آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات16؍شوال المکرم 1440ھ 20؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ملک میں کوئی قانون ہے یا نہیں، اختیارات کے  غلط استعمال اور کوتاہی میں فرق ہے، سپریم کورٹ

اسلام آباد (این این آئی، مانیٹرنگ سیل) چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ اختیارات کے غلط استعمال اور کوتاہی میں فرق ہے، ہر غلط کام جرم نہیں،ہر سرکاری افسر کو ساری گڑبڑ کا معلوم ہوتا ہے، نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کا کاروبار متعلقہ افسران کی مرضی کے بغیر نہیں ہو سکتا، نان کسٹمز گاڑیاں آپریشن کے دوران بھی پرچی پر آئیں، ایک اور کیس میںعدالت عظمی نے ریمارکس دیئے کہ ملک میں قانون نام کی کوئی چیز ہے یا نہیں،کیسے حالات آگئے ہیں، خاتون کے گھر میں گھس کر توڑ پھوڑ کی گئی۔ تفصیلات کے مطابق بدھ کو چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے جعلی دستاویزات کی بنیاد پر نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی رجسٹریشن سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ نیب کے وکیل نے بتایا کہ ملزم نے جعلی دستاویزات کی بنیاد پر 5 گاڑیاں رجسٹرڈ کیں۔ عدالت نے سماعت کے بعد سابق ای ٹی او الفت نسیم کی سزا کے خلاف اپیل مسترد کرتے ہوئے ملزم کو چار سال قید اور 30 ہزار روپے جرمانے کا فیصلہ برقرار رکھا، تاہم سرکاری

خزانے کو نقصان پہنچانے کی مد میں ملزم کو 20 لاکھ کا جرمانہ ختم کردیا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں