آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 13؍شوال المکرم 1440ھ17؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سپریم کورٹ آف پاکستان میں سپریم جوڈیشل کونسل کا جاری اجلاس ختم ہوگیا ہے ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس کی سربراہی کر رہے تھے۔

اجلاس میں جسٹس گلزار احمد اور جسٹس عظمت سعید شیخ کے علاوہ چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ علی احمد شیخ اور چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس وقار احمد سیٹھ بھی شریک ہیں۔

اجلاس جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف حکومتی ریفرنس کے قابل سماعت ہونے پر سماعت کرے گا۔

اجلاس میں سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس کے کے آغا کے خلاف حکومتی ریفرنس پر بھی غور کیا جائے گا۔

سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس میں اٹارنی جنرل پاکستان منصور علی خان بھی نوٹس پر پیش ہوگئےہیں۔

دوسری جانب سپریم کورٹ کی عمارت میں مختلف بارز کی جانب سے احتجاجی بینرز لگائے گئے ہیں جن میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ریفرنس کی سماعت کے موقع پر سندھ، بلوچستان اور خیبر پختون خوا میں وکلاء کی جانب سے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا گیا جب کہ پنجاب میں جزوی ہڑتال ہے۔

سپریم کورٹ بار نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے معاملے پر ہڑتال کی کال دے رکھی ہے جب کہ ریفرنسز کے معاملے پر وکلاء دو گروپوں میں تقسیم ہو چکے ہیں۔

چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی بلوچستان بار راحب بلیدی کا کہنا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کے معاملے پر صوبے بھر میں آج وکلاء کی جانب سے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا گیا ہے۔

اِدھر کراچی کی سٹی کورٹ کے وکلاء کے ایک گروپ کی جانب سے عدالتوں کی تالا بندی کی گئی جبکہ دوسرے گروپ نے یہ تالے توڑ ڈالے۔

لاہور ہائی کورٹ میں بھی آج معمول کے مطابق کام ہو رہا ہے جہاں وکلاء مختلف عدالتوں میں پیش بھی ہوئے۔

لاہور ہائیکورٹ بار، لاہور بار اور پنجاب کونسل کی جانب سے گزشتہ روز وکلاء کی آج کی ہڑتال سے لاتعلقی کا اظہار کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے وزیر اعظم عمران خان کی تجویز پر سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس کے کے آغا کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کو ریفرنس بھیجا تھا جس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر اُن کی بیرون ملک جائیدادوں کو اثاثوں میں ظاہر نہ کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو اس حوالے سے خط بھی لکھ دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یہ جائیدادیں ان کی اہلیہ اور صاحبزادے کے نام ہیں اور وہ خود مختار ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں