جمہوریہ چیک کے وزیرِ اعظم آندرے چبابِش گرین لینڈ کی تلاش کے لیے مہنگا گلوب خرید کر گھر لے آئے۔ اس حوالے سے جب انہوں نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا تو مذاق بن گئے۔
حالیہ دنوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈنمارک کے خودمختار خطے گرین لینڈ پر قبضے کی دھمکی دی ہے اس وقت سے یہ خطہ عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
ٹرمپ کے اس مؤقف نے نیٹو میں بھی ہلچل مچا دی، جبکہ خود کو ٹرمپ نواز قرار دینے والے آندرے چبابِش کے لیے یہ معاملہ مزید مشکل بن گیا۔
آندرے چبابِش نے سیکڑوں ڈالر مالیت کا ایک گلوب خرید کر اس کی تفصیل سوشل میڈیا پر شیئر کی، جس کے بعد انٹرنیٹ پر طنز و مزاح کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔
منگل کے روز آندرے چبابِش نے فیس بک پر جاری ایک ویڈیو میں مزید کہا کہ روایتی نقشے جغرافیائی حقائق کو مسخ کر کے پیش کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا اس خوبصورت گلوب پر آپ گرین لینڈ کا حقیقی حجم امریکا اور یورپ کے مقابلے میں واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں۔
مذکورہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو ایک صارف نے فرضی خبر کی میم شیئر کی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ فراڈیوں نے ایک سادہ لوح پنشنر کو مہنگا گلوب فروخت کر دیا۔
آندرے چبابِش کی جانب سے 2022 میں روسی جارحیت کا سامنا کرنے والے یوکرین کو فوجی امداد دینے سے انکار کے تناظر میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیزیلزی نامی صارف نے طنز کرتے ہوئے لکھا کہ آندرے چبابِش کو یوکرین بھی دیکھ لینا چاہیے تاکہ وہ یہ جان سکیں کہ جنگ کتنی قریب ہے۔
71 سالہ صنعتکار آندرے چبابِش ایک تین جماعتی اتحادی حکومت کی قیادت کر رہے ہیں، جس میں یوروسیپک اور انتہائی دائیں بازو کی جماعتیں شامل ہیں۔ دسمبر میں عہدہ سنبھالنے کے بعد سے وہ خارجہ پالیسی کی باگ ڈور خود سنبھالنے پر زور دیتے رہے ہیں، تاہم اس معاملے میں وہ دنیا کے سب سے بڑے جزیرے سے متعلق بیان پر تنقید کی زد میں آ گئے۔
پیر کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اندرے چبابِش نے کہا کہ میں نے یہ خوبصورت اور بڑا گلوب 15 ہزار کرونا (720 ڈالر) میں خریدا ہے تاکہ میں ٹھیک سے دیکھ سکوں کہ یہ گرین لینڈ آخر کہاں واقع ہے۔
واضح رہے کہ عام گلوبز کی قیمت عموماً 1 ہزار کرونا تک ہوتی ہے۔