آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل12؍ذیقعد 1440ھ 16؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

راجہ افتخار، آزاد جموں کشمیر

کنٹرول لائن کے دونوں اطراف پاکستان کی کشمیر پالیسی کے باعث تشویش پائی جاتی ہے وزیراعظم پاکستان کی جانب سے بھارتی وزیراعظم کو ٹیلی فون ۔ٹویٹ۔ اور اب مبارک باد کا خط لکھ کر یکطرفہ محبت کی کوششوں سے پاکستان مذاکرات کی بھیک مانگتے دکھایا جارہا ہے دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت کو برابری کی سطح پر بات کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم پاکستان کی طرف سے حد سے زیادہ لچک کا مظاہرہ کرنے پر دونوں اطراف کی کشمیری حریت سیاسی عسکری اور مذہبی دینی قیادت میں مایوسی پیدا ہوئی ہے۔گزشتہ 71سالوں میں ثابت ہوا کہ بھارت طاقت کی زبان میں آسانی سے مذاکرات کی میز پر آجاتا ہے ۔مٹھی بھر مجاہدین جن کی تعداد5سو سے کم ہے بھارتی آرمی چیف کے مطابق250کے قریب مجاہدین وادی میں موجود ہیں ۔یہ تعداد 250ہی ہے تو پھر انہوں نے دنیاکی چھٹی ایٹمی طاقت کے آٹھ لاکھ تربیت یافتہ فوج کو ناکوں چنے چبانے پر مجبور کردیا ہے۔حریت قیادت کی جانب سے کشمیر پالیسی پر تشویش کا اظہارکیا جارہا ہے ۔کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے ایام پر پاکستان کی موجودہ حکومت کا کوئی نمائندہ کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کی جانب سے شرکت نہیں کی گئی۔ماضی میں5فروری یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر آزادکشمیر جائنٹ سیشن میں صدر پاکستان وزیراعظم پاکستان خطاب کر کے مظفرآباد سے کنٹرول لائن کی دوسری جانب کشمیریوں کو مضبوط پیغام دیتے تھے ان کے حوصلے بلند کرتے تھے یاد رہے کشمیر کی تحریک آزادی پاکستان کا نقشہ مکمل کرنے اور پاکستان کے تکمیل کی تحریک ہے اس فلسفہ سے اگر پاکستانی سیاسی قیادت کو اہمیت نہیں لیکن افواج پاکستان اس فلسفہ سے بخوبی آگاہ ہے انہیں تکمیل پاکستان اور پاکستان کا نقشہ مکمل کرنے کے بارے اہمیت کا اندازہ ہے۔ماضی میں ذوالفقار علی بھٹو، میاں نوازشریف ،محترمہ بے نظیر بھٹو، آصف علی زرداری کی جانب سے بھارت کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی کوشش ہوئی انہیں تنقید کا نشانہ بنایاگیا اگر یہی بات جنرل مشرف اور عمران کرتے ہیں انہیں کیا نام دیا جائے۔کشمیریوں کی جانب سے پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کے علاوہ مقبوضہ کشمیر کی سیاسی قیادت سابق وزرائے اعلیٰ فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ ،محبوبہ مفتی، مودی کی پاکستان کی دھمکی کا جواب دیتے ہیں دوسری طرف ہمارے وزیراعظم بھارتی وزیراعظم مودی کو ٹیلی فون کرتے ہیں اس کا جواب نہیں آتا۔ 27فروری کو پاک فضائیہ کے منہ توڑ جواب کی گونج بھی جنوبی میں سنائی جارہی تھی پاکستان پر حملہ آور ہونے والے پائلٹ کو پورے اعزاز کے ساتھ واپس کردیا جاتا ہے بھارتی پائلٹ کی وہ تھکان جو سماہنی میرپور کے لوگوں نے خدمت کی تھی ابھی ختم نہیں ہوئی تھی واہگہ بارڈر پارکرجاتاہے۔پاک فضائیہ کی شاندار کامیابی پر لوگ تیاریاں ہی کررہے تھے بھارتی حملہ آور کو سرحد پارکردیا گیا فتح کی خوشی منانے کا موقع نہیں دیاگیا۔ ان جلد بازیوں کی وجہ سے تحریک آزادی کشمیر کو شدید دھچکا لگاہے کشمیری اپنے شہداء کو پاکستان کے پرچم میں دفن کرتے ہیں ۔مقبوضہ کشمیر میں بھارت کو ہر وہ کام کرنے میں ناکامی ہوئی جس سے پاکستان کو نقصان پہنچ سکتا تھا کنٹرول لائن پر برقی اور خاردار دیوار اس وقت تک نہیں لگانے دی جب تک مجاہدین پوار میں تھے کشمیری مجاہدین کو غیرمسلح۔ کس نے کیا مجاہدین کی طاقت کو کس نے کمزور کیا حریت قیادت کو کس نے تقسیم کیا۔کشمیریوں کو پتھروں سے جہاد کرنا کس نے سکھایا کشمیری اور پوری دنیا جانتی ہے آزادکشمیر کے لوگ مظفرآباد آزادی چوک میں تین ماہ سے دھرنا دیے ہوئے ہیں یہ لوگ مطالبہ کررہے ہیں این ایف سی ایوارڈ سے ہمیں باہر کیوں رکھا ہوا ہے۔ اس وقت آزادکشمیر کے اندر ایک اور کھیل کھیلا جارہاہے۔ ریاستی جماعتوں کے خاتمہ کے بعد اب سیاسی عدم استحکام سے افراتفری پیدا کی جارہی ہے گزشتہ دو سالوں سے یہاں پر حکومت کو ختم کرنے کی خبریں آرہی ہیں ۔گزشتہ دو سال کی انتھک کوششوں کے بعد 15اراکین اسمبلی جمع ہوئے ان میں سے 4ممبرا ن اسمبلی پیپلز پارٹی نے حکومت کے خلاف عدم اعتماد سے انکار کردیا انکی مرکزی قیادت اجازت نہیں دے رہے ایک مرتبہ پھر حکومت کے خلاف عدم اعتماد لانے والوں کی تعداد11پر آگئی ہے جبکہ انہیں25اراکین اسمبلی درکار ہیں جو لوگ فاروق حکومت کا خاتمہ چاہتے ہیں وہ اب مزید جدوجہد میں لگ گئے ہیں وہ 11سے25کس طرح کریں گے ان کے لیے بڑاچیلنج بن چکاہے۔ آزادکشمیر مسلم لیگ ن کے تین سینئر ترین لوگ اپنی حکومت کے خاتمہ کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں گلگت بلتسان میں بھی حکومت گرانے کی بھرپور کوشش ہوئی وہاں پر ناکامی کے بعد آزادکشمیر کا رخ ہوا یہاں پر موجود ہ حکومت کو تین سال مکمل ہونے والے ہیں موجودہ حکومت اپنا تیسرا بجٹ پیش کررہی ہے اس حکومت کے کچھ کاموں پر عام آدمی کو فائدہ ہوا جن میں آزاد پبلک سروس کمیشن کا قیام۔ میرٹ پر تقرریاں۔ این ٹی ایس۔ تعمیرات فنڈز کازمین پر استعمال ہونا۔ اپوزیشن والوں کو برابر فنڈز دینا۔13ویں ترمیم کے ذریعے ٹیکس کا حصول آزادحکومت کے اختیار میں آزادعدلیہ کا قیام شامل ہیں ان اقدامات سے عام اور غریب آدمی کو فائدہ ہوا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی حکومت تحریک آزادی کی خاطر جانیں قربان کرنے والوں کے حوالے سے اپنی پالیسی واضح کرے اورکشمیری قیادت کو مطمئن کرے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں