آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ15؍ ربیع الثانی 1441ھ 13؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

’غیر قانونی فلٹر پلانٹس‘ پولیس کا کریک ڈاؤن

تاریخی حیثیت کا حامل عمرکوٹ شہرجو لوک داستانوں اور مغل بادشاہ ہمایوں کی جلاوطنی اور اکبر اعظم کی جنم بھومی کے حوالے سے جانا پہچانا جاتا ہے، گزشتہ چند سالوں سے جرائم کی آماج گاہ بناہ ہوا ہے۔ اس شہر میںچوری ، ڈاکہ زنی، قتل و غارت گری ، اغوا برائے تاواناور دیگر چھوٹے بڑے جرائم کی وارداتیں عام ہیں ۔ منشیات کی لعنت سے بھی یہ شہر محفوظ نہیں ہے جب کہ منشیات کی فروخت اور دیگر سماجی برائیوں کے علاوہ شراب کے اڈے پولیس کی سرپرستی میں چل رہے ہیں۔لیکن ان سب جرائم سے قطع نظر، شہر میںجرم کی ایک نئی صنف ’’آبی جرائم‘‘ متعارف کرئی گئی ہے جس کی وجہ سے شہریوں کی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ ضلع میں سرکاری سطح پر عوام کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے جس کا فائدہ اٹھا کر مفاد پرستوں نے مختلف مقامات پر غیر منظور شدہ فلٹرآر او پلانٹس لگا لئے ہیں جہاں سے عوام کو مضر صحت پا نی فروخت کیا جارہا ہے۔ عمرکوٹ ضلع میں پینے کے صاف پانی کی 30 سے زائد فلٹر پلانٹ فیکٹریاں ،غیر معیاری اور مضر صحت فلٹر شدہ پانی، بوتلوں میںخوش نما پیکنگ کے ذریعے عمرکوٹ کی عوام میں فروخت کرکے لاکھوں روپے روزانہ کما رہے ہیں ۔ اس کاروبار سے وابستہ افراد کو نہ تو پانی فلٹر کرنے کاتجربہ ہے اور نہ ان کے پاس اس کام کے ماہرملازمین موجود ہیں۔مذکورہ پانٹس میں پانی کو صاف کرنے کیلئے غیرمعیاری پھٹکری اور دیگر مضر صحت کیمیکلزجوہڑ، تالابوں اور بورنگ کےپانی کو صاف کرنے کے لیے استعمال کرتےہیں۔

روزنامہ جنگ کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق عمرکوٹ ضلع میں30 سے زائدواٹر فلٹر پلانٹس کام کررہے ہیں جن کی تنصیب غیر قانونی طو پر کی گئی ہے۔ کچھ عرصے قبل سپریم کورٹ نے ان پلانٹس کےخلاف کارروائی کا حکم دیا تھاجس کے بعد بعض اداروں کی جانب سے ان کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا گیا تھا۔ کئی فیکٹریوں پر پولیس اور متعلقہ ادارے کی جانب سے اچانک چھاپہ مار کر پانی کی کوالٹی چیک کرنے کے لیے لیبارٹری ٹیسٹ کرایا گیا جس میں شامل کیمیکل اانسانی جانوں کے لیے ہلاکت خیز پایا گیا جس کے بعد دو فیکٹریاں سیل کردی گئیں۔ 28 واٹر پلانٹس پر پولیس نے منسٹری آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر انعام الحق کی سربراہی میں چھاپے مارے۔

کولہی کالونی کی رم جھم واٹر فیکٹری جس کا مالک حبیب اللہ سمیجونامی شخص ہے غیر قانونی طور پر کام کررہی تھی۔ چھاپہ مار ٹیم مذکورہ فیکٹری سیل کرکے پانی کے نمونے تجزئیے کے لیے اپنے ساتھ لے گئی۔ منوں مالہی علاقے میں سروپ مالہی نامی شخص کی فیکٹری سیل کردی گئی۔ 28 سے زائد غیرمعیاری پانی کی فیکٹریوں کے مالکان چھاپے مارٹیم کی کارروائیوں کا سن کر فیکٹریوں کو تالے لگاکے فرار ہوگئے ہیں ۔اس سلسلے میں سول سوسائٹی کا کہنا ہے کہ حکومت خود واٹر بیوریفکیشن پلانٹس لگا کر شہریوں کو حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق فلٹر کیا ہوا پینے کا صاف پانی فراہم کرے۔ غیر قانونی و غیر رجسٹرڈ واٹر پلانٹس سے فروخت ہونے والا پانی انتہائی غیر معیاری اور مضر صحت ہوتا ہے جس سے شہری امراض شکم سمیت دیگر متعدی بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں۔ 

جرم و سزا سے مزید
جرم و سزا سے مزید