آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ13؍ذیقعد 1440ھ 17؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کہتے ہیں اگر حوصلے بلند ہوں تو انسان کچھ بھی کرسکتا ہے۔ ہمارے نوجوانوں کے حوصلے بھی کسی سے کم نہیں ہیں۔ ترقی کے اس میدان میں صرف نوجوان لڑکے ہی نہیں بلکہ لڑکیاں بھی اپنی صلاحیتوں کے جو ہر دکھا رہی ہیں۔ انہی بلند حوصلہ اور بہادر لڑکیوں میں لیاری سے تعلق رکھنے والی، ’’ماہرہ احمد‘‘ کا شمار بھی ہوتا ہے۔ ماہرہ نے 2013 ء میں ’’ویمن ان نیشن‘‘ کےنام سے اپنی آرگنائزیشن کا آغاز کیا، جس کے تحت انہوں نے ’’فری اسکول‘‘ کے نام سے ایک اسکول بنایا، جس کا مقصد لیاری کی لڑکیوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا تھا۔ گزشتہ سال انہیں یو این ڈی پی کی جانب سے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ گزشتہ ہفتے ہم نے ماہرہ سے خصوصی گفتگو کی جو نذر قارئین ہیں۔

س:اپنے تعلیمی پس منظر کے بارے میں بتا ئیں؟آپ کتنے بھائی، بہن ہیں ؟

ج:میں نے ایک نجی اسکول سے اسکولر شپ پر میٹرک کیا، پھر گورنمنٹ کالج سے کامرس میں انٹر اور گریجویشن کیا اور اب ایک نجی یونیورسٹی سے ویک اینڈ پر ایم بی اے (MBA) کر رہی ہوں، ساتھ لیاری کے علاقے میں لڑکیوں کو بلا معاوضہ پڑھاتی ہوں۔ میری 2 بڑی بہنیں اور 2 بھائی ہیں۔ سب سے بڑی بہن شادی شدہ ہیں جو کہ بیرون ملک مقیم ہیں، دوسری بہن نے جامعہ کراچی سے پی ایچ ڈی کیا ہے اور اسی یونیورسٹی میں ملازمت کررہی ہیں، ایک بڑے بھائی نجی بینک میں وائس پریذیڈنٹ (vp) ہیں اور ایک بھائی گرافک ڈیزائنر ہیں۔

س: آپ کو مفت تعلیم دینے کا خیال کیسے آیا؟

ج: مجھے بچپن سے ہی پڑھانے کا بہت شوق تھا، مفت تعلیم دینے کا خیال مجھے اس طر ح آیا کہ، میرے اسکول کے باہر ایک بچی آئس لولی بیجتی تھی، وہ بھی تقریباً میری ہی ہم عمر تھی۔ ایک دن میں نے اور میری دوستوں نے اُس سے پوچھا کہ تم پڑھتی کیوں نہیں ہو؟ اس نے کہاکہ میرے والد کا انتقال ہوگیا ہے اور والدہ گھروں میں صفائی کا کام کرتی ہیں، ہم سب بہن بھائی اسی طر ح کوئی نہ کوئی کام کرتے ہیں، تاکہ دو وقت کی روٹی کھا سکیں،اُس وقت سے میرے دماغ میں یہ بات پیوست ہوگئی تھی کہ مجھے غریب بچیوں کے لیے کچھ کرنا ہے پھر جب میں ساتویں جماعت میں تھی تو میں نے گھر میں محلے کے بچوں کو ٹیوشن پڑھنا شروع کیا۔ میرے پڑوس میں ایک پشتو فیملی رہتی ہے ان کی بیٹیاں اور میں ساتھ کھیلا کرتے تھے۔ ایک دن ان کی والدہ نے مجھے سے کہا کہ تم جو اسکول میں پڑھ کے آتی ہو وہ میری بیٹیوں کو بھی پڑھا دیا کرو، تاکہ ہمارے بیچ جو زبان کا فرق ہے وہ ختم ہوجائے۔ میں نے حامی بھر لی۔ بہر حال یہ سلسلہ اسی طر ح چلتا رہا اور آہستہ آہستہ ٹیوشن میں بچیوں کا اضافہ ہوتا گیا۔ بعدازاں میں نے 2013ء میں ’’نیشنل یوتھ پیس فیسٹیول ‘‘میں شرکت کے لیے لاہورگئ، یہ ہر سال ستمبر میں منعقد ہوتاہے ۔اس فیسٹیول میں پورے پاکستان سے لوگ آتے ہیں اوراپنے اپنے تجربات اور کام یابیاں شیئر کرتے ہیں۔ وہاں بہت سارے نوجوان اپنے اپنے تجربات بتا رہے تھے کہ کس طر ح وہ لوگوں کی خدمت کررہے ہیں۔ ان کے تجربات سن کر مجھے خیال آیا جب میں پڑھاہی رہی ہوں تو کیوں نہ زیادہ بچیوں کو پڑھانا شروع کردوں،اسی طر ح زیادہ سے زیادہ بچیاں تعلیم کے زیور سے آراستہ ہوں گی۔ یہ بات والد صاحب اور اساتذہ سے شیئر کی، تو انہوں نےمیرے اس جذبے کو بہت سراہا اور کہا، میری یہ سوچ بہت اچھی ہے، اسے پایہ تکمیل تک ضرور پہنچانا چاہیے۔ مفت تعلیم کا سلسلہ شروع کرنے سے پہلے میں نے لیاری کی شرح خواندگی جاننے کے لیے ایک سروے کیا، صرف تین یوسی (UC) کا سروے کرنے پر معلوم ہوا کہ لیاری میں صرف17 فیصد لڑکیاں پڑھنا لکھنا جانتی ہیں۔ اس سروے نے کے نتائج نے مجھے مزید سوچنے پر مجبور کیا کہ میں جس علاقے میں رہتی ہوں وہاں کی بمشکل 17 فی صد لڑکیاں پڑھی لکھی ہیں ،ان میں وہ بھی شامل تھیں جن کو صرف اپنا نام لکھنا آتا تھا ۔ان حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے میں نے 2013 ء میں ’’ویمن ان نیشن ‘‘(women in nation) کے نام سے اپنی تنظیم بنائی۔ اس اسکول کو میں نے ’’فری اسکول‘‘ کا نام دیا ۔اس میں وہ بچیاںہیں جنہوں نے کبھی اسکول کی شکل نہیں دیکھی یا جو پہلے کبھی گئی تھیں،مگر پھر کسی مجبوری کی وجہ سے انہوں نے چھوڑ دیا تھا ۔

س: اسکول کے اوقات کار کیا ہیں ؟اور کتنے گھنٹے طالبات کو پڑھایا جاتا ہے ؟

ج: اس سلسلے کو شروع کیے ہوئے تقریبا ً6 سال ہو چکے ہیں ۔شروع میں میرے ساتھ میری دو دوستیں تھیں ۔یوں سمجھ لیںاسکول کی بنیاد ہم تینوں نے مل کر رکھی تھی ،پھر آہستہ آہستہ لوگ آتے گئے کارواں بنتا گیا۔ اب 12 لوگوں پر مشتمل ہماری ٹیم ہے، سب رضاکارانہ طور پر میرے ساتھ کام کرتے ہیں۔ ان میں کچھ ایسے ہیں جو صبح میں خود پڑھتے یا نوکری کرتے ہیں اور شام میں اسکول میں پڑھاتے ہیں۔ اسکول کے اوقات کار گرمی اور سردی میں مختلف ہوتے ہیں ۔جیساکہ آج کل گرمی کا موسم چل رہا ہے توشام 4سے رات 8 بجے تک کلاسیں ہوتی ہیں، جبکہ کمپیوٹر سکھانے کی کلاسیں رات8:30 سے 10:30تک ہوتی ہیں ،اس کی وجہ یہ ہے کہ لیاری میں لوڈ شیڈنگ کا بہت مسئلہ ہے ۔ دن میں بجلی نہ ہونے کی وجہ سے کمپیوٹر کی کلاسیں رات کے وقت لی جاتی ہیں اور سردی کے موسم میں کلاسس کی ٹائمنگ تھوڑی پیچھے کردی جاتی ہیں۔ طالبات کی تعداد کے بارے میں ماہرہ نے بتا یا کہ ہمارا پہلا بیج 80 طالبات کا تھا اور جو بیج گزشتہ سال پاس ہوا ہے وہ 120 طالبات پر مشتمل تھا ۔مجھے طالبات کےاعداد وشمار صحیح طور پر تو یاد نہیں لیکن 2013ء سےاب تک تقریباً600 طالبات ہمارے اسکول سے فارغ التحصیل ہوچکی ہیں ۔

س:اس فری اسکول میں داخلے اور کلاسس کا طر یقے کار کیا ہے ؟

ج:داخلے کا طر یقہ یہ ہے کہ ہم سب سے پہلے تمام طالبات کو داخلہ ٹیسٹ کی تیاری کرواتے ہیں، پھر گورنمنٹ اسکول میں ان کا ٹیسٹ دلواکر ان رول کرواتے ہیں، اس کے بعد ہم ان کو آگے پڑھانا شروع کرتے ہیں۔ لیاری کے گورنمنٹ اسکول کا ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ وہاں پر ٹیچرز نہیں آتے ۔ہم نے طالبات کو ان کی عمر کے لحاظ سے کلاسس میں تقسیم کیا ہوا ہے ۔ہر مضمون کا نصاب اور ٹائم ٹیبل تیار کیا ہوا ہے ،اس کے ساتھ ہم ہر سال مختلف پروگرام بھی کرواتے ہیں۔ مثال کے طور پر اسپورٹس اور پکنگ وغیرہ۔تمام طالبات کو یونیفارم ،کورس اور جوتے بھی فراہم کرتے ہیں ،ان سب چیزوں کا ایک روپے بھی ان سے نہیں لیتے ۔یہ بھی بتادوں سندھ بورڈ کا نصاب پڑھاتے ہیں ۔اس کے ساتھ ساتھ ہم الگ سے انگلش کی کلاسیں بھی لیتے ہیں ۔ کلاسس کا طریقے کار یہ ہے کہ ہم نے تمام مضامین کے لیے دن مقرر کیے ہوئے ہیں اور ٹیم ممبران کو دو یا تین مضامین دئیے ہوئے ہیں۔یہ طالبات پاس آئوٹ تو ہمارے اسکول سے ہوتی ہیں ،مگر ان کو میٹرک کاجو بورڈ کی طرف سے سر ٹیفیکیٹ ملتا ہے وہ گورنمنٹ اسکول کے نام کا ملتا ہے ،کیوں کہ وہ بورڈ میں ان رول گورنمنٹ اسکول کے نام سے ہوتی ہیں ۔لیکن ہم ان کو اپنے اسکول کے نام کا سر ٹیفیکیٹ بھی لازمی دیتے ہیں ۔

س: لیاری میں یہ اسکول کتنے گز پر قائم کیا گیا ہے؟

ج: تقریباً 80 گز پرلیکن یہ اسکول کے لحاظ سے بہت کم ہے۔ اس میں صرف 3 کمرے ہیں۔ اسکول کے اخراجات کے بارے میں ماہرہ نے بتایا کہ میری تنخواہ کا بہت بڑا حصہ اس کے اخراجات میں خرچ ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں بعض لوگ انفرادی طور پر بھی کچھ رقم دیتے ہیں۔ ان میں سے کچھ ہفتہ وار، کچھ ماہانہ اورکچھ سالانہ دیتے ہیں اور اگر کسی مہینے کوئی بھی نہیں دیتا تو ساری اخراجات میں اکیلے ہی برداشت کرتی ہوں ۔

س: کیا آپ کی یہ آرگنائزیشن رجسٹرڈ ہے؟

ج: جی بالکل یہ’’ویمن ان نیشن ویلفیئر آرگنائزیشن‘‘ کے نام سے رجسٹرڈ ہے۔

س:فری اسکول شروع کرنے کے لیے سرمائے کا انتظام کہاں سے کیا؟

ج:جب میں اسکول شروع کررہی تھی، تو میں خود انٹر کی طالبہ تھی، اُس وقت نہ تو میرے پاس بھی اتنےپیسے ہوتے تھےاور نہ ہی کسی قسم کا مالی تعاون تھا۔ اسکول کی رجسٹریشن اپنی ایک دوست سے کچھ پیسے اُدھار لے کر کروائی۔ پھر اہم مسئلہ جگہ کا تھا، تو میں نے اپنے کوچنگ کا اسٹور روم پڑھانے کے لیے لے لیا، یہ کمرا اتنا بڑا نہیں تھا اور نہ ہی اس میں کوئی سامان تھا یہ بالکل خستہ حال تھا۔ میں نے اس سلسلےمیں اپنے چند دوستوں سے بات کی تو کسی نے ایک ہزار، کسی نے دوہزار دئیے، اس طرح تھوڑی بہت رقم جمع ہوگئی۔ اُن دنوں میں لیپ ٹاب خریدنے کے لیے پیسے جمع کررہی تھی، وہ سارے پیسے بھی میں نے اس کمرے میں لگا دئیے، پنکھا لگوایا، لائٹیں لگوائیں اور کتابیں اِدھر اُدھر سے جمع کر کے پڑھانا شروع کیا۔

س:اسکول کے قیام میں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔والدین نے اپنی بچیوں کو بہ خوشی اسکول بھیج دیا؟

ج:لیاری کے جس علاقے میں میری رہائش ہے وہ کمہاڑ واڑا کہلاتا ہے۔ اور جس علاقے میں’’فری اسکول‘‘بنایا گیا ہے، وہ چیل چوک کا علاقہ ہے۔ جہاں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہاں پر کسی بھی آرگنائزیشن کو کام کرنے نہیں دیا جاتا۔’’ون‘‘لیاری کی پہلی آرگنائزیشن ہے، جسے ایک خاتون نے، صرف خواتین کی فلاح و بہبود کی خاطر بنایا ہے۔ جب اسکول شروع کیاتو ہمیں اسے بند کروانے کے لیے بہت زیادہ دھمکیاں ملیں، حدتو یہ کہ ایک دفعہ میرے گھر پر کاغذ میں گولیاں رکھ کر بھیجی گئیں اور کہا گیا کہ، ’’اگر تم نے یہ پڑھانے کا سلسلہ بند نہیں کیا تو ہم تمہیں جان سے مار دیں گے‘‘۔ میری دوستوں کو بھی کئی مرتبہ ہراساں کیا گیا۔میں گھر سےباہر جاتی تو لوگ پیچھا کرتے، میری فیملی کو ٹارگٹ کیا گیا۔ جب حالات بہت زیادہ سنگین صورت حال اختیار کرگئے تو میں نے پریشان ہوکر پڑھانے کا سلسلہ ہی بند کردیا، تین مہینے تک اسکول بند رہا، پھرمیں نے ہمت کرکے دوبارہ پڑھانا شروع کیا۔ لیکن تھوڑے ہی دن گزرے تھے کہ دھمکیوں کا سلسلہ پھر شروع ہوگیا لیکن دوسری دفعہ حالات پہلے سے بھی زیادہ بدتر ہوگئے تو مجبوری کے تحت اسکول کو ایک بار پھر خیرباد کہنا پڑا، اس بار چھ مہینے اسکول بند رکھا، کیوں کہ میرے ساتھیوں کو دھمکیوں سے کافی زیادہ نقصان ہو رہا تھا اور ان کی جان کو بھی خطرہ تھا۔ تیسری مرتبہ جب میں نے اسکول کھولا تو وہ جگہ چھوڑ کر ایک گلی پیچھے چلے گئے۔ تھوڑے دنوں بعد وہاں بھی دھمکیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا، پھر مجھے دو مہینے کے لیے اسکول بند کرناپڑا۔ جب میں چوتھی دفعہ پڑھانے کا سلسلہ شروع کرنے لگی تو ابو نے مجھے سے کہا کہ اگر تم یہ اسکول کھولنا چاہتی ہو تو یہ سوچ لینا کہ، چاہے حالات کچھ بھی ہوں اسکول بند نہیں ہوگا۔ ابو کی اسی بات نے مجھے ہمت دلائی،میرا حوصلہ بڑھایا لیکن جب چوتھی بار تعلیم کا سلسلہ شروع کیاتو ہم نے پہلے والا علاقہ ہی چھوڑدیا تھا اور اب ہمارا اسکول موسیٰ لین میں ہے۔ یہاں میں ایک بات ضرور کہنا چاہوں گی کہ، اس پورے مشن میں سب سے زیادہ میرا ساتھ ابو نے دیا اور ان کی وجہ سے ہی یہ کام کرنا ممکن ہوا۔ مشکل سے مشکل حالات کے باوجود انہوں نے مجھے ہمت ہار نے نہیں دی۔ ہمیشہ ڈٹ کر حالات کا مقابلہ کرنے کی ترغیب دی۔ ابو کی وجہ سے میں آج کام یابی کے ساتھ اسکول چلا رہی ہوں۔ خاص بات یہ ہے کہ ابوکا تعلق شعبہ تعلیم سے ہے اور اُس سے بھی زیادہ مزے کی بات یہ ہے کہ ہم دنوں نے (ابو اور میں نے) ساتویں جماعت سے پڑھانا شروع کیا تھا۔ اس کے برعکس میری امی اور بھائی کبھی کبھار میری مخالفت کرتے کہ تم یہ کام کیوں کرتی ہو، تمہیں کیا ملتا ہے، چھوڑ دو، مت کرو، اپنی جان کو کیوں خطرے میں ڈال رہی ہو وغیرہ وغیرہ، مگر ابو نے ہمیشہ یہی کہا،’’میری بیٹی جو کررہی ہے، اُسے کرنے دو۔ وہ ایک دن اس کام میں ضرور کام یابی حاصل کرے گی‘‘۔ اصل بات یہ ہے کہ اگر آپ کے حوصلے بلند ہوں تو آسمان کی سیر کرنا بھی مشکل نہیں۔

س:یو این ڈی پی کی جانب سے آپ کو عالمی ایوارڈ سے نوازاگیا، اس بارے میں کچھ بتائیں؟

ج:اس ایوارڈ کے لیے مجھے میری ایک سربراہ، فرحت آصف نے منتخب کیا تھا، کیوں کہ اس ایوارڈ کے لیے آپ خود اپنے آپ کو منتخب نہیں کرسکتے یعنی خود سے اپلائی نہیں کرسکتے۔ وہ 2017 کے یو این ڈی پی ایوراڈ کی فاتح رہی تھیں۔ انہوں نے ایک دن مجھے سے کہا کہ تم مجھے اپنی مکمل پروفائل بھیجو۔ مجھے کسی ایوارڈ کے لیے تمہارا نام دینا ہے، میں نے اپنی پروفائل بھیج دی۔ کچھ دن گزرنے کے بعد مجھے یواین ڈی پی کی طرف سے ای میل آئی کہ ہم آپ کی ایپلی کیشن کو دیکھ رہے ہیں، لیکن اس کے لیے ہمیں مزید ثبوت چاہیے۔ اُس وقت تک مجھے نیشنل لیول پر کوئی سترہ ایوارڈز مل چکے تھے۔ میں نے انہیں ان تمام ایوارڈز کی تصاویر اور مکمل تفصیلات بھیج دیں۔ اس کے بعد ایک ای میل آئی کہ آپ کا نام اس ایوارڈ کے لیے شارٹ لسٹ ہو چکا ہے اور آگے اس کاطریقے کار یہ ہوگا کہ پاکستان سے کل 6 خواتین نام زد ہوئی ہیں۔ ان خواتین کی اسٹوریز ہم سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کریں گے اور ان پر صارفین کو ووٹ کرنا ہوگا، جس کے سب سے زیادہ ووٹ ہوں گے وہ اس ایوارڈ کا حق دار ہوگا۔ یہ ووٹنگ کا سلسلہ تقریبا ً ایک مہینے تک جاری رہا۔ اسی دوران ایک حادثے میں میرا پیر فریکچر ہوگیا تو میں بیڈ ریسٹ پرچلی گئی۔ ایک دن صبح سوکر اُٹھی تو میرے موبائل پر بہت سارے میسجز آئے ہوئے تھے کہ ’’تم جیت گئی‘‘۔ اُس وقت مجھے یہ سمجھ ہی نہیں آیا کہ یہ کس جیت کے میسجز ہیں، اتنے میں میرے بھائی کا میسج آیا کہ، مبار ک ہو یو این ڈی پی کا ایوارڈ تم جیت گئی ہو۔ میں بتا نہیں سکتی کہ وہ لمحہ میرے لیے کتنازیادہ خوشی کا تھا۔ اس ایوارڈ کو وصول کرنے کے لیے مجھے تھائی لینڈ جانا تھا۔ میرا ویزا آگیا اور ٹکٹ بھی ہوگیا، مگر کچھ حالات کی خرابی کی وجہ سے ائیرپورٹ بندہوگیا اور ساری فلائٹس منسوخ کردی گئیں، اسی وجہ سے میں تھائی لینڈ تو نہیں جاسکی لیکن یواین ڈی پی کی ٹیم نے مجھے یہ ایوارڈ پاکستان بھیجوادیا، پھر میں نے یہ ایوارڈ اپنے ابو کے ہاتھوں وصول کیا۔ اس ایوارڈ کی فاتح قرار پانا میرے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں، کیوں کہ اس کے لیے پوری دنیا سے لوگ منتخب کیے جاتے ہیں۔

س:آپ کے فری اسکول میں اس وقت کتنی طالبات تعلیم حاصل کررہی ہیں؟ان کا تعلق کن کن علاقوں سے ہیں؟ان کےوالدین کیا کہتے ہیں؟

ج:اس وقت تقریباً120 طالبات تعلیم حاصل کررہی ہیں، ان سب کا تعلق لیاری سےہے۔ ان کےوالدین پہلے تو بہت برا بھلا کہتے تھے اور طرح طرح کی باتیں بھی کرتے تھے کہ تم یہ کیا کررہی ہو،ہمارے بچوں کو بگاڑ رہی ہو، انہیں خراب کررہی ہو، تاہم جیسے جیسے وقت گزرتا گیا ان لوگوں کو یہ بات سمجھ آگئی کہ، میں جو کچھ کررہی ہوں، ان کی بچیوں کی بھلائی کے لیے کررہی ہوں، اب تمام والدین بہت خوش ہیں بلکہ دوسروں کو بھی مشورہ دیتے ہیں کہ اپنی بچیوں کوبھی اس اسکول میں پڑھنے کے لیے بھیجا کرو۔ سب سے زیادہ خوشی کی بات یہ ہے کہ اب والدین ہمارےاسکول سے بہت مطمئن ہیں۔

س:اس کے علاوہ بھی آپ اور کوئی کام کرتی ہیں؟

ج: اس کے علاوہ میں ایک انٹرنیشنل آرگنائزیشن میں جاب کرتی ہوں۔

س: مستقبل میں اسکول کو مزید کس طرح بہتر بنائیں گی؟

ج:اس کام میں اگر مجھے گورنمنٹ کی طرف سے سپورٹ ملتی ہے تو میں سب سے پہلے اسکول کی جگہ تبدیل کرنا چاہوں گی اور گورنمنٹ سے اپیل کروں گی کہ وہ ہمیں اس اسکول کو بہتر کرنے کے لیے کوئی بڑی جگہ فراہم کریں، تاکہ اسکول کے معیار کو مزید بہتر کیا جاسکے اور لیاری کے علاوہ دوسرے علاقوں میں بھی اس کی شاخیں کھولی جاسکیں۔ بہت جلد ہم اسکول کی دوسری شاخ لیاری میں ہی کھول رہے ہیں، جس کی منصوبہ بندی ابھی چل رہی ہے۔ میری خواہش ہے کہ، میں پاکستان کی شرح ناخواندگی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کروں۔ مجھے اس کام میں بہت سارے اوورسیز پاکستانی بھی سپورٹ کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ ہم یہ بھی کوشش کررہے ہیں کہ مزید ایک اسکول رجسٹرڈ کروالیں۔ لیکن اس کے لیے کچھ چیزوں کو پورا کرنا ہوتا ہے۔ جیسا کہ زمین اتنے گز کی ہو ، ماہانہ آپ کے پاس اتنا پیسہ ہو وغیرہ وغیرہ۔ان سب پر ہم کام کررہے ہیں اور بہت جلد اس میں کام یابی بھی حاصل کرلیں گے ۔ میرا مقصد یہ ہے کہ پڑھو بھی پڑھاؤ بھی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں