آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ19؍ ذوالحجہ 1440ھ 21؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کیا کبھی آپ نے اس بارے میں سوچا کہ کسی جنگل کے تمام درخت کاٹ دیےجائیں یا کسی دریا میں کیمیکلز شامل ہوجائیں یا پھر بارشوں یا برف باری میں بلا کی شدت آجائے؟ اس قسم کی صورتحال اور موضوعات کا مطالعہ ماحولیاتی یا انوائرمینٹل سائنس میں کیا جاتاہے۔ ماحولیاتی سائنس، سائنس کا ایک کثیرالجہتی شعبہ ہے، جس کا تعلق بائیولوجیکل، فزیکل ،سوشل اور کیمیکل دائرہ کار سے ہوتاہے۔

بین الاقوامی سطح پر ہم بہت سے مسائل کا شکار ہیں جیسے کہ گلوبل وارمنگ، تیزی سے کم ہوتے قدرتی وسائل، فضائی آلودگی یا گرین ہائوس گیسز کا اخراج، ماحولیاتی تبدیلی (خاص طور پر درجہ حرارت کی تبدیلی اور بے ترتیب بارشوں کے نتیجے میں سطح سمندر میں تغیر اور بلند ہونے سے ساحلی علاقو ں کیلئے خطرہ وغیرہ)، وسیع پیمانے پر جنگلات کی کٹائی اوراس کے اثرات، جانوروں اور نباتات کی انواع و اقسام کی معدومیت، آبی آلودگی اور اوزون تہہ کا خاتمہ۔ یہ صورتحال یونیورسٹیوں میں ماحولیاتی سائنس کے مزید شعبے قائم کرنے کا تقاضا کرتی ہے۔

پاکستان کی بات کی جائےتو بڑھتی ہوئی آبادی، صنعتی عمل کی وجہ سے فاسد مادوں کی پیداوار، انواع کی معدومیت ، آبپاشی اور پینے کے پانی کی قلت اور جنگلات کی کم شرح کی وجہ سے ملک کو انتہائی گمبھیر خطرات اور قدرتی آفات کے خدشات لاحق ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں بھی ماحولیاتی سائنس پالیسیوں اور انتظامی شعبو ں کیلئے اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارتوں کے حامل اسکالرز اور سائنسدان تیار کیے جائیں ۔ یہی وجہ ہے کہ جامعات میں ماحولیاتی سائنس کے شعبہ جا ت قائم ہو رہے ہیں تاکہ حیاتی اور غیر حیاتی، ماحولیاتی یا زمینی عوامل اور ماحولیاتی نظام کے بارے میں آگاہی کو فروغ دیا جائے۔

ماحولیاتی سائنس کو بین الکلیاتی فیلڈ بھی کہا جاتا ہے یعنی مختلف کلیات جیسے کہ کیمسٹری ، بائیولوجی اور جیالوجی کی معلومات و خیالات اس اسٹڈی میں شامل کیے جاتے ہیں۔ لوگ جب بھی ماحولیاتی سائنس کے بارے میں سوچتے ہیں تو ان کے ذہن میںوہی عوامل آتے ہیں، جن کا ذکر درج بالا پیراگراف میں کیا گیاہے۔ اس مضمون میں سائنسی مضامین کے ساتھ ساتھ سوشل سائنس اور سماجیات کی فیلڈز بھی شامل ہوجاتی ہیں، جو اسے اور بھی پیچیدہ بنادیتاہے۔

سوشل سائنسز کی وہ فیلڈز جو ماحولیاتی سائنس میں شامل ہوتی ہیں ان میں جغرافیہ، معاشیات اور پولیٹیکل سائنس اہم ہیں جبکہ فلسفہ اور اخلاقیات دو ایسی فیلڈز ہیں جو کہ سماجیات میں آتی ہیں اور ماحولیاتی سائنس میں بھی شامل ہوتی ہیں ، یعنی ماحولیاتی سائنس دراصل نیچرل سائنس، سوشل سائنس اور سماجیات کا امتزاج ہے اور یہ بڑے پیمانے پر تصورات، مسائل اور موضوعات کا احاطہ کرسکتی ہے۔

موجودہ دور میں اہمیت

اس وقت دنیا تبدیلی کے مراحل سے بہت تیزی سے گزر رہی ہے۔ کچھ تبدیلیاں تو فائدہ مند ہیں لیکن زیادہ تر کرۂ ارض کیلئے تباہی کی حد تک نقصان دہ ہیں۔ ماحولیاتی سائنس کی فیلڈ ان تبدیلیوں اور دنیا پر ان کے اثرات کو سمجھنے کا ایک قابل قدر ذریعہ ہے جو کافی معاون و مددگار ہوسکتی ہے۔

ماحولیاتی سائنس کی اہمیت کو سمجھنے کیلئے ہم آبادی کے پھیلائو کو بطور مثال لے سکتے ہیں، جوا س وقت دنیا اور کئی ترقی پذیر ممالک کا گمبھیر مسئلہ ہے۔ تاریخ پر نظر ڈالیں تو کسی وقت دنیا کی آبادی دس لاکھ تھی جبکہ حالیہ عرصہ میں دنیا بھر میں انسانوں کی تعداد 7ارب سے زائد ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ دنیا کی آبادی میں اس وقت 7ہزارفیصد افراد کا اضافہ ہو چکاہے۔ آبادی بڑھنے سے قدرتی ذرائع اور ایکو سسٹم پر دبائو بڑھ چکاہے اور اس پر ہماری زندگیوں کا دارومدارہے۔ قدرتی ذرائع میں توانائی اور اشیاءخورد و نوش کی ورائٹی شامل ہوتی ہے، جسے ہم ماحول سے حاصل کرکے استعمال کرتے ہیں۔ قدرتی ذرائع کو ہم قابل تجدید اورناقابل تجدید میں تقسیم کرسکتے ہیں۔ قابل تجدید ذرائع کو ہم باربار استعمال کرسکتےہیں جیسے کہ شمسی توانائی، ونڈ ملز، زمین اور جنگلات وغیرہ، جبکہ ناقابل تجدید ذرائع کی مدت کم ہوتی ہے اور یہ وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہوجاتی ہیں، جیسے کہ معدنیات اورخام تیل۔

ماحولیاتی سائنسدانوں کیلئے اسکوپ

اس وقت دنیا ماحولیاتی تبدیلیوں اور ان کی وجہ سے لاحق ہونے والے خطرات سے نمٹنے کیلئے سر جوڑ کر بیٹھی ہے، حتیٰ کہ سربراہان مملکت بھی اس حوالے سے اعلیٰ سطح کے اجلاس منعقد کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ بھی ہوا کہ اس وقت ماحولیاتی سائنسدانوں کی اشد ضرورت ہے۔ ایک مختلف پیشہ ہونے کی وجہ سے اس کی مانگ بھی ہے۔ خطیر معاوضے کے ساتھ ساتھ عزت واحترام اور دنیا بھر کا سفر کرنے کا موقع بھی ملتا ہے ۔ انوائرمینٹل سائنس میں ڈگری نہ صرف آپ کے مستقبل کومحفوظ بنائے گی بلکہ دنیا بچانے کی کاوشوں میں بھی آپ کی ممد و معاون ثابت ہوگی۔ 

تعلیم سے مزید