• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

الحمدللہ 28مئی 1998کے بعد یہ امید بار آور ہو چکی تھی کہ پاکستان تیزی سے ابھرتا ہوا، ایک معاشی قوت کے طور پر بھی اپنے آپ کو منوا لے گا۔ اغیاروں کو پاکستان کا جوہری قوت ہونا پسند نہ آیا اور پاکستان پر مختلف معاشی پابندیاں عائد کردی گئیں، ساتھ ہی ساتھ ہر اس شخص کو نشانِ عبرت بنانے کی ٹھان لی گئی جس نے اس جوہری پروگرام کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو، ڈاکٹر عبدالقدیر اور پھر نوازشریف۔

پوری دنیا میں اپنے سائنسدانوں، اپنے معماروں، قومی لیڈروں کو عزت و وقار دیا جاتا ہے لیکن بدقسمتی سے ایک آمر کے ہاتھوں ڈاکٹر قدیر کو رسوا کیا گیا، میاں محمد نواز شریف کو خاندان سمیت جبری جلا وطن کیا گیا اور مستقبل کے سائنسدانوں، سیاستدانوں اور معماروں کو یہ پیغام دیا گیا کہ ملک سے بے لوث محبت اور قوم کی خدمت کرنے والوں کا انجام عبرتناک ہوتا ہے۔

ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کے اس شعر ’’تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر‘‘ کی تشریح کچھ اسطرح ہے کہ 28مئی 1998کو 6ایٹمی دھماکے کر کے مسلمانوں میں آج ایمان کی وہ حرارت باقی ہے۔ جوہری توانائی اور جوہری طاقت کا سفر جاری رکھنا کوئی آسان کام نہ تھا، بالخصوص ایک ایسے ماحول میں جب ہمارا پڑوسی ملک چند سال قبل ایک سازش کے ذریعے وطنِ عزیز کو دو لخت کر چکا تھا اور اسکے چند سال بعد ایٹمی دھماکہ کرکے یہ باور کرانے کی کوشش کر چکا تھا کہ وہ خطے کی واحد قوت ہے اور جو چاہے کر سکتا ہے۔ دوسری طرف پاکستان کی سیاسی قیادت اس بات کا مکمل ادراک رکھتی تھی کہ ہمیں بھارت کے مقابلے میں اپنی دفاعی صلاحیت کو مضبوط اور مؤثر کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ دنیا کے سات برِاعظموں میں سات ہی ایسے ممالک ہیں جو جوہری (ایٹمی) صلاحیت اور قوت رکھتے ہیں۔ درحقیقت پاکستان کے جوہری منصوبے نے پوری قوم کو ایک لڑی میں پرو دیا تھا۔ سن 1947ءکے بعد یہ ایسا موقع تھا کہ پوری قوم بیک آواز اس وقت کے وزیر اعظم میاں نواز شریف کے فیصلوں کی منتظر تھی کہ وہ کب پاکستان کو جوہری قوت بنانے کا اعلان کرتے ہیں اور کب پاکستان کے سائنسی اور معاشی سفر کا آغاز ہوا چاہتا ہے۔ وہ سفر جو وقار کی علامت ہو، وہ سفر جو شعور اور آگاہی کی علامت ہو، وہ سفر جو معاشی، اقتصادی اور صنعتی ترقی کی جانب ہو، وہ سفر کہ جس میں پاکستان اپنے فیصلے کرنے میں خودمختار ہو، وہ سفر کہ جس میں پاکستان پر سیاسی، معاشی اور اقتصادی دباؤ نہ ہو، وہ سفر جس میں پاکستان پر کسی بیرونی قوت کا دباؤ نہ ہو، وہ سفر کہ جس میں بیماری، بھوک اور افلاس کو پوری قوم مل کر شکست فاش دے، وہ سفر کہ جس میں پاکستان علاقائی اور ملی کردار ادا کرے، وہ سفر جس کو قائداعظم محمد علی جناح اور علامہ محمد اقبال نے ہمارے لئے متعین کیا۔

پاکستان کے جوہری منصوبے کی کامیابی کا قصہ تسلسل کا ایک سلسلہ ہے۔ ایک سیاسی قیادت دوسری سیاسی قیادت میں منتقل ہوتی رہی۔ اغیار اس منصوبے کو پایۂ تکمیل تک پہنچتے نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔ دوسری جانب پوری پاکستانی قوم نے اس منصوبے کی حفاظت کی اور سیاسی قیادت نے اس منصوبے کو ایک قومی راز کے طور پر اپنے سینے میں رکھا جب تک کے ایٹمی دھماکے نہ ہوئے۔ آج جب پاکستان کےذہین طلبہ اور نوجوان یہ دیکھتے ہیں کہ پاکستان کو جوہری اور معاشی قوت بنانے والے کردار یا تو رسوا کردیئے گئے یا پابندِ سلاسل ہیں تو نوجوان قومی مفاد کو پس پشت ڈال کر بیرون ملک پناہ لینے اور خدمت کرنے کو پسند کرتے ہیں جو کہ ایک قومی المیہ ہے۔ ہماری جوہری کامیابی کو اغیار کے گماشتوں نے پارہ پارہ کرنا چاہا مگر سچے محبِ وطن پاکستانیوں نے اپنے جان مال، بیوی بچوں کی پروا کئے بغیر ملک کی خدمت کی اور پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کو اپنا مشن بنا رکھا ہے۔ جوہری ترقی کے بعد ایک بار پھر پاکستان نے میاں نواز شریف کے دور میں ترقی کا سفر شروع کردیا۔ سی پیک منصوبہ جو کہ 62ارب ڈالر کے ساتھ اس خطے کا سب سے بڑا معاشی منصوبہ ہے اپنی تکمیل کے مراحل طے کررہا تھا مگر ایک بار پھر منصوبہ ساز میاں نواز شریف جو کہ پاکستان کو دفاعی اور اقتصادی میدان میں مضبوط کرنے کی پاداش میں اپنی دختر محترمہ مریم نواز کے ساتھ نہ صرف عدالتوں کی پیشیاں بھگتے رہے، اڈیالہ سے کوٹ لکھپت جیل کا سفر ابھی تک جاری ہے، پاکستان سے محبت کرنے کی بمعہ سود قیمت ادا کررہے ہیں اور پاکستانیوں کو واضح پیغام دے رہے ہیں کہ حالات چاہے کچھ بھی ہوں وطن سے ٹوٹ کر پیار کرنا ہی زندگی کا مقصد ہے اور یہی پیغام ہے 28مئی 1998کے کامیاب ایٹمی دھماکوں کا۔

تازہ ترین