آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ13؍ذیقعد 1440ھ 17؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آمری زیریں سندھ کا ایک چھوٹا سا گاؤں ہے، جو جام شورو کے ضلع میں کیرتھر کی پہاڑیوں کے دامن میں واقع ہے۔اس کا شمار وادی سندھ کی قدیم ترین تہذیبوں میں ہوتا ہے۔یہ قصبہ آ ج بھی دریائے سندھ کے مغربی کنارے پر دریاسے ایک میل کے فاصلے پر آباد ہے۔کراچی سے 175 میل پر کوٹری کے شمال میں 67میل اور دادو کے جنوب میں 45میل جب کہ جامشورو میں واقع یہ آثار اہمیت کے حامل ہیں۔ 4.10ایکڑ پر مشتمل یہ ٹیلہ 1929ء میں این سی موجمدار نے دریافت کیا۔ فرانسیسی آرکائیولوجیکل مشن اور پاکستان آرکائیولوجی ڈپارٹمنٹ نے مذکورہ علاقے کی 1959ء تا 1962تک کھدائی کی۔ اس مقصد کے لیے تین ٹیلوں کی کھدائی کی گئی۔ ان ٹیلوں سے ملنے والے برتنوں اور ٹھیکریوں سے اندازہ ہوتا ہے، کہ سب سے اوپر والے حصے سے جو ظروف برآمد ہوئے ہیں ، وہ ٹھٹھہ اور ملتانی طرز کے ہیں۔ آمری کی قدیم بستی دو ٹیلوں پر مشتمل ہے جو موجودہ آمری گائوں کے قریب شمال میں واقع ہے۔

 ان میں سےایک ٹیلہ چالیس فٹ اونچا ہے جب کہ دوسرا ٹیلہ 13 فٹ بلندہے۔ قیاس کیا جاتا ہے کہ قدیم دور میں یہ گاؤں چوبیس ایکڑ رقبے پر محیط ہوگا۔قدیم آثار کے ماہرین کے مطابق ، یہ بستی پانچ مرتبہ آباد ہوئی ۔ سندھ کی قدیم تہذیب کے محقق ڈاکٹر رفیق مغل کی تحقیق کے مطابق آمری ، وادی مہران کی سب سے قدیم آبادی ہے جو 3540 ق م سے لے کر 3240 ق م کے درمیان بسی تھی۔ قدیم آثار کے ماہر،جے ایم کیسل کے اندازے کے مطابق آمری گاؤں سب سے پہلے ایک ٹیلے پر آبادہوا ہوگا جب کہ دوسرا ٹیلہ بعد میں آباد ہوا ہوگا۔ آمری کے قدیم آثار کی کھدائی کے دور ان جو برتن ملے ہیں ان میں سے 82 فیصد ہاتھ سے بنے ہوئے ہیں اور باقی ماندہ 18 فیصد چاک پر بنے باریک دیوار کے نفیس برتن ہیں۔

مٹی بادامی رنگت کی یا سرخی مائل ہے۔ برتنوں پر جو سجاوٹی تصاویر منقش کی گئی ہیں ان کی ہیئت ہندسوں کی شکل کی ہے۔ برتنوں پر بنی یہ تصاویر انتہائی بھدی ہیں اور ان میں کہیں کہیں سرخ و سیاہ رنگوں کا استعمال کیا گیا ہے۔ کھدائی کے دوان چندتانبے کے ٹکڑے بھی دستیاب ہوئےہیں۔ ٹوٹے ہوئے بلیڈ، پتھر کے گولے، کچھ مٹی کے بنے موتی ایک دو مٹی کی اور چندگھونگھوں کی بنی ہوئی چوڑیاں ملی ہیں۔

اس زمانے مستقل طور سے گھر بنانے کا رواج نہیں تھا۔ کچھ کچی اینٹوں سے تعمیر کی گئی دیواریں ملی ہیں۔ جن میں بعض جگہ لکڑی کے ستون لگائے گئے ہیں۔ بعد میں یہی فن تعمیر موئن جو دڑوکے اناج گھر وںکی تعمیر میں استعمال کی گیا۔ ان میں سےبعض عمارتیں تہ خانوں کے اوپر بنی ہوئی ہیں۔ تہ خانوں میں داخل ہونے کا واحد راستہ ان کی چھت سے اترتا ہوگا۔ کیوں کہ چار دیواری میں آمدو رفت کے لیے کوئی دروازہ نہیں تھا۔ اآمری تہذیب کا زمانہ مختلف ادوار پر مشتمل ہے۔ قدیم آثار کے ماہرین کے مطابق آمری کے تیسرے زمانے سے مستطیل شکل کی عمارتیں ملی ہیں۔ جن میں چھوٹے چھوٹے کمرے ہیں۔ جو بقول جے ایم کیسل کے اتنے تنگ ہیں کہ رہا ئش کے قابل نہیں ہیں۔ ان کی دیواروں میں کھڑکیاں اور دروازے بھی نہیں ہیں۔

ان میں سے اکثر خالی تھے اور بعض ملبے اور کچی اینٹوں سے بھر گئے تھے۔ صرف ایک گھر میں دو کمروں کے درمیان دروازے کی جگہ چھوڑ دی گئی ہے۔ ان کی دیواریں پانچ سے چھ فٹ انچیں تھیں۔ اس سے اوپر اگر تعمیر تھی تو وہ محفوظ نہیں رہی ہیں۔ کیسل کا خیال ہے کہ جنگلی جانوروں سے بچنے کے لیے بنیاد بنائی گئی تھی اور اس کے اوپر رہائشی جھگیاں بنائی گئی ہوں گی۔ آمری کا چوتھا زمانہ یعنی 300 عیسوی یہاں آبادی رہی ہوگی۔ آمری کا پانچواں زمانہ 16 صدی میں مسلمانوں کا زمانہ ہے۔ اس سے پہلے 1300 سو سال تک یہ جگہ ویران رہی ۔

اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ ان آثار سےمغلیہ دور کے چند سکے بھی ملےہیں۔کھنڈرات کی کھدائی کے دوان وہاں سے بھٹیاں ملیں۔ مٹی کے برتن پر جیومیٹریکل اور دوسرے نشانات ہیں، جوسرخی مائل کتھئی رنگ کے ہیں۔ قدیم آثار کے ماہر،موجمدارنے اس حوالے سے لکھا کہ ’’کرسمس کےدوران ہم آمری واپس آئے اور ڈھیری نمبردوکو وہاں سے کھودنے لگے ، جہاں چرٹ یعنی معدنیاتی ٹکڑے ملے تھے ،جیسا کہ سندھ میں بیشترمقامات پر ملتے رہےہیں۔ اس ڈھیری کی چوٹی پر بھی مسلمانوں کا قبرستان تھا۔ لہٰذا ہمیں بے حد احتیاط سے چلنا پڑا اور اپنی کھدائی کو قبرستان سے زیادہ سے زیادہ دور ایک تنگ علاقے تک محدود کرنا پڑا۔راستہ معدنیاتی ٹکڑوں سے بنا ہوا تھا۔ یہ دیکھنے کے لیے کہ یہ نئی قسم کے ظروف ڈھیری کے باہر بھی پڑے ہیں۔

یہاں پر جب دوسری جگہ کھدائی کی گئی تو اس نئی خندق میں تقریباً ایک فٹ کی گہرائی میں ایک پتھر کی عمارت کے کھنڈر ات ملے ہیں۔ ان کھنڈرات کے مشرقی جانب چھوٹے کمروں کی بنیادیں نظر آنے لگیں۔ دیواروں کی تہوں سے کھدائی کے دوران گومڑیوں یا بجری کے ڈھیر صاف کیےگئے، جو بنیادوں میں استعمال کیےگئےتھے۔ جب کالی مٹی کی ایک تہہ دوبارہ نمودار ہوئی اور اس کے ساتھ ہی مختلف رنگ کے ظروف بھی دریافت کیے۔خندقوں کی کھدائی میں ثابت برتن تو نہیں ملے، مگر بہت سے بیکر یعنی پیالے اور گلاس جیسے کھلے برتن ضرور دریافت ہوئے۔ آمری کے دو قسم کے ظروف بنیادی طور پر مختلف ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آمری تہذیب دو مختلف تہذیبوں پر مشتمل ہے جن میں سے ایک، موہن جودڑو کی ہم عصر ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں