آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات23؍ ربیع الاوّل 1441ھ 21؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

پروڈکشن آرڈر جاری نہ کریں، وزیراعظم کی ہدایت، مجرم جیل سے ا ٓکر پارلیمنٹ میں خطاب نہیں کرتے، اتحادی ساتھ چھوڑ دیں تو اکیلا لڑوں گا، عمران خان

اسلام آباد (جنگ نیوز، خبرایجنسیاں)وزیراعظم عمران خان نے سابق صدر آصف علی زرداری سمیت کسی بھی رکن قومی اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ اپوزیشن والے چور ڈاکو ہیں، دنیا میں کہیں مجرم پروڈکشن آرڈر پر ایوان میں آکر حکومت اور وزیراعظم کے خلاف تقریریں نہیں کرتے، آصف زرداری سمیت کسی کے بھی پروڈکشن آرڈر جاری نہیں ہوں گے، میں اکیلا آیا تھا، کوئی رہے نہ رہے میں ان کے خلاف لڑوں گا،سابقہ حکومتوں نے ملک قرضوں کی دلدل میں دھکیلا ،ذاتی تجوریاں بھرنے والے قومی مجرم، ان سےمجرموں والاہی سلوک کیا جائے، 24ہزار ارب قرضوں کی تحقیقات کیلئے کمیشن بنادیا،شہباز شریف یا کسی چور ڈاکو کو اسمبلی میں تقریر نہ کرنے دیں یا اپوزیشن میری بات سننے کی گارنٹی دے۔ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت تحریک انصاف اور دیگر اتحادی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس ہوا جس میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان اور عوامی

مسلم لیگ کے ارکان بھی شریک تھے،پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے حکومتی ارکان کو ہدایات دیں کہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی تقریر کے دوران مداخلت کی جائے اور انہیں خطاب نہ کرنے دیا جائے، یہ نہ ہو آپ لوگ اپوزیشن ارکان کے ساتھ کیفے ٹیریا میں بیٹھ کر گپیں لگاؤ اور چائے پیو، وزیراعظم کا کہنا ہے کہ قوم کو قرضوں میں جکڑ کر ذاتی تجوریاں بھرنے والے قومی مجرم ہیں لہٰذا ان کے ساتھ مجرموں والا سلوک کیا جانا چاہیے،اس دوران حکومتی رکن ثناء اللہ مستی خیل نے کہا کہ وزیر اعظم صاحب ہاتھ جوڑتا ہوں ہمیں بجٹ منظور کرانا ہے احتجاج نہ کریں جس پر عمران خان نے کہا کہ ثناء اللہ تمہیں نہیں پتہ یہ مجرم ہیں، ان کے خلاف یہ سب کرنا ضروری ہے، عمران خان نے یہ بھی کہا کہ اپوزیشن سے ضمانت لو، وہ خاموش رہ کر مجھے تقریر کرنے دیںجس پر وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید بولے کہ نہیں جناب وہ مُکر جائیں گے۔اجلاس کے دوران اتحادی جماعت کے رکن خالد مگسی نے وزیرا عظم سے استفسار کیا کہ وزیر اعظم صاحب کیا اتحادی آپ کے ساتھ رہیں گے؟ وزیرا عظم نے جواب دیا کہ میں اکیلا آیا تھا، کوئی رہے نہ رہے میں ان کے خلاف لڑوں گا۔حکومتی رکن نصراللہ دریشک نے وزیرا عظم کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اللہ نے آپ کو ملک بچانے کے لیے بھیجا ہے جس پر ایم کیو ایم ایم کے رکن اسامہ قادری نے کہا ہم نے بھی ایک شخص کو بہت تعریفیں کر کے چڑھایا ہوا تھا، آج وہ شخص باہر بیٹھا ہوا ہے، اس پر عمران خان نے کہا کہ کیا میں بھی ملک چھوڑ جاؤں گا؟اجلاس میں رکن اسمبلی شکور شاد نے وزیر اعظم کو شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ کے خلاف پوسٹر بھی دکھایا جس پر وزیر اعظم مسکرائے اور انہیں سراہا۔اجلاس میں حکومتی اتحادی بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے ارکان شریک نہیں ہوئے۔اجلاس کے دوران وزیر اعظم نے کہاکہ موجودہ حکومت نے اپنے دور اقتدار کے پہلے 10مہینوں میں مشکل ترین حالات کا سامنا کیا ، پاکستان تحریک انصاف نے جب حکومتی باگ دوڑ سنبھالی تو ملک بدترین مالی مشکلات کا شکار تھا، مشکل حالات میں متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور چین جیسے دوست ممالک کی جانب سے تعاون کے مشکور ہیں۔

اہم خبریں سے مزید