آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 23؍ذوالحجہ 1440ھ 25؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
رابطہ…مریم فیصل
آج وہ دن ہے جب برطانیہ کو معلوم ہوجائے گا کہ کون ہوگا ہمارا نیا وزیر اعظم ۔ منتخب ہونے والا وزیر اعظم تین سال کے عرصے میں برطانیہ کا تیسر ا وزیر اعظم ہو گا ۔ 2016 تک کیمرون وزیر اعظم تھے لیکن جب برطانوی عوام نے بریگزٹ کے حق میں ووٹ دیا تو برطانوی سیاست کے اصولوں کے تحت کیمرون نے اپنی کرسی خالی کردی اور پارٹی لیڈر شپ کے ساتھ ملکی لیڈر شپ بھی تھریسامے کے ہاتھ میں آگئی۔ رواں برس2019 تک اسی کوشش میں رہیں کہ کسی بھی طرح بریگزٹ کو مکمل کرلیں لیکن نہ ہی برطانیہ اور یونین کی علیحدگی کا عمل مکمل ہوا نہ ہی وہ اپنی کرسی بچا سکیں اور آنسو بہاتے ہوئے انھوں نے وزرات چھوڑنے کا اعلان کردیا۔ اب ایک بار پھر وزرات کی کرسی خالی ہے۔ جس کے لئے بورس جانسن اور جیرمی ہنٹ ایک دوسرے کے مد مقابل ہیں۔اب تک کے نتائج کے مطابق تو بورس جانسن کے اگلے وزیر اعظم منتخب ہونے کے زیادہ امکانات ہیں ۔ ابھی حالیہ ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی بورس جانسن کو برطانوی وزرات کے لئے صحیح آدمی قرار دے کر اس بات کو سند دے ہی دی ہے کہ جانسن جیسے آدمی کی ہی برطانیہ کو اس وقت ضرورت ہے۔ کیونکہ برطانیہ کے سامنے اس وقت گرتی معیشت کا مسئلہ نہیں بلکہ برسوں پر محیط برطانیہ اور یونین کی دوستی کو ختم کرنے کیلئے بریگزٹ کا ہے جو اب تک برطانیہ کے

دو قابل وزیر اعظموں کو باہر کا راستہ دیکھا چکا ہے ۔یہ ایسا اونٹ بن چکا ہے جو کسی کروٹ بیٹھنے ہی نہیں آرہا ۔کیونکہ تجارتی معاملات میں آئرش بیک اسٹاپ ایسی رکاوٹ بن چکا ہے جو بریگزٹ کے اونٹ کو چین سے بیٹھنے ہی نہیں دے رہا ہے اور یہی ایسا کانٹا ہوگا جو اگلے وزیر اعظم کو بھی وزرات کی کرسی پر بیٹھتے ہی چبھنے لگے گا ۔ویسے تو بورس جانسن برطانوی سیاست کے کوئی نئے کھلاڑی نہیں ہیں وہ برطانیہ کے دل اور حب لندن کے دو بار میئر رہ چکے ہیں اور ان کی لائی ہوئی اصلاحات نے لندن کو کافی فائدے بھی پہنچائے تھے اور یہ بات برطانیہ میں شاید کم ہی لوگوں کو معلوم ہو کہ جانسن دوہری شہریت کے حامل ہیں وہ برطانیہ کے ساتھ امریکہ کی شہریت بھی رکھتے ہیں شاید صدر ٹرمپ کی بھی بورس جانسن پر اعتماد ظاہر کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے ۔ ویسے بھی یونین سے علیحدگی کے بعد تجارت کو آگے بڑھانے کے لئے امریکہ جیسی مضبوط مارکیٹ کی ضرورت ہوگی اور امریکہ نے برطانیہ کو ساتھ دینے کی یقین دہانی کروائی ہے اور بورس جانسن ہی وہ شخص لگ رہے ہیں جو اپنے دونوں مضبوط ملکوں کے مزاج کو خوب ہی سمجھتے ہونگے ۔ فیصلہ بس ہونے ہی والا ہے ۔

یورپ سے سے مزید