آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں فائرنگ کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، اس حوالے سے آسٹریلوی حکام نے بھارت کی ایجنسیز سے رابطہ کر لیا ہے۔
بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ آسٹریلوی حکام نے بھارت کی ایجنسیز سے رابطہ کیا ہے۔
آسٹریلیا میں سڈنی کے بونڈائی بیچ پر باپ بیٹے کی فائرنگ کے واقعے میں 16 افراد کی ہلاکت کی تحقیقات جاری ہیں۔ ایک حملہ آور 50 سالہ ساجد اکرم موقع پر ہلاک جبکہ اس کا 24 سالہ بیٹا نوید اکرم زخمی ہو کر اسپتال میں زیر علاج ہے۔ آسٹریلوی میڈیا کے مطابق نوید اکرم کوما میں ہے۔
آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے واقعے میں کسی انتہا پسند گروپ کے ملوث ہونے کا امکان مسترد کردیا۔
انہوں نے کہا کہ دونوں مسلح افراد نے اکیلے کارروائی کی۔ جو شدت پسند نظریات سے متاثر لگتے ہیں۔
50 سالہ ساجد اکرم کے بارے میں آسٹریلوی حکام کا کہنا ہے کہ وہ 1998 میں اسٹوڈنٹ ویزا پر آسٹریلیا آیا تھا۔ اس کا بیٹا نوید اکرم آسٹریلیا میں ہی پیدا ہوا۔
آسٹریلوی حکام کو 2019 میں شبہ ہوا تھا کہ نوید اکرم کے داعش کے لوگوں سے رابطے میں ہیں۔ البتہ تحقیقات کے بعد اسے غیر خطرناک قرار دے دیا گیا۔ بونڈائی بیچ پر حملہ آوروں کی گاڑی سے داعش کے دو جھنڈے ملے ہیں۔
آسٹریلوی حکام نے تاحال یہ نہیں بتایا ہے کہ ساجد اکرم 1998 میں کس ملک سے آسٹریلیا پہنچا تھا۔ تاہم تازہ ترین اطلاعات کے مطابق بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ آسٹریلوی حکام نے حملہ آور کے پس منظر کے بارے میں جاننے کے لیے بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی سے رابطہ کیا ہے۔
بھارتی میڈیا نے بتایا ہے کہ بھارتی انٹیلی جنس نے آسٹریلیا کو تحقیقات میں بھرپور تعاون کا یقین دلایا ہے۔
اس سے پہلے نوید اکرم کے ساتھ کام کرنے والا ایک شخص یہ دعویٰ کرچکا ہے کہ اس کے خیال میں نوید اکرم کے والد ساجد اکرم کا تعلق بھارت سے ہے جبکہ ماں اطالوی ہے۔