آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات17؍ صفرالمظفّر1441ھ 17؍ اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

اس دور میں ماہرین توانائی حاصل کرنے کے لیے متعدد طریقے وضح کررہے ہیں ،تاکہ اس کی کمی کو بآسانی پورا کیا جاسکے ۔ ان میں سے چند کے بارے میںذیل میں موجود ہے

سمندری پانی کے استعمال سے … ہائیڈروجن انرجی

پانی کے مالیکیول ہائیڈروجن اور آکسیجن سے مل کر بنتے ہیں اگرہم کسی طریقے سے ہائیڈروجن اور آکسیجن بانڈکو علیحدہ کرنے میں کامیاب ہوجائیں ، مثلاً سمندری پانی کے مالیکیول کو تو یہ ہائیڈروجن گیس فراہم کریں گے جو کہ بڑی مقدار میں توانائی کا ذریعہ ہے، کیوں کہ ہائیڈروجن کے جلنے سے توانائی خارج ہوتی ہے اور اس کی ذیلی مصنوعات کے طور پر پانی حاصل ہوتاہے ۔ قدرت نے بعض انزائم (Hydrogenases)تخلیق کئے ہیں جن کے اندر ہائیڈروجن اور آکسیجن میں فوٹوسنتھیسز کے عمل کے ذریعے شگاف ڈالنے کی صلاحیت ہوتی ہے ۔لیکن یہ عمل صنعتی سطح پر استعمال نہیں کیاجا سکتا ،کیوں کہ یہ انزائم انتہائی غیر مستحکم ہوتے ہیں اور اپنے قدرتی ماحول سے نکلتے ہی ختم ہوجاتے ہیں ۔کئی ایسے عمل انگیزCatalyst تیار کئے گئے ہیں جو ان تعامل کو حاصل کر سکتے ہیں لیکن یہ بہت مہنگی دھاتوں مثلاً پلاٹینیئم پر مشتمل ہیں یوسی برکلے کے شعبہ کیمیا کے سائنس دانوں نے حال ہی میں ایک سستے Molybdenumعمل انگیز کے بارے میں انکشاف کیا ہے جوکہ پلاٹینیم کے مقابلے میں70فی صد سستا ہے اور اس کو صنعتی پیمانے پر استعمال کیا جا سکتاہے ۔کئی ممالک میں ایسی کاریں چلائی جا رہی ہیں جو ہائیڈروجن سے چلتی ہیں ۔امریکا ، یورپ اور جاپان میں پیٹرول کے بجائے ہائیڈروجن سے ملنے والے فلنگ اسٹیشن کاایک جال قائم ہے ۔پاکستان بھی 2050 ء تک معدنی تیل پر انحصار کرنے کے بجائے سمندر سے حاصل کردہ ہائیڈروجن کو اپنی توانائی ضروریات کے لئے استعمال کرسکتا ہے ۔

گرم چٹانوں سے حاصل ہونے والی توانائی

Cornwallبرطانیہ میں گرم چٹانوں سے توانائی کے حصول کے منصوبے پر غور کیا جا رہا ہے یہ چٹانیں 150 ڈگری سینٹی گریڈسے زائد حرارت کا اخراج کرتی ہیں ۔3 میگاواٹ کا کمرشل تھرمل توانائی کا پلانٹ زمین کی سطح سے 3 سے 4 کلومیٹر اندر سے حرارت کو جذب کرے گا ۔ اس منصوبے میں پہلے زمین کے اندر ایک سوراخ کیا جائے گا اور پھر زیادہ دبائو پر اس سوراخ میں پانی پھینکا جائے گا اس سے گرم چٹانوں ( Hot Rocks)میں چھوٹے چھوٹے شگاف پڑجائیں گے اور چٹان نہ صرف پھیل جائے گی بلکہ اس میں باریک نالیوں کا ایک جال بھی بن جائے گا ان باریک نالیوں کے جال سے گزر نے والی بھاپ کو ٹربائن چلا نے کے لئے استعمال کیا جا ئے گا جوکہ بجلی پیدا کرنے کے کام آئیں گے ۔

مائیکروب سے ایندھن کا حصول

فوسل فیول یا معدنی تیل کی محدود مقدار کی وجہ سے سائنس دانوں نے حیاتیاتی ایندھن ( بایو فیول ) کی تیاری کی طرف توجہ مرکوز کی ہے جو کہ آپ کی کاریں یا جنریٹر چلانے کے کام آسکے ۔ ان بایو فیول کے لئے پودوں کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ پودے قابل کاشت زمین اور تازہ پانی کے استعمال کے محتاج ہوتے ہیں۔ چناں چہ ان کو دوسری نقد آور فصلوں سے مقابلے کا سامنا ہوتا ہے دوسری نسل کا بایو فیول الجی سے تیار کیا جا تا ہے ۔ الجی سادہ نامیاتی اجسام ہوتے ہیں جو کہ ایک خلوی یاکثیر خلوی ہو سکتے ہیں ۔ (مثلاًسمندری جھاڑیاں) زیادہ تیل کی حامل الجی کوبرتن میں اُگایا جا سکتا ہے اور پھر ان سے بایو فیول جزونکالا جا سکتا ہے ۔ شعائی تالیف کے عمل میں الجی کاربن ڈائی آکسائیڈ اور سورج کی روشنی اپنے اندر جذب کرکے بایو ماس ،( جس میں قیمتی تیل بھی شامل ہے ) اور آکسیجن خارج کرتی ہے ۔ الجی سے حاصل ہونے والا بایو فیول معدنی تیل کے مقابلے میں کافی مہنگا ہے ۔

نیوکلئیر فیوژن …لا محدود توانائی کی جستجو

ستارے جس میں ہمارے سورج بھی شامل ہے نیو کلئیر فیو ژن کے ذریعے توانائی پیدا کرتے ہیں ۔اس عمل میں دویا دوسےزائد ایٹمی نیو کلیائی (مثلاً ہائیڈروجن ) ایک دوسرے سے مل کرایک نیابھاری ایٹم (مثلاً ہائیڈروجن )بناتے ہیں۔ اس عمل میں توانائی کی بڑی مقدار پیدا ہوتی ہے یہ سورج پر وقوع پذیر ہونے والا نیوکلیئر فیوژن ری ایکشن ہے جوہمارے کرہ ٔا رض کو گرم رکھتا ہے اور جس کی وجہ سے یہاںزندگی قائم ہے ۔

لارنس لیور مور نیشنل لیبارٹری کے National Ignition Faculty (NIF)مرکزامریکا میںایک بہت بڑی لیزر ، جس کی جسامت تین فٹ بال گرائونڈ کے برابرہوگی ۔ یہ ابھی تیار ی کے مراحل میں ہے ،اس میں سورج پر وقوع پزیر ہونے والے عمل کی نقل کی جائے گی ۔ یہ ہائیڈروجن کی دوشکلوں آئسوٹوپ،ڈیوٹریم اور ٹر یٹئم کو جوڑے گی ۔ ایک بڑی لیزر شعاع اس کو آگے اور پیچھے تقریباً1میل کے فاصلے پر دھکا دینے سے چارج ہوگی ۔ بعدازاں یہ 192 شعاعوں میں تقسیم ہوجائے گی اور ایک مرتکز اندازسے ایک چھوٹے سے نکتے پرمرکوزہوگی، جس میں ڈیوٹریم اور ٹرٹئیم ہوںگے ۔

ان مرتکزشعاعوں سے چارج ہونے والا درجۂ حرارت 100 ملین ڈگری سینٹی گریڈ تک ہوگا جوکہ سورج سے بھی گرم ہے، اس کے ساتھ ہی 100 بلین فضائی دبائو پیدا ہوگا۔اس کے نتیجے میں ہونے والے فیوژن ری ایکشن کو لیزر سے فراہم کی جانے والی توانائی کی نسبت کئی گنا مزید،توانائی خارج کرنی چاہیے۔ اگر اس نے عملی طور پر کام کرنا شروع کردیا تو سمندری پانی جوکہ ہائیڈروجن اور اس کے آئسوٹوپ کا اہم ذریعہ ہے۔ ہمارے کرۂ ا رض پر توانائی کا سب سے اہم ماخذ بن جائے گا۔مستقبل میں ہر ملک میں ہزاروں چھوٹے چھوٹے سورج کی تخلیق عمل میں آئے گی ۔اور یہاںسے قومی گرڈ اسٹیشن کو بجلی فراہم کی جائے گی اور پھر یہ ہمارے کر ہ ٔا رض کی توانائی کے موجودہ ماخذمعدنی تیل کو تبدیل کرکے اس کی جگہ لے لے گا۔

جیٹ انجن کے ڈیزائن پر ہوا ئی ٹربائن

یورپ اور امریکا میں جگہ جگہ بڑی بڑی ونڈمل (پن چکی )لگی نظر آئیں گی ان میں موجود تینوں بلیڈ بجلی پیدا کرنے کے کام آتے ہیں، یہ ہوا کے ٹربائن بہت مستعد نہیں ہیں ،کیوں کہ نصف ہوا بلیڈ کے اندر سے نہیں گزرتی بلکہ اس کے ارد گرد سے گزرجاتی ہے ۔امریکی کمپنی FloDesignنے ایک نئی قسم کا ہوا سے چلنے والا ٹربائن تیار کیا ہے ،جس کو جیٹ انجن کے ڈیزائن سے اخذ کیا گیا ہے ۔اس میں بلیڈ کا سائز ایک عام ٹربائن کے مقابلے میں نصف ہوتا ہے ،مگر یہ یکساں مقدار کی بجلی پیدا کرتا ہے ۔اس کا ایک اور فائدہ یہ بھی ہے کہ بلیڈ کی جسامت چھوٹی ہونی کی وجہ سے ایک ایکڑ زمین میں زیادہ مقدار میں ٹربائن لگائے جاسکتے ہیں ۔اس کا ایک چھوٹا ابتدائی نمونہ Wind tunnelآزمائش کے مرحلے میں ہے۔ اس کے بعد12فیٹ کے قطر کا ایک بڑا ٹربائن بنایا جائے گا ،جس میں 10 کلوواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہوگی ۔اس کے بعد میگاواٹ میں پیداوار کی توقع ہے ۔

بجلی بنانے والے اسٹریٹ لیمپ

اسٹریٹ لیمپ کو ہمیشہ بجلی استعمال کرنے کے حوالے سے جانا جا تا ہے Aarhusمیں واقعScotia،ڈنمارک میں نئے قسم کے اسٹریٹ لیمپ بنائے گئے ہیں جو دن کے وقت سورج کی روشنی سے بجلی تیار کریں گے اور یہ بجلی قومی گرڈ کو فراہم کی جائے گی یہ لیمپ Photo Voltaicسولر سیل سے ڈھکے ہوتے ہیں،تا کہ ان کو زیادہ سے زیادہ سطحی رقبہ حاصل رہے،نیز یہ شمسی سیل بادلوں والے موسم میں بھی بجلی بنا سکتے ہیں یہ اسٹریٹ لیمپ جتنی بجلی استعمال کرتے ہیں اس سے زیادہ بجلی تیار کرتے ہیں اور انہیں اس لحاظ سے ماحول دوست بھی سمجھا جا تاہے۔

سورج کی روشنی سے حاصل ہونے والا بایو فیول اور گرین ہاؤس گیس

پیٹرولیم اور دوسرے معدنی ایندھن کے چلنے سے مختلف گرین ہائوس گیس مثلاً کاربن ڈائی آکسائیڈ بنتی ہے ۔ یہ عالمی درجۂ حرارت میں اضافہ کا سبب ہے ۔کیا ہم اس عمل کوالٹا کرسکتے ہیں یعنی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو بایو فیولز تیارکرنے میں استعمال کیا جائے ۔ اس طرح فضاء سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کی کمی کا عمل واقع ہوگا جوکہ ماحول کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا ۔یہ مقصد ایسی فصلوں کی افزائش سے حاصل کیا جا سکتا ہے کہ جو حیاتیاتی ایندھن (بایوفیول ) بناتی ہیں ۔یونیورسٹی آف Minnesotaکے سائنس دان پروفیسر ویکٹ اور ان کے ساتھیوں نے انکشاف کیا ہے کہ یہ کام دو بیکٹیریا کو استعمال کرکے کیا جا سکتا ہے ۔پہلا بیکٹریم (Staphilococci)کاربن ڈائی آکسائیڈ کو سورج کی روشنی کی موجودگی میں استعمال کرتے ہوئے شکر میں تبدیل کردیتا ہے یہ شکر دوسرے بیکٹیریا (Shewanella)کی مدد سے ایسے مرکبات میں تبدیل ہوجاتی ہے ،جس کو حیاتیاتی ایندھن کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ اس پروڈکٹ کو Renewable Petroliumکا نام دیا گیا ہے۔

استعمال شدہ موٹر آئل کا بطور گاڑی کے ایندھن استعمال

ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں آٹوموبائل صنعت ہر سال تقریباً 8بلین ٹن استعمال شدہ موٹر آئل بناتی ہے ۔اس کی اکثر مقدار ضایع کردی جاتی ہے اور کچھ مقدار کو ری سائیکل یا دوبارہ استعمال کے قابل بنایا جا تا ہے لیکن یہ عمل ماحول دوست نہیں ہے اس عمل میں تیل کو بہت بلند درجہ ٔحرارت پر آکسیجن کی غیر موجودگی میں (Pyrolysis)گرم کیا جا تا ہے جو اس کو بعض مایع،گیس اورٹھوس میں توڑ دیتے ہیں ۔ گیس اور مایع کوبطور ایندھن استعمال کیا جا سکتا ہے ، مگر یہ عمل غیر ہموار حرارت کی وجہ سے بہت تیز نہیں ہوتا ۔ کیمبرج یونیورسٹی میں کام کرنے والے محققین کے مطابق اس میں اگر مائیکروویوجذب کرنے والے مواد کو شامل کرکے پھر مائیکروویو کے ساتھ گرم کیا جائے تو اس عمل کے نتیجے میں روائتی گیسولین اور ڈیزل حاصل ہوگا ۔

لچکدار شمسی سیل

بازار میں ملنے والے شمسی سیل کی کارکردگی 18 فی صد تک ہے، ان کی بجلی پیدا کرنے کی زیادہ لاگت کی وجہ ان کا تجارتی استعمال بہت محدود ہے۔ شمسی سیل سے تیار کی جانے والی بجلی کی لاگت 4ڈالر فی واٹ ہے ۔ یہ دوسرے ذرایع سے تیار کی جانے والی بجلی کے مقابلے میں 10 گنا مہنگی ہے۔ چناں چہ یہ ان دور دراز علاقوں میں جہاں گرڈ سسٹم موجود نہیں ہے۔ان علاقوں کے سوا کہیں بھی مالی لحاظ سے قابل قبول نہیں ہیں شمسی سیل میں استعمال ہونے والے سیلیکون کے ویفرز کی جگہ پولی کرسٹلائن سیلیکون کا استعمال کیا جائے تو یہ قیمت میں کافی سستا ہوجائے گا ،تاہم اس کی کا رکردگی نسبتاًکم ہوگی۔

اگلی نسل کے شمسی سیل میں چھپا ہوا مواد Printed Material شامل ہے، جس کو بہت کم قیمت پر بڑی مقدار میں بنایا جا سکتا ہے یہ نئے مواد اور (Copper-Induim-Galuim-Selenide, Cadmium telluride, Amorphous Silicon and Micromorphous silicon) پرمبنی ہے ان کی کارکردگی ۔10 سے 15 فی صدکم ہے لیکن کم لاگت کی وجہ سے یہ مقابلے کی پوزیشن میں ہیں ۔توقع کی جارہی ہے کہ جلدہی یہ پہلی نسل کے سیلیکون ویفرز پر مشتمل سیل کی جگہ لے لیں گے۔سوئس تحقیق نے لچکدار شمسی سیل دریافت کرکے ایک اور حیرت انگیز کار نامہ انجام دیا ہے ( یہ Copper Indium Galium Selenide (CIGS)سے بنے ہیں)۔ان کی کارکردگی سیلیکون ویفر سیل کے مساوی یعنی 18فی صدہے ۔ 

سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے مزید
ٹیکنالوجی سے مزید