آپ آف لائن ہیں
جمعرات10؍ربیع الثانی 1442ھ26؍نومبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کچھ بھی ہوجائے موقف نہیں بدلیں گے، بلاول


پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ خارجہ پالیسی پر بیان وزیر خارجہ اور انتہاپسندی سے متعلق بیان وزیر داخلہ کو دینا چاہیئے۔ وزیراعظم فوج سے پالیسی بیان دلوائیں گے تو ادارہ متنازع ہوگا۔

اُن کا کہنا ہے کہ نیب گردی سے ڈرنے والے نہیں، کچھ بھی ہوجائے جمہوریت، اٹھارہویں ترمیم اور میڈیا سنسر شپ پر اپنا موقف نہیں بدلیں گے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئےبلاول بھٹو نے کہا کہ نیب کو شرم نہیں آتی، ہمیں کیا گرفتاری سے ڈرا سکتے ہیں ، ہم شہید محترمہ کی جماعت سے ہیں ۔

چیرمین پی پی نے کہا کہ ہم جمہوریت پر اپنا موقف نہیں بدلیں گے ،میڈیا پر سینسر شپ قبول نہیں کریں گے۔

بلاول زرداری نے کہا کہ شرجیل میمن دو سال سے جیل میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ آپ کیا سمجھتے ہیں آپ شرجیل میمن پر دبائو ڈالیں گے اور انھیں ہمارے خلاف بیان دلوالیں گے۔

بلاول زرداری نے کہا کہ اب اگر کوئی گرفتار ہو تو وہ الزام ثابت ہونے کے بعد گرفتار ہو،دوغلی پالیسی نہیں ہونی چاہیے۔

چیرمین پی پی نے کہا کہ آپ سیاسی انتقام کیوں لے رہے ہیں ، ہم نہیں چاہتے کہ کوئی ادارہ متنازع ہوجائے ۔

انہوں نے کہا کہ اگر آپ کا تعلق لاہور سے ہے تو الزام ثابت ہونے کے بعد جیل میں ڈالا جاتا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حکومت کی معاشی پالیسی عوام دشمن ہے،حکومت نے اپنی نا اہلی مان لی ہے۔

چیرمین پی پی نے کہا کہ وزیر اعظم نے مان لیا کہ معاشی پالسی ملک کے مفاد میں نہیں ۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم خوشی مناتے ہیں کہ فلاں سے چندہ ملا ،ہم کیوں خوشی منائیں بھائی ؟

بلاول زرداری نے کہا کہ وزیر اعظم کو شرم نہیں آئی کہ عوام سے معافی ہی مانگ لیتے ، اگر آپ کھانے پینے کی اشیا کو مہنگا کریں گے تو ہم کیسے برداشت کریں گے۔

چیرمین پی پی نے کہا کہ یہ امیروں کے لیے ایمنسٹی اسکیم کی جگہ بنارہے ہیں لیکن غریبوں کو بچانے کے لیے آپ کیا دے رہے ہیں ؟۔

انہوں نے کہا کہاگر آپ کو کسی پر بوجھ ڈالنا ہے تو امیروں اور جہانگیر ترینوں پر ڈالیں ،ہم کب تک ان کے ظلم برداشت کریں گے؟۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آج تک جو نیا مشیر خزانہ آیا ہے وہ سامنے ہی نہیں آرہا ،مشیر خزانہ نے معاشی پالیسی پر اب تک کچھ نہیں بتایا ۔

چیر مین پی پی نے کہا کہ آئی ایم ایف کی ڈیل کو پارلیمنٹ میں لانا پڑے گا ،،ورنہ ہم اور عوام یہ پالیسی نہیں مانیں گے۔

انہوں نے کہا کہ مطالبہ کرتا ہوں کہ حکومت اپنی معاشی پالیسی پر نظر ثانی کرے۔

بلاول زرداری نے کہا کہ خان صاحب کہاں ہیں آپ کی ایک کروڑ نوکریاں ، ہر سیکٹر میں بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔

چیرمین پی پی نے کہا کہ اگر آپ تاجروں اور سرمایہ کاروں کو تنگ کرو گے تو وہ کام کیسے کریں گے،حکومت ہوش کے ناخن لے،عوام کی جیب میں کچھ نہیں ۔

انہوں نے کہا کہ نیب کا کالا قانون اور معیشت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتی۔

بلاول زرداری نے کہا کہ جہانگیر ترین کے بے نامی اکاونٹس ہیں وہ پاک ہیں اور دیگر کے بے نامی اکاونٹس ناپاک ہیں ۔

چیرمین پی پی نے کہا کہ ہم نے احتساب کرنا ہے،اگر احتساب شفاف ہوگا اور کرپٹ افراد کے خلاف ہوگا تو بہتر ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اسد منیر جیسا شخص خودکشی کرلے، جہاں قانون سب کے لیے ایک نہ ہو تو پھر ایسا ہی ہوگا ۔

قومی خبریں سے مزید