• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مریم کی عدالت آمد، لیگی کارکنوں اور پولیس میں تصادم


چوہدری شوگر مل کیس میں گرفتار مریم نواز اور ان کے کزن یوسف عباس کو قومی احتساب بیورو (نیب) کی ٹیم نے احتساب عدالت لاہور پہنچا دیا۔

اس موقع پر عدالت پہنچنے والے مسلم لیگ نون کے کارکنوں کو پولیس نے روکنے کی کوشش کی اور واپس جانے کو کہا جس پر لیگی کارکنوں اور پولیس اہلکاروں کے درمیان تصادم ہو گیا۔

عدالت کے باہر پولیس اور نون لیگی کارکن آمنے سامنے آگئے، لیگی کارکنوں نے پولیس پر پتھراؤ کیا، ایک پولیس اہلکار کا سر پتھر لگنے سے پھٹ گیا۔

پولیس اہلکاروں نے نیب عدالت کے باہر پوزیشن سنبھال لی، اینٹی رائٹ فورس نے پتھراؤ سے بچنے کےلیے حفاظتی شیلڈز کو ڈھال بنا لیا۔

پولیس کی جانب سے کارکنوں پر لاٹھی چارج کیا گیا اور انہوں نے حفاظتی شیلڈز سے لیگی کارکنوں کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش کی۔

احتساب عدالت کے باہر نون لیگی خواتین کارکنوں اور پولیس میں تکرار بھی ہوئی ہے، نون لیگی خواتین نے عدالت تک جانے پر اصرار کیا تاہم پولیس نے انہیں جانے نہیں دیا۔

پولیس اور مسلم لیگ نون کے کارکنوں میں نیب عدالت کے باہر دھکم پیل جاری ہے۔

ادھر نیب کی جانب سے احتساب عدالت سے مریم نواز اور یوسف عباس کے 15 دن کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی ہے۔

نیب پراسیکیوٹر وارث علی جنجوعہ نے عدالت کو بتایا کہ اس بات کی تفتیش کر رہے ہیں کہ چوہدری شوگر ملز میں پیسے کہاں سے آئے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ 2008ء میں ان کے نام پر 11 ملین کے شیئر تھے، اس بات کا تعین کر رہے ہیں کہ اکاؤنٹ میں رقم کہاں سے آئی۔

کمرہ ٔعدالت میں دھکم پیل اور وکلاء کے شور شرابے پر عدالت نے اظہارِ برہمی کرتے ہوئے لیگی وکلاء کو تنبیہ کی کہ آپ لوگ تمیز کا مظاہرہ کریں، کمرۂ عدالت کو اکھاڑا مت بنائیں۔

تازہ ترین