا اہتمام کر کے جو خطبے دے رہے ہیں، کیا وہ سیاسی اخلاقیات کے دائرے میں آتے ہیں؟‘ جیسا کہ میں نے اپنے پچھلے کالم میں کہا تھا کہ میں قائداعظم کے انتقال سے لیکر موجودہ ’بے مثال‘ جمہوری حکمرانوں کے اقتدار میں آنے تک کے سارے اہم واقعات پر حقائق پیش کروں گا۔ اِس نقطہ نگاہ سے مجھے اِس آرڈر کے مطابق سب سے پہلے موجودہ حکمرانوں کا ذکر کرنا تھا، جن کو میں نے انتہائی معذرت سے ’کھلاڑی یا اناڑی حکمران‘ کہا تھا۔ حالات کا تقاضا ہے کہ ان ’قابلِ احترام‘ اناڑی حکمرانوں کا ذکر اُس وقت سب سے پہلے کیا جائے اور بعد میں ماضی کے حالات کا تفصیل سے ذکر کیا جائے۔ فی الحال میں اِس کالم میں ہمارے اُن ’مہربان‘ حکمرانوں کے حوالے سے فقط دو تین مسائل ہی کا ذکر کروں گا مگر سب سے پہلے یہ بات تسلیم کرنا پڑے گی کہ گزشتہ آٹھ برسوں سے پاکستان اور اس کے مختلف صوبوں میں جو سیاسی جماعتیں اور ’مہربان‘ قائدین قابض رہے ہیں، اُنہوں نے اِس ملک اور صوبوں کا جو حشر کیا ہے اُس کا ذکر کرتے وقت شرم اور حیا بھی دفن ہونے لگتی ہے، ان کے دور میں جمہوریت کا کیا حشر ہوا؟ کرپشن کے دائرے کو کتنا وسیع کیا گیا، عام لوگ تو عام لوگ مگر افسران، منتخب نمائندے کس طرح کرپشن اور نااہلی کی زنجیروں میں جکڑے گئے، اس کی مثال اس سے پہلے ملنا تو درکنار مگر شاید آئندہ بھی ان کالے کارناموں کی کوئی مثال نہ مل سکے لہذا اس میں کوئی شک نہیں کہ ان ’حکمرانوں‘ کے کرتوت انتہائی قابل مذمت ہیں اور اگر کوئی ان کو ان کالے کرتوتوں کی سزا دینا چاہتا ہے تو یہ بھی غلط نہیں مگر اس سلسلے میں طریقہ کار کونسا اختیار کرنا چاہئے؟ کیا اِن کرتوتوں کو عدالتوں کے حوالے کرنے پر ساری توجہ دینے کے بجائے اِن کرتوتوں کو فقط ان کے خلاف ایک غیر منطقی اور غیر معروضی پروپیگنڈا کے لئے استعمال کیا جائے؟، اِس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت میں آنے سے پہلے عالی جناب عمران خان اور اُس کی پارٹی کے دیگر قائدین کنٹینروں پر چڑھ کر تقریریں کرتے تھے، جن میں حقائق کم اور گالم گلوچ زیادہ ہوتی تھی۔ جواب میں پنجاب میں مخالف فریق سے بھی یہی گالم گلوچ کی زبان استعمال کی جاتی تھی، اِس طرح پاکستان میں سیاسی کلچر پہلی بار تباہ ہورہا تھا حالانکہ پہلے بھی مختلف سیاسی جماعتوں اور اتحادوں کی طرف سے حکومتوں کے خلاف کئی زوردار تحریکیں چلیں، جن میں انتہائی جوشیلی تقریریں کی جاتی تھیں مگر اِن تحریکوں میں کبھی بھی سیاسی اخلاقیات سے گر کر گالم گلوچ نہیں کی جاتی تھی۔ مگر جب سے موجودہ حکومت اقتدار میں آئی اُس کے وزیر گندی اور الزامات کی زبان استعمال کرتے رہے ہیں مگر اس سلسلے میں کمی تو خود ’قابل‘ وزیراعظم عمران خان نے بھی نہیں چھوڑی، عمران خان ملک کے سیاستدانوں پر ہر تقریر میں چور، ڈاکو کہتے ہیں حالانکہ یہ کام تو عدالتوں کا ہے کہ وہ چور، ڈاکو اور لوٹ مار کرنے والے کو سزا سنائیں، عمران خان نے ایک سے زائد بار اپنی تقاریر میں مختلف مخالف سیاستدانوں کے نام لیکر اعلان کیا کہ ’یہ دو ماہ میں جیل میں ہوں گے‘ وزیر اعظم، وفاقی اور صوبائی وزراء ایسے اعلانات کیسے کر سکتے ہیں، کیا ایسے اعلانات کرنا عدالت کے معاملات میں علی الاعلان مداخلت اور توہین نہیں؟ اِس قسم کے بیانات اور اعلانات فقط اپنے ملک میں کرتے تو بھی یہ بات کسی حد تک قابلِ برداشت کہی جا سکتی تھی مگر ہمارے ’کھلاڑی‘ وزیراعظم تو دوسرے ممالک کے دوروں کے وقت وہاں کے اعلیٰ معززین اور سول سوسائٹی کے اجتماعات میں بھی اپنے ملک کے سیاستدانوں کو چور، ڈاکو‘ کرپٹ کہتے رہے۔ ساتھ ہی وہاں کے بیوپاریوں اور بیوروکریٹس سے اپیل بھی کرتے رہے کہ وہ ان کے ملک سے تجارت کریں، اُنہوں نے کبھی سوچا کہ اِن الزامات کی روشنی میں وہ لوگ پاکستان سے تجارت کے لئے کیسے آگے بڑھیں گے‘ میں وزیراعظم سے خاص طور پر پوچھنا چاہوں گا کہ اُن کے اور اُن کی ٹیم کے نزدیک پارلیمنٹ اور آئین کی کیا اہمیت ہے؟ اگر وہ پاکستان کو ایک جمہوری اور آئینی ملک سمجھتے ہیں، اپنی پارٹی کو جمہوری آئین کے تحت منتخب پارٹی سمجھتے ہیں اور خود کو پاکستان کا جمہوری وزیراعظم تصور کرتے ہیں تو پھر اُن کے سامنے سب سے زیادہ اہمیت پارلیمنٹ کی ہونا چاہئے، اِس وقت عمران اور اُن کی پارٹی کو اقتدار میں آئے 8ماہ ہو گئے ہیں مگر اِس عرصہ میں وہ کسی ایک ایسے ایشو کی نشاندہی کریں جس پر تفصیل سے پارلیمنٹ میں بحث ہوئی ہو اور فیصلے کئے گئے، اِس بات کو بھی چھوڑیئے، اقتدار میں آتے ہی کھلاڑی وزیراعظم کئی ملکوں کے دوروں پر گئے جہاں سے اُن کو کئی ارب ڈالر کی ’امداد‘ ملی، کیا آج تک حکومت نے اُن ملکوں کی اِن نوازشات میں سے کسی ایک کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کیں کہ یہ قرضے ہیں یا امداد، یہ واپس کرنا ہو گی یا نہیں، اُن پر سود دینا ہوگا یا نہیں اور اگر سود دیا جائے گا تو کتنا ہوگا اور کتنے عرصے میں واپس کیا جائے گا؟

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)