آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل19؍ذیقعد 1440ھ 23؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سپریم کورٹ آف پاکستان میں گواہان کا بیان اور جرح کرنے سے متعلق گلوکارہ و اداکارہ میشا شفیع کی درخواست پر سماعت ہوئی، جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔

عدالت عظمیٰ نے گلوکار و اداکار علی ظفر کے وکیل کو ایک ہفتے میں گواہوں کے بیان حلفی جمع کرانے کا حکم دیا۔

میشا شفیع کے وکیل نے گواہوں پر جرح کرنے کے لیے ایک ہفتے کا وقت مانگ لیا اور کہا کہ اگر اگلی سماعت پر جرح کے لیے تیاری نہ کر سکا تو ایک ہفتے کا وقت دیا جائے۔

عدالت نے 9 گواہوں کے بیانات اور جرح ایک ساتھ کرنے کی اجازت دے دی۔

سپریم کورٹ نے میشا شفیع اور علی ظفر کو غیر ضروری درخواستیں دائر کرنے سے روک دیا۔

عدالت نے حکم دیا کہ تیاری کے بعد ایک ہی روز گواہان پر جرح مکمل کرنے کی کوشش کی جائے، میشا شفیع کے وکیل گواہوں پر جرح کی تیاری 7 روز میں مکمل کریں۔

عدالت عظمیٰ نے علی ظفر کے وکیل کو 7 دن میں گواہوں کے بیان حلفی جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ٹرائل کورٹ غیر ضروری التواء نہ دیتے ہوئے ٹرائل جلد مکمل کرے۔

میشا شفیع کےوکیل نے کہاکہ میشا شفیع علی ظفر کے تمام گواہوں کو نہیں جانتیں، گواہان علی ظفر کے ملازمین ہیں۔

علی ظفر کے وکیل سبطین ہاشمی نے کہا کہ کوئی گواہ علی ظفر کا ملازم نہیں۔

جسٹس فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ علی ظفر کا میشاء شفیع کی درخواست پر بنیادی اعتراض کیا ہے؟

علی ظفر وکیل نے کہا کہ قانون کے مطابق گواہ کا بیان اور جرح ایک ہی دن ہوتی ہے۔

جسٹس فائز عیسیٰنے کہا کہ بیان اور جرح ایک دن ہونے کا اختیار عدالت کا ہے۔

میشاء شفیع کے وکیل نے کہا کہ گواہوں کی لسٹ مل جائے تو ایک دن میں جرح کر لیں گے۔

عدالت نے حکم دیا کہ ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق مقررہ وقت میں ٹرائل مکمل کیا جائے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں