امریکی ای کامرس کمپنی ایمازون آئندہ ہفتے نئی چھانٹیاں کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جس کے تحت تقریباً 14 ہزار کارپوریٹ ملازمین کو نوکریوں سے فارغ کیے جانے کا امکان ہے۔ یہ چھانٹیاں اُن 30 ہزار ملازمتوں میں شامل ہیں جنہیں ختم کرنے کا ہدف کمپنی نے مقرر کر رکھا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ عمل آئندہ ہفتے منگل سے شروع ہو سکتا ہے۔ اس سے قبل گزشتہ سال اکتوبر میں ایمازون نے تقریباً 14 ہزار وائٹ کالر ملازمین کو فارغ کیا تھا۔
دوسری جانب ایمازون کمپنی کے ترجمان نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔
متاثرہ شعبوں میں ایمازون ویب سروسز (AWS)، ریٹیل، پرائم ویڈیو اور ہیومن ریسَورسز شامل ہو سکتے ہیں تاہم حتمی تفصیلات میں تبدیلی کا امکان موجود ہے۔
ایمازون کمپنی نے پہلے ان چھانٹیوں کو مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے استعمال سے جوڑا تھا تاہم ایمازون کمپنی کے سی ای او اینڈی جیسی کے مطابق اصل وجہ کمپنی میں بڑھتی ہوئی بیوروکریسی اور اضافی انتظامی سطحیں ہیں۔
ایمازون کے کل ملازمین کی تعداد تقریباً 15 لاکھ 80 ہزار ہے جن میں اکثریت گوداموں اور فُل فِلمنٹ سینٹرز میں کام کرتی ہے۔ 30 ہزار ملازمتوں کا خاتمہ کمپنی کی کارپوریٹ ورک فورس کا تقریباً 10 فیصد بنتا ہے۔
واضح رہے کہ آئندہ ہفتے کمپنی سے ملازمین کو فارغ کیے جانے کا مرحلہ ایمازون کی 30 سالہ تاریخ میں سب سے بڑی چھانٹی ہوگی۔ اس سے قبل 2022ء میں کمپنی نے 27 ہزار ملازمتیں ختم کی تھیں۔
گزشتہ سال اکتوبر میں فارغ کیے گئے ملازمین کو 90 دن تک تنخواہ پر رکھا گیا تھا جس کی مدت پیر کو ختم ہو رہی ہے۔