آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ15؍ ربیع الثانی 1441ھ 13؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

پاک ٹیم سے متعلق عمران خان کی رائے قابل قدر ہے

عمران خان دنیا کے عظیم کرکٹرز میں سے ایک ہیں، پاکستان ٹیم کے بارے میں ان کی رائے کو قدر سے دیکھنا چاہیے۔ پی سی بی سسٹم کے تحت کام کررہا ہے۔ وزیر اعظم کی حیثیت سے عمران خان بورڈ کے سر پرست اعلیٰ ہیں لیکن پی سی بی کا نظام بورڈ انتظامیہ چلا رہی ہے، وزیر اعظم نہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ حکومت یا وزیر اعظم عمران خان بورڈ کے معاملات میں مداخلت نہیں کررہے۔ پی سی بی اپنے فیصلوں میں خود مختار ہے، وزیر اعظم نے پی سی بی کو اپنا وژن ضرور دیا ہے لیکن پی سی بی اپنی ذمے داری پوری کرتے ہوئے بورڈ کے انتظامی ڈھانچے اور ڈومیسٹک سیٹ اپ میں ری اسٹرکچرنگ کررہا ہے تاکہ پاکستان کرکٹ مزید ترقی کرے۔

واشنگٹن میں تقریر کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی دیکھنے کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم کو ٹھیک کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ 2023 میں اگلے ورلڈ کپ میں پاکستان کی بہترین ٹیم لائیں گے اور کرکٹ کا نظام ٹھیک کریں گے۔

عمران خان نے کہا کہ میں نے انگلینڈ سے اپنی کرکٹ کا آغاز کیا لیکن سب سے زیادہ دنیا میں کرکٹ کا ٹیلنٹ پاکستان میں دیکھا ہے۔ کرکٹ میں آسٹریلیا کی ٹیم سب سے زیادہ کامیاب رہی کیونکہ وہاں میرٹ ہے۔

واضح رہے کہ کچھ سابق کرکٹرز اور ماہرین کا خیال ہے کہ وزیر اعظم براہ راست پی سی بی معاملات میں مداخلت کررہے ہیں۔ پی سی بی کے ڈائریکٹر میڈیا اور کمیونی کیشن سمیع الحسن کا کہنا ہے کہ پی سی بی 2014 کے آئین کے تحت کام کررہے ہیں۔ اس وقت ایلن آئزک آئی سی سی کے صدر تھے۔ عمران خان پی سی بی کے سرپرست اعلی اور سابق کپتان ہیں۔

آئی سی سی نے ماضی کے عظیم آل راونڈر کو ہال آف فیم کے اعزاز سے نوازا ہے۔ سابق کپتان اورپی سی بی کے پیٹرن کے باوجود عمران خان کی جانب سے پی سی بی کو کوئی ہدایت نہیں آتی۔ بورڈ کے چیئر مین احسان مانی اور ان کی انتظامی ٹیم روز مرہ کی بنیاد پر اپنے اُمور چلا رہی ہے۔

عمران خان نے پی سی بی کی رہنمائی ضرور کی تھی لیکن انہوں نے کسی بھی طرح پی سی بی کے معاملات پر اثر انداز ہونے کی کوئی کوشش نہیں کی ہے۔ چوں کہ وہ سابق کپتان رہے ہیں اس لئے ماضی کی طرح اس بار بھی انہوں نے ورلڈ کپ میں پاکستان ٹیم کی کارکردگی دیکھ کر اپنی رائے دی ہے۔ مستقبل میں جو فیصلے ہوں گےوہ پی سی بی انتظامیہ ٹیم کی ضروریات کے مطابق آزادانہ کرے گی۔ یہ تاثر غلط ہے کہ حکومتی مداخلت سے آئی سی سی پاکستان کرکٹ بورڈ کے خلاف کارروائی کرسکتا ہے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ عمران خان کا حالیہ بیان پیٹرن اور سابق کپتان کی حیثیت ہے لیکن پی سی بی آئین کی حدود میں رہ کرکام کررہا ہے۔ احسان مانی اور ان سے قبل جتنے چیئر مین آئے ہیں ان کی تقرری آئین کے مطابق ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ ورلڈ کپ 2019 میں پاکستان کرکٹ ٹیم سیمی فائنل میں بھی نہیں پہنچ سکی تھی، آخری چار میچز میں کامیابی حاصل کرنے کے باوجود نیوزی لینڈ رن ریٹ بہتر ہونے کی وجہ سے سیمی فائنل میں پہنچ گیا تھا۔

خیال رہے کہ ورلڈ کپ 2019 کے سپر اوور برابر ہونے پر انگلینڈ کو زائد باؤنڈریز پر فاتح قرار دیا گیا تھا اور نیوزی لینڈ کی ٹیم رنر اپ رہی تھی۔ پاکستان نے گروپ میچوں میں انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کو شکست دی تھی۔

کھیلوں کی خبریں سے مزید