آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل12؍ذیقعد 1440ھ 16؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میری جوانی اخبار نویسی میں گزری۔ اس دوران کیسے کیسے منظر دیکھے، بیان کرنا مشکل ہے۔ ایک بات جو ہر روز سننے میں آتی تھی وہ یہ کہ لوگ ایک روز بیان جاری کرتے اور اگلے روز مُکر جاتے۔ یہ ایک معمول سا بن گیا تھا۔ اُس کے بعد جو جملہ سننے میں آتا تھا اور آج تک آتا ہے وہ یہ تھا کہ میرا بیان توڑ مروڑ کر شائع کیا گیا ہے۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب خبر رسانی کا سب سے بڑا ذریعہ چھپا ہوا اخبار ہوا کرتا تھا۔ بے چارے نامہ نگاروں اور رپورٹروں پر ہمیشہ یہ الزام دھرا جاتا تھا کہ انہوں نے بیان توڑ مروڑ کر شائع کیا ہے۔

اب جو وہ فرسودہ نظام ختم ہوا اور کیا تحریر، کیا تصویر، کیا آواز اور کیا بدن کی حرکات و سکنات، سب یوں محفوظ ہونے لگیں کہ تردید یا انکار کرنے کی گنجائش نہیں رہی، لوگ اب تک وہی بھونڈی شکایت دہراتے ہیں، وہی توڑنے مروڑنے والی بات لیکن اب تو لوگوں کی کہی ہوئی بات یوں محفوظ ہو جاتی ہے کہ انکار کرنے یا منحرف ہونے کا امکان نہیں رہتا۔ یوں سمجھئے کہ کسی بااختیار شخص نے کسی عدالت کے منصف کو ٹیلی فون پر کہا کہ فلاں شخص کو ذرا سخت سزا دینا۔ آج کل کے برقی آلات ایسے چالباز ہو گئے ہیں کہ اس طرح کی ٹیلی فونی گفتگو محفوظ کر لیتے ہیں اور اگر وہ گفتگو نشر ہو جائے تو وہ اتنی سچی اور حقیقی گواہی ہوتی ہے کہ اس پر دروغ گوئی کا الزام نہیں لگ سکتا۔ گفتگو کرنے والے کو انکار یا تردید کرنے کی جرأت نہیں ہوتی اور وہ بات ایک ایس گہری لکیر بن جاتی ہے جو کسی پتھر پر کھودی گئی ہو۔ مثلاً میں اگر کہہ دوں کہ لندن تو کیا، پاکستان میں بھی میری کوئی جائیداد نہیں تو میری یہ بات پھر مٹ نہیں سکتی۔ پھر میڈیا میرے اس ایک فقرے کو اس طرح بار بار دہرا سکتا ہے جیسے ایک ہی زخم پر ہر روز نمک چھڑکا جا رہا ہو۔ یہ الگ بات ہے کہ میں پھر ایسا بھولا اور نادان بن جاؤں جیسے میں نے یہ بات کبھی کہی ہی نہیں تھی۔ اس میں ذرا سا حیا کا معاملہ ہے مگر ان دنوں حیا نے دل و دماغ میں چٹکیاں لینا چھوڑ دیا ہے، کس کو پڑی ہے کہ اپنے کہے پر نادم اور شرمسار ہو۔ لوگ دلیر ہو گئے ہیں لیکن ان باتوں سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ جدید ٹیکنالوجی آجانے کے بعد حقیقت کو توڑنا مروڑنا ممکن نہیں رہا۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ جیسی ہیرا پھیری اور جعل سازی اب ہوتی ہے، گزرے وقتوں میں کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ اِدھر کا بیان اٹھا کر اُدھر چپکا دینا، یہاں کا فقرہ نکال کر وہاں چسپاں کر دینا، زیر زبر بدل دینا، لفظ مٹا دینا، فقرہ حذف کر دینا، عبارت کو تہ و بالا کردینا، اب بیحد آسان ہو گیا ہے اور اگر آپ بوڑھے ہو گئے ہیں اور یہ ہیرا پھیری نہیں کر پا رہے تو گھر کے لڑکے لڑکیوں سے کہئے، وہ پلک جھپکتے میں کر دیں گے۔

یہ تو خیر تحریر کی بات ہوئی، تقریر میں بھی اتنی الٹ پھیر ہو سکتی ہے کہ تقریر والا خود سنے تو حیران رہ جائے کہ اُس نے یہ سب کہا ہی نہیں تھا۔ الفاظ آگے پیچھے اور فقرے اوپر نیچے کرنا بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ اسی طرح آواز کا بدلنا، میری آواز کو بھاری بھرکم کرنے یا باریک یا نسوانی بنا دینے میں بس اتنا ہی وقت لگتا ہے جتنا پلک جھپکنے میں۔ میرا بی بی سی کا زمانہ پرانی ریل پر چلنے والے ٹیپ کا دور تھا۔ ساری ریکارڈنگ ایک چرخی سے کھل کر دوسری چرخی پر لپٹنے والے فیتے پر ہوتی تھی۔ اس میں ساری کاٹ چھانٹ کے لئے ٹیپ یا فیتے کو بلیڈ سے کاٹا جاتا تھا۔ ایک لفظ نکالنا ہو یا ایک فقرہ، وہ سب کچھ بلیڈ سے کاٹ کر نکالا جاتا تھا۔

پھر کرنا خدا کا یوں ہوا کہ اس ساری دقیانوسی چرخی کاری کی جگہ سامنے میز پر رکھے ہوئے کمپیوٹر کے پردے پر آواز یوں نمودار ہو گئی کہ وہ نہ صرف سنائی دیتی تھی بلکہ لہروں کی شکل میں دکھائی بھی دیتی تھی۔ بس پھر آپ پوری طرح آزاد تھے کہ آواز کے ساتھ جیسی اکھاڑ پچھاڑ کرنا چاہیں، شوق سے کریں۔ یہاں کی بات وہاں اور وہاں کی آواز یہاں چسپاں کرنے کیلئے بس ایک بٹن دبانا ہوتا تھا۔ (شکر ہے اُن ہی دنوں میں ملازمت سے سبک دوش ہوگیا)۔

تحریر اور تقریر کے بعد تصویر کا تو بس کچھ نہ پوچھئے۔ جتنی جعل سازی اور ڈھونگ بازی تصویر میں ہو سکتی ہے اس کو بیان کرنا تو کیا، تصور کرنا بھی دو بھر ہے۔ ادھر کیمرہ شاپ نام کی کوئی بلا ایجاد ہو گئی ہے۔ اس سے تو خدا سب کو محفوظ رکھے۔ اس میں ڈال کر آپ تصویر کے ساتھ وہی سلوک کر سکتے ہیں جو گائے اپنی جگالی کے ساتھ کرتی ہے۔ اسے بگھارئیے، ابالئے، کھنگالئے، نتھارئیے اور انسان کو پلک جھپکتے میں گدھا بنا دیجئے۔ جس کے سر پر چاہے سینگ اگا دیجئے یا سامنے کے دو دانتوں کو ڈریکولا جیسے خون چوسنے والے دانت بنا دیجئے۔ ہم نے ٹیلی وژن پر ایسے منظر دیکھے ہیں جو کبھی وجود ہی میں نہیں آئے لیکن اسکرین پر یوں نظر آئے جیسے سچ مچ ظہور میں آئے ہوں۔ اس سارے کام کے لئے آپ کا مصور یا کاریگر ہونا ضروری نہیں۔ بس کی بورڈ پر دوڑتی ہوئی انگلیاں ایسی ایسی کرامات دکھا سکتی ہیں کہ انسان ایک لمحے میں فرشتہ اور دوسرے میں شیطان نظر آسکتا ہے۔

ان سارے کمالات کے بعد جعل سازوں کے مزے آگئے ہیں۔ آپ دنیا کی جو دستاویز چاہیں چھاپ کر نکال سکتے ہیں۔ کسی عظیم درس گاہ کی سند ہو یا کسی ملک کی بڑی سے بڑی مالیت کی کرنسی، بس وہی ایک بٹن دبائیے، محبوب آپ کے قدموں میں ہوگا۔

ان حالات میں عدالتوں کا کام دشوار ہوا جاتا ہے۔ کیا اصلی ہے کیا جعلی، کیا حقیقی ہے کیا فرضی، بادی النظر یا کسی بھی نظر میں کچھ ثابت نہیں ہوتا۔ اب آپ سارا تام جھام اٹھا کر کسی جدید لیبارٹری میں جائیے، وہاں ماہرین مل کر سر کھپائیں اور فرانزک ٹیسٹ کریں تو پتا چلے کہ اس میں کتنا جھوٹ ہے اور کتنا مہا جھوٹ۔

پھر بھی کوئی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ پانی کا پانی ہوا، وہ بھی گندے جوہڑ کا، یا دودھ کا دودھ، وہ بھی پھٹا ہوا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں