امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کو بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کی دعوت واپس لے لی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ بورڈ آف پیس دنیا کے بااثر ترین رہنماؤں کا فورم ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا کہ کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی کا بورڈ میں مزید خیرمقدم نہیں کیا جائے گا۔
اپنی پوسٹ میں امریکی صدر نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کینیڈا کے وزیراعظم کو دی گئی دعوت کیوں واپس لے رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی سوشل میڈیا پوسٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وزیراعظم مارک کارنی نے بورڈ آف پیس پر تشویش کا اظہار کیا۔
کینیڈین وزیراعظم نے ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب میں امریکی صدر ٹرمپ کے اس بیان کی تردید کی تھی جس میں صدر نے کہا تھا کہ ’کینیڈا امریکا کی وجہ سے زندہ ہے۔‘
مارک کارنی نے کہا تھا کہ کینیڈا امریکا کہ وجہ سے زندہ نہیں بلکہ کینیڈا اس لیے ترقی کرتا ہے کیونکہ ہم کینیڈین ہیں۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر کی جانب سے واپس لیے گئے دعوت نامے نے ٹرمپ اور کارنی کے درمیان تعلقات مزید خراب کردیے ہیں۔
وزیراعظم مارک کارنی ڈنمارک سے گرین لینڈ کا کنٹرول لینے کی صدر ٹرمپ کی کوشش کی مخالفت کرتے ہیں اور نیٹو کے دیگر اتحادیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان پر کینیڈین وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔