آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر18؍ذیقعد 1440ھ22؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حکومت نے آئی ایم ایف قرضے کی شرائط کے تحت آئندہ بجٹ میں ایکسپورٹس کے 5سیکٹرز ٹیکسٹائل، لیدر، کارپٹ، اسپورٹس اور سرجیکل گڈز سے زیرو ریٹنگ کی مراعات ختم کرنے کا اعلان کیا ہے، جس سے ملکی ایکسپورٹس پر نہایت منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ پاکستان کی مجموعی 25ارب ڈالر ایکسپورٹس میں سے 13ارب ڈالر ٹیکسٹائل سیکٹر کی ہیں جو 55فیصد سے زائد ہے۔ ٹیکسٹائل سیکٹر مینوفیکچرنگ میں 38فیصد ملازمتیں فراہم کرتا ہے اور جی ڈی پی گروتھ میں اس کا حصہ 8سے 9فیصد ہے۔ پاکستان دنیا میں کاٹن پیدا کرنے والا چوتھا بڑا ملک ہے لیکن ہمارا ٹیکسٹائل سیکٹر اصلاحات نہ کئے جانے کی وجہ سے فروغ نہ پاسکا۔ ہماری کاٹن کی پیداوار 13ملین بیلز سالانہ سے آگے نہیں بڑھ سکی جبکہ انڈیا نے بی ٹی کاٹن کے استعمال سے گزشتہ چند سالوں میں اپنی کاٹن کی پیداوار 18ملین بیلز سے بڑھا کر 36ملین بیلز کرلی ہے اور آج پاکستان انڈیا سے کاٹن امپورٹ کررہا ہے۔ وزیراعظم کے مشیر برائے ٹیکسٹائل کی حیثیت سے ٹیکسٹائل ایکسپورٹ بڑھانے کیلئے پاکستان کی پہلی ٹیکسٹائل پالیسی 2009-14میں کئی اصلاحات اور مراعات کا اعلان کیا گیا تھا لیکن 5سالہ پالیسی میں صرف پہلے دو سال وزارت خزانہ نے اصلاحات کیلئے فنڈز جاری کئے جس کی وجہ سے ٹیکسٹائل پالیسی سے مطلوبہ نتائج حاصل نہ کئے جاسکے۔ ہماری ٹیکسٹائل ایکسپورٹس گزشتہ کئی سالوں سے 13بلین ڈالر سے زیادہ نہیں بڑھ سکیں جبکہ بنگلا دیش جو کاٹن یارن اور فیبرک دوسرے ممالک سے امپورٹ کرتا ہے، کی ٹیکسٹائل ایکسپورٹس ہم سے 3گنا زیادہ ہو چکی ہے جس کی وجہ ہماری پیداواری لاگت میں اضافہ اور ٹیکسٹائل مصنوعات کا عالمی منڈی میں غیر مقابلاتی ہونا ہے۔ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے، بینکوں کے قرضوں کی شرح سود اور سیلز ٹیکس کی زیرو ریٹڈ مراعات ختم کرنے سے ہماری پیداواری لاگت میں مزید اضافہ ہوگا۔

آئی ایم ایف سے قرضے کی شرائط کے تحت حکومت ٹیکسٹائل سیکٹر سے بجلی اور گیس کے نرخوں میں دی گئی مراعات واپس لے رہی ہے جس کے نتیجے میں بجلی گیس کی قیمتیں بڑھیں گی۔ اس کے علاوہ بجٹ میں ٹیکسٹائل سمیت 5ایکسپورٹ سیکٹرز سے سیلز ٹیکس کی زیرو ریٹنگ مراعات ختم کرنے سے اس سیکٹر کی ایکسپورٹ مزید کم ہوں گی۔

میں نے صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی اور وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت و ٹیکسٹائل عبدالرزاق دائود کو کراچی میں اپنی حالیہ ملاقات میں واضح کیا تھا کہ زیرو ریٹنگ مراعات ختم کرنے سے ملکی ایکسپورٹس پر نہایت منفی اثرات مرتب ہوں گے کیونکہ حکومت سیلز ٹیکس وصول کرکے ایکسپورٹرز کو ریفنڈ کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے اور اس وقت بھی ایکسپورٹرز کے گزشتہ کئی سالوں کے 400ارب روپے سے زائد ریفنڈز ایف بی آر نے ادا نہیں کئے جس سے ایکسپوٹرز کی مالی حالت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق اسٹیٹ بینک کے پالیسی ریٹ 12.25فیصد کرنے سے بینکوں کے قرضوں کی شرح سود 15فیصد سے زائد ہوگئی ہے جو ایکسپورٹرز پر ناقابل برداشت اضافی مالی لاگت ڈال رہی ہے۔ یہ سب عوامل پیداواری لاگت میں مزید اضافے کا سبب بنیں گے جس سے ہماری ایکسپورٹس مزید گریں گی۔ یہ بات تشویشناک ہے کہ گزشتہ ایک سال میں35فیصد اور موجودہ حکومت کے 9ماہ میں 20فیصد روپے کی قدر میں کمی کرنے کے باوجود ہماری ایکسپورٹس بڑھنے کے بجائے کم ہوئی ہیں۔

حکومت نے آئی ایم ایف سے اتفاق کیا ہے کہ وہ آئندہ بجٹ میں ٹیکسوں کے ذریعے 5550ارب روپے وصول کرے گی۔ اس سے پہلے یہ ہدف 4150ارب روپے تھا۔ اس مقصد کیلئے حکومت کو35فیصد اضافی ٹیکس جمع کرنا پڑے گا جو موجودہ معاشی صورتحال میں ممکن نہیں۔ ہمارا ٹیکسٹائل کا شعبہ 23سے 24ارب ڈالر مالیت کا ہے جس میں 12سے 13ارب ڈالر کی ایکسپورٹس ہیں جبکہ 8سے 10ارب ڈالر ٹیکسٹائل کی مقامی مارکیٹ ہے۔ اس طرح پورا ٹیکسٹائل سیکٹر 3.5کھرب روپے کا ہے۔ ٹیکسٹائل سیکٹر کا کہنا ہے کہ کاٹن سے بننے والی ٹیکسٹائل مصنوعات گارمنٹس، ہوم ٹیکسٹائل، ہوزری، تولیہ، ڈینم زیادہ تر ایکسپورٹ کردی جاتی ہیں اور مقامی مارکیٹ میں ٹیکسٹائل مصنوعات کی فروخت بہت کم ہے لہٰذاان مصنوعات پر 17فیصد کی شرح سے 700ارب روپے کا سیلز ٹیکس لگانا غیر منصفانہ ہے۔ بنگلا دیش میں سیلز ٹیکس ریفنڈ کا طریقہ کار نہایت سادہ ہے جہاں برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی بینکوں میں وصول ہونے کے بعد ایکسپورٹرز کو فوری طور پر ریفنڈ کردیئے جاتے ہیں۔

ٹیکسٹائل سیکٹر کے مطابق 700ارب روپے کا اضافی بوجھ ٹیکسٹائل کی صنعت کی کمر توڑ دے گا۔ان کا کہنا ہے کہ ٹیکسٹائل سیکٹر نے پیپلزپارٹی دورِ حکومت میں ان 5ایکسپورٹ سیکٹرز کی سیلز ٹیکس چھوٹ کی سہولت بحال کرائی تھی اور اب پی ٹی آئی حکومت اس سہولت کو دوبارہ ختم کرنا چاہتی ہے لیکن حکومت کا یہ تجربہ ملکی برآمدات جو گزشتہ 6سالوں میں بڑھنے کے بجائے کم ہوئی ہیں، کو مزید نقصان پہنچائے گا لہٰذا میرا حکومت کو مشورہ ہے کہ وہ آئی ایم ایف کے دبائو کے تحت کسی ایسے فیصلے سے گریز کرے جو ہمارے کمائو پوت سیکٹر کو نقصان پہنچائے۔

2005-06میں ہمارے ٹیکسوں کی وصولی کی شرح 500سے 600ارب تھی جو ہر سال بڑھ کر گزشتہ سال 4ہزار ارب روپے ہوگئی تھی لیکن اس کے باوجود جی ڈی پی میں ہماری ٹیکسوں کی شرح وہی 9فیصد ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ہم نئے ٹیکس دہندگان کو ٹیکس نیٹ میں شامل نہیں کررہے بلکہ موجودہ ٹیکس دہندگان پر ہی نئے ٹیکسوں کا اضافی بوجھ ڈال رہے ہیں جو ان کی مقابلاتی سکت ختم کررہا ہے۔ میرے نزدیک حکومت کی ٹیکس وصولی کی یہ حکمت عملی غلط ہے۔ ایف بی آر کو نئے ٹیکس دہندگان کو ٹیکس نیٹ میں لاکر ٹیکس کی جی ڈی پی میں شرح کو 9فیصد سے بڑھاکر 16فیصد تک لے کر جانا ہوگا۔ پاکستان کا زرعی سیکٹر (20فیصد) اور صنعتی سیکٹر سکڑ کر 20فیصد جبکہ سروس سیکٹر پھیل کر 60فیصد تک پہنچ گیا ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ صنعتی مقابلاتی سکت ختم ہونے کی وجہ سے پاکستان ایک ٹریڈنگ اسٹیٹ بنتا جارہا ہے جو لمحہ فکریہ ہے کہ بیرونِ ملک سے اشیا امپورٹ کرکے فراہم کرنا ہمارا مقدر نہیں۔ بابائے قوم نے تو زرعی و صنعتی پاکستان کا خواب دیکھا تھا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں