آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل21؍شوال المکرم 1440ھ 25؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کوئٹہ کے نواحی علاقےپشتون آباد کی مسجد میں دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں تین افراد شہید جبکہ  متعددزخمی ہو گئے۔


ذرائع کے مطابق پشتون آباد میں واقع رحمانیہ مسجد میں دھماکا نماز جمعہ کی ادائیگی سے کچھ دیر قبل ہوا جس وقت نمازی  وضو کر رہے تھے،مسجد نمازیوں سےبھری ہوئی تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے میں15افراد زخمی ہوئے جن میں سے دو کی حالت نازک ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکے سے قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے  جس سے علاقہ مکینوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ۔

ذرائع کے مطابق سیکورٹی فورسز اور ریسکیو ٹیمیں بھاری تعداد میں جائے وقوعہ پرپہنچے۔ دھماکے سے متاثر ہونے والے نمازیوں کو اسپتال منتقل کیا ۔

کوئٹہ کے سول اسپتال میں اب تک پانچ زخمی منتقل کیے جاچکے ہیں جبکہ کئی زخمیوں کو قریبی نجی اسپتال بھی منتقل کیا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔

دھماکے میں ہلاکتوں کا بھی اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

سیکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو حصار میں لے کر واقعے کی تفتیش شروع کردی ہے۔

وزیرداخلہ بلوچستان ضیاء اللہ لانگو نے واقعے پر نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ہدایت جاری کی ہے کہ زخمیوں کے طبی امداد اور علاج میں کسی قسم کی کمی نہیں آنی چاہیے۔

وزیرداخلہ بلوچستان کا کہنا ہے کہع عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے والےدہشت گرد انسان کہلانے کے لائق نہیں،انہوں نے عبادت گاہوں اور دیگر عوامی مقامات کی سیکیورٹی مزید سخت کرنے کی ہدایت کر دی۔

وفاقی وزیر داخلہ اعجاز احمد شاہ نے کہا ہے کہ دہشت گرد اوران کے سہولت کاروں کو نشان عبرت بنائیں گے،گھناؤنی سازش کےتحت بلوچستان،ملک میں امن کی صورتحال خراب کرنیکی کوشش کی جارہی ہے۔

ادھرمسلم لیگ ن کےصدر،قائدحزب اختلاف شہبازشریف نے دھماکےکی شدیدمذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ رمضان المبارک میں جمعہ کےدوران اللہ کےگھر میں خون ریزی کرنیوالےمسلمان نہیں ہوسکتے۔

انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے واقعات میں مسلسل اضافہ انتہائی تشویشناک ہے،دہشت گردی کا عفریت ایک مرتبہ پھر سر اٹھا رہا ہے ،نیشنل ایکشن پلان پر حکومتی سستی،لاپرواہی مجرمانہ غفلت کی انتہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت معاملے کو سنجیدہ لیتے ہوئے فی الفور پارلیمان کو اعتماد میں لے۔


Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں