آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 24؍ذوالحجہ 1440ھ 26؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اندرون ملک پروان چڑھنے والی دہشت گردی کو معاشرتی حرکت پذیری کے فقدان سے ایندھن ملتا ہے

لندن(جنگ نیوز) برطانیہ کے انسداد دہشت گردی کی پولیسنگ کے سربراہ نے کہا ہے کہ اندرون ملک پروان چڑھانے والی دہشت گردی کو معاشرتی حرکت پذیری اور شمولیت کے فقدان سے ایندھن فراہم ہوتا ہے۔ میٹروپولیٹن پولیس اسسٹنٹ کمشنر نیل باسو نے کہا کہ نوجوانوں کو بہتر تعلیم اور مواقع دہشت گردی سے لڑنے کے لئے پولیسنگ اور سٹیٹ سیکورٹی آپریٹس دونوں سے زیادہ کارگر ہوں گے۔ برطانوی مسلمانوں کو خود کو چھپانے پر مجبور نہ کیا جائے ۔ہمیں ایسا معاشرہ نہیں ہونا چاہئے جو یہ قبول کرے نیل باسو نے گارڈین کو بتایا کہ وہ مجرمانہ تشدد کے گھنائونے اقدامات کے بارے میں دور سے کچھ نہیں کہہ رہے تاہم گہرے اسباب کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ ان کی ٹیم حملے روکنے اور دہشت گردوں کو لاک اَپ کرنے میں ورلڈ کلاس ہے تاہم ہمیں دہشت گردی کے اندر ریکروٹس روکنے کی ضرورت ہے۔ یہ بات نہ بھولیں کہ ہم جن افراد کو گرفتار کرتے ہیں ان میں70 ،80 فیصد یہاں پیدا ہوئے ہیں اور پروان چڑھتے ہیں۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ حکومت کی انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی پر خراب انداز میں عمل کیا گیا اور اسے کامیاب بنانے کیلئے کمیونٹی کی زیادہ رہنمائی کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ 2015ء تا2017ء انسداددہشت کی کارروائیوں میں 50فیصد اضافہ ہوا اور جب سے بلند شرح برقرار ہے۔ عراق

اور شام میں داعش کے علاقے کھونے کے باوجود برطانیہ میں دہشت گردی کا خطرہ شدید ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ حملے کا خطرہ بلند ہے۔ ماضی میں نیل باسو برطانوی سفیر سرکم ڈروچ کی تحریر کردہ کیبلز شائع کرنے والے صحافیوں کو قانونی کارروائی کی دھمکی سمیت متنازع تبصروں کے لئے مشہور رہے ہیں۔ افشا ہونے والی کیبلز میں سرکم نے امریکی صدر ٹرمپ کو ناقابل اہل قرار دیا تھا۔ وہ قانونی کارروائی کی بات کرکے غم و غصے کا سبب بن گئے تھے جس کی قیادت بورس جانسن اور جریمی ہنٹ نے کی تھی اور آزادی صحافت پر تنازع اٹھ کھڑا ہواتھا۔ وزیر صحت ماٹ ہنکوک نے پولیس سے نیل باسو کا بیان واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔ جبکہ سابق چانسلر جارج اوسبرن نے تبصروں کو بہت احمقانہ اور بے شعور بے قرار دیا تھا۔ گارڈین کے سابق ایڈیٹر ایلن اس برجر نے کہا تھا کہ پولیس اخبار کے ایڈیٹرز کو یہ نہیں بتاسکتی کہ کیا لکھنا ہے۔ جس پر نیل باسو نے اپنی دھمکی کو دوگنی کرتے ہوئے کہا تھاکہ پبلشر کے خلاف قانونی کارروائی اس صورت میں بھی کی جاسکتی ہے کہ محض جن دستاویزات کی اشاعت جس کے ایکٹ کے منافی ہونے کا اب علم ہوا ہے ایک فوجداری جرم کا سبب ہوسکتی ہے جو عوامی مفاد کے دفاع کی حامل ہیں۔

یورپ سے سے مزید