آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 22؍محرم الحرام 1441ھ 22؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

1845میں 16ہزار نفری پر مشتمل برطانوی فوج افغان سرزمین پر شکست سے دوچار ہوئی۔ افغانوں نے بس ایک برطانوی ڈاکٹر کو زندہ رکھا تاکہ وہ اس جنگ کے احوال تاجِ برطانیہ کے سامنے بیان کر سکے۔ اس ڈاکٹر کی روداد سے برطانوی افواج نے ایسا سبق سیکھا کہ پھر کبھی سرزمینِ افغانستان پر قدم رکھنے کی ہمت نہ ہوئی۔


امریکی افواج کو اپنی قوت پر بڑا مان رہا ہے لیکن افغانستان کے سنگلاخ پہاڑوں میں گویا ان کی تمام حربی صلاحیتیں جامد ہو چکی ہیں۔ امریکہ افغانستان سے محفوظ اور باعزت واپسی کا خواہاں ہے اور اس میں اس کی مدد صرف پاکستان ہی کر سکتا ہے۔ افغانوں کے ساتھ محبت کا جو رشتہ جنرل محمد ضیاء الحق شہید نے بڑی محنت سے استوار کیا تھا اُسے بھارت اپنی ریشہ دوانیوں سے کبھی ختم نہیں کر سکتا۔ افغانستان میں بالادستی کا بھارتی خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہوگا۔ یہاں یہ بات واضح رہنا چاہئے کہ افغان جہاد کو ابتداً کسی دوسرے ملک کی عملی حمایت حاصل نہیں تھی، اس کا آغاز1979 میں ہوا، دو سال تک افغان تن تنہا روس کا مقابلہ کرتے رہے، 1981میں امریکہ آگے آیا اور روس کے خلاف افغانیوں کی فوجی امداد کا آغاز کیا۔ افغان جہاد کو روس اور امریکہ کی جنگ قرار دینے والے حقائق آشنا نہیں۔ یہ دفاع پاکستان کی ایک ایسی جنگ تھی جس میں پاک فوج کا ایک جوان بھی شہید نہیں ہوا لیکن افغان جنگ کی فتح کا سہرا پاکستان کے سر سجا۔ جنرل ضیاء الحق کی شہادت پر انہیں مجاہدین نے ’’شہید ِ جہادِ افغانستان‘‘ کا خطاب عطا کیا۔ افغان جہاد کے ثمرات وسطی یورپ میں بھی نظر آئے۔ بوسنیا کی مساجد سے اذان کی آواز بلند ہوئی۔ جرمن عوام نے خونی لکیر کو عبور کیا۔ دیوارِ برلن قصہ پارنیہ بن گئی۔ افغان جہاد نے خالصتان کی تحریک کو بھی جلا بخشی۔ سکھ عوام بیدار ہوئے اور انہوں نے بھارت کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا۔ افغانستان میں طالبان کی حکومت کے خاتمہ کے بعد یہ تصور کیا جانے لگا کہ اب شاید ہی کوئی افغان طالبان کا نام لے سکے لیکن نجانے کیوں طالبان حکومت کے خاتمہ کے بعد بھی میری چھٹی حس یہ کہہ رہی تھی کہ ایک نہ ایک روز امریکہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوگا اور اسے طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنا ہوں گے۔ پھر چشمِ فلک نے دیکھا کہ امریکی زعما ملا عبدالسلام ضعیف کی قیادت میں افغان طالبان سے مذاکرات کرنے پر مجبور ہوئے۔ شاید یہ سمجھا جاتا رہا کہ افغان سرزمین کا خمیر بدل گیا ہے لیکن وقت نے ثابت کیا کہ’’افغان باقی کوہسار باقی‘‘اور الحکم للہ 15لاکھ افغان مجاہدین کے خون سے افغان سرزمین سیراب ہوئی اور اس کی فتح کا خواب دیکھنے والے سمجھ گئے کہ عزت اس میں ہے کہ کسی نہ کسی طرح اپنا دامن بچایا جائے اور اس کا راستہ مذکرات کے ذریعہ سے ہی نکالا جا سکتا ہے، اس سلسلہ میں انجینئر گلبدین حکمت یار پاکستان تشریف لائے جن کی پاکستان سے محبت اور شہید جنرل ضیاء الحق سے والہانہ عقیدت کا جذبہ آج بھی اسی طرح برقرار ہے جس طرح آج سے 30سال قبل تھا۔

آج کشمیری عوام کی بے بسی دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے، حالانکہ جنرل محمد ضیاء الحق کی کشمیر پالیسی نے بھارت کو اندرونی خلفشار میں اتنا الجھا دیا تھا کہ تحریک آزادی کشمیر کا سورج طلوع ہوا ہی چاہتا تھا۔ جہاد افغانستان اور جہادِ کشمیر سے جنرل محمد ضیاء الحق شہید کی وابستگی کا یہ عالم تھا کہ کئی بار خود میدانِ جہاد میں پہنچ جاتے۔ ملک کو ایٹمی قوت بنانے میں جنرل محمد ضیاء الحق کا کردار بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ وہ پاکستان کو ناقابلِ تسخیر بنانے کیلئے بے چین رہتے تھے۔ انہی کی کاوشوں کے باعث 3 مارچ 1983میں کیران ،سرگودھا کے پہاڑی سلسلے میں ایٹمی صلاحیت کے کولڈ ٹیسٹ کا کامیاب تجربہ ہوا۔ پھر انہی خطوط پر چلتے ہوئے1998 ء میں ایٹمی تجربات کئے گئے۔ بہت کم لوگوں کو علم ہوگا کہ چاغی بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑوں میں بڑی جان فشانی سے تعمیر کی گئی سرنگ 1983ء میں مکمل کر لی گئی تھی، تاہم بوجوہ فیصلہ موخر کر دیا گیا۔ یہ ایٹمی میدان میں ہماری بتدریج کامیابیوں کا ہی ثمر تھا کہ صدر جنرل ضیاء الحق شہید نے بھارتی سرزمین پر کھڑے ہوکر راجیو گاندھی کو وہ تاریخی کلمات کہے تھے جسے سن کر راجیو گاندھی سمیت بھارتی سورمائوں کے پسینے چھوٹ گئے اور بھارتی افواج دوسرے ہی دن ہماری سرحدوں سے دور بھاگتی نظر آئیں۔

امریکہ کے ساتھ ہمارے تعلقات میں ایٹمی طاقت ہمیشہ وجہ عناد بنی رہی۔ امریکہ کو یقین تھا کہ پاکستان ایٹمی پیشرفت پر پوری سنجیدگی اور مستعدی سے عمل پیرا ہے لہٰذا وہ مختلف حیلے اور حربے استعمال کرکے رکاوٹیں ڈالتا رہا کبھی آئینی ترامیم کے ذریعے کبھی تادیبی کارروائیوں اور دھمکیوں کے ذریعے۔ ایک مرتبہ امریکی سینیٹرز کا ایک بھاری بھرکم وفد پاکستان پہنچا اور صدر ضیاء الحق سے ملاقات کی اور اس بات پر زور دیا کہ ہم پاکستان کے نقطہ نظر سے مطمئن نہیں ہیں۔ آپ اور آپ کے ایٹمی سائنسدان ہمیں مطمئن کریں اور اپنے ایٹمی پروگرام کا معائنہ کرنے دیں ورنہ آپ کی امداد بند کر دی جائے گی۔ ضیاء الحق نے جواب دیا کہ میں پاکستان کا صدر ہوں میرے الفاظ آپ کو مطمئن کرنے کیلئے کافی ہونا چاہئیں۔ ہم لوگ آپ کی اندرونی الجھنوں کے ذمہ دار نہیں۔ یہ وفد ناکام واپس چلا گیا مگر پھر بھی پاکستان کو امریکی صدر کی طرف سے استثنا مل گیا۔

جنرل محمد ضیاء الحق شہید نے مسئلہ کشمیر کو ہر عالمی فورم اور ہر سطح پر پوری جرأت اور شدت کے ساتھ اجاگر کیا۔ بھارت کے خلاف ان کی جارحانہ پالیسی کے نتیجہ میں کشمیری مجاہدین نے آزادی کا علم بلند کیا۔ آج جموں و کشمیر میں جرأت و بہادری کی داستان رقم کرنے والے مجاہدین و غازیوں میں بیشتر جنرل محمد ضیاء الحق کو اپنا ہیرو مانتے ہیں۔ حال ہی میں بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی نے بھارت کے بارے میں جن خدشات کا اظہار کیا ہے اس کو معمولی نہ سمجھا جائے۔ قائداعظم نے جموں و کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ یہ ناممکن ہے کہ ہماری شہ رگ دشمن کے قبضہ میں رہے اور ہم زندہ رہ سکیں۔ یہ وقت کشمیر بارے میں صرف بیانات اور سفارتی حمایت کا اعادہ کرنے کا نہیں بلکہ ہمیں اپنے کشمیری بھائیوں کو باور کرانا ہو گا کہ ہم ان کے شانہ بشانہ ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ ادغامِ کشمیر کی موجودہ بھارتی کوشش نے نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی امن کو بھی شدید خطرات سے دو چار کر دیا ہے۔ بین الاقوامی قوتوں کو اس شدید خطرے کی سنگینی کا احساس کرتے ہوئے فوری اور موثر کارروائی سے صورتحال کو سنبھالا دینا چاہئے۔ اقوام متحدہ کے سیکٹری جنرل کا حالیہ بیان حوصلہ افزا ہے، تاہم ہمیں جرأتمندانہ اور موثر سفارت کاری کے ذریعے صورتحال کو بدلنے میں مستعدی لانا چاہئے۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

ادارتی صفحہ سے مزید