آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ22؍ ذوالحجہ 1440ھ24؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
خیال تازہ … شہزادعلی
آج 15 اگست کو لندن سمیت برطانیہ کے کئی علاقوں سے کشمیری پاکستانی کمیونٹی انڈین ہائی کمیشن کے سامنے بھارت کے یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر منانے کے لیے بڑا احتجاجی مظاہرہ کر رہی ہے ۔ گزشتہ روز 14 اگست کوپاکستان کا یوم آزادی منایا گیا ۔ بھارت نےمقبوضہ کشمیر میں جبر واستبداد کی جو نئی داستان رقم کی ہےکشمیر کے حوالےسے خود اپنے ہی آئین کو سبوتاژ کر دیا اس کے باعث اس سال پاکستان کا یوم آزادی سادگی سے منایاگیا ۔آج کشمیر اور پاکستان کے باشندے مہذب اقوام کو یہ باور کرار ہے ہیں کہ ریاست جموں و کشمیر کے عوام کی بڑی تعداد بدستور بھارت کے ظلم کی چکی میں پس رہی ہے ۔قارئین ، طویل عرصہ سے کشمیر کے عوام کی روایت چلی آرہی ہے کہ وہ پاکستان کا یوم آزادی مملکت پاکستان کے عوام کے ساتھ جوش و خروش کے ساتھ مناتے ہیں ۔ سری نگر میں تو اس روز کشمیری شہداء کے جسموں کو پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر سپرد خاک کرنے کی زندہ روایات بھی ہیں اور پاکستانی عوام اور حکومتیں بھی اس موقع پر تحریک آزائ کشمیر کی کامیابی کے لیے تجدید عہد کرتی ہیں۔ جبکہ بھارت کے یوم آزای پر کشمیری لندن سے لے کر سری نگر تک ، یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں اور بھارت کے عوام اور حکمرانوں کو خود ان کی اپنی آزادئ ہند کے وقت کی قیادت کے

کشمیریوں کو حق خودارادیت دینے کے وعدے یاد دلاتے ہیں ۔ جبکہ اس سال اسی ماہ اگست میں بھارت نے آرٹیکل 370 کے تحت مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرکے اسے بھارت کی یونین کا حصہ بنانے کا خطرناک کھیل کھیلا اور پوری وادی کشمیر جو پہلے سے دنیا کی سب سے بڑی بھارتی فوجی چھاؤنی بنی ہوئی ہے وہاں پر مزید فورسز داخل کر دیں اور ساتھ ہی آزاکشمیر اور پاکستان کے سرحدی علاقوں پر اپنی اشتعال انگیزیوں میں بھی اضافہ کر دیا۔ جس کے باعث اس مرتبہ جہاںپاکستانی لوگ کشمیریوں سے یکجہتی کے طور پر یوم آزادی کو سادگی سے منا رہے ہیں وہاں آج بھارت کے یوم آزادی کو کشمیری پاکستانی دنیا بھر میں پہلے سے بھی بڑھ کر نئے جذبوں کے ساتھ یوم سیاہ کے طور پر منا رہے ہیں ۔ جس کے باعث مغرب کے ہر چھوٹے بڑے شہر اور ہر دارلحکومت میں بھارت کے جارحانہ عزائم ہندوتوا سوچ کے خلاف احتجاجی مظاہرے پاکستانی کشمیری ہی نہیں خود بھارت کے اندر بسنے والے سکھ اور مغربی ممالک کے کئی انسان دوست پارلیمنٹرین اور حقوق انسانی کے علمبردار سراپا احتجاج بنے نظر آتے ہیں ۔گزشتہ جمعہ کو بھی ہمارے ٹاون لوٹن میں خراب موسم کے باوجود لوگ بھارت کے تازہ اقدامات پر ماتم کناں دکھائی دیئے ۔ کافی اچھا احتجاج ریکارڈ کرایا گیا ۔ کشمیری سالیڈیرٹی کمپئین جو ہنگامی بنیاد پر عمل میں لائی گئی تھی نے ایک پرامن واک کرکے لوگوں کی توجہ مبذول کی۔ لوٹن کی پاکستانی کشمیری مرکزی کاروباری اور مذہبی آبادی کے علاقے بری پارک سے لوٹن ٹاون ہال کی طرف مارچ کرتے ہوئے آزادئ کشمیر کے مشترکہ تھیم کو اجاگر کیا گیا اور کونسل ہال کے باہر آزادئ کشمیر کا مطالبہ دہرایا گیا اسی طرح برطانیہ کی کشمیری پاکستانی کمیونٹی برطانوی حکومت اور کونسلوں کے ساتھ انگیج ہونے کی کوششوں میں مصروف ہے اور مختلف سرگرمیوں کے ذریعے کشمیر کی تازہ بدلتی پوزیشن پر فوری توجہ مرکوز کرانے کی سعی جاری رکھے ہوئے ہے ۔ کشمیر میں لاک ڈاؤن ، جبری حراستوں، ذرائع مواصلات کی بندش اور حقوق انسانی کی پا مالی کو ہائی لائٹ کرنے کی کاوشیں کی جارہی ہیں۔یہ ایک درست لائحہ عمل ہے کہ اب لندن کے ساتھ ساتھ مقامی کونسلوں کے باہر بھی کشمیر پر احتجاج زور پکڑ رہے ہیں ۔البتہ احتجاج کو مزید موثر بنانے کی گنجائش بحرحال موجود ہے ۔راقم کی رائے میں کیا ہی اچھا ہو کہ برطانیہ کے کشمیری بھی سری نگر کے کشمیریوں کی پیروی کرتے ہوئے لندن ، لوٹن ، برمنگھم میں بھی کشمیر کے علاوہ پاکستان کے پرچم بھی ہاتھوں میں تھام لیں ۔ عید الاضحی پر بھی برطانیہ کے اندر کشمیر ہی دعاوں کا مرکز رہا۔ کشمیری پاکستانی متحرک شخصیات اور تنظیمیں یوم آزادی پاکستان اور بھارت کے حوالے سے یوم سیاہ کے موقع پر بھی برطانیہ کو بھی کشمیر پر اس کے تاریخی کردار کی یاد دہانی کرا رہے ہیں اور دیگر مہذب دنیا سے بھی کشمیر کے مسئلہ کے منصفانہ حل اور بھارت کے توسیع پسندانہ خطرناک عزائم کو روکنے کے لیے عالمی کردار ادا کرنے کی دہائی بھی دے رہے ہیں ۔
آخر میں لوٹن کے مقامی شاعر اور دانشور صفدر سعید کے اشعار :
ظلم ہی ظلم ہے وادئ کشمیر میں
خون کی جھلک ہے مری تحریر میں
دیکھو کتنے ہلکے ہیں اور پھیکے بھی
سارے رنگ، انسانیت کی تصویر میں

یورپ سے سے مزید