آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ20؍محرم الحرام 1441ھ 20؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اردو میں ’’ان شا ء اللہ ‘‘کی ترکیب عام ہے لیکن اسے الگ الگ لکھنے کی بجاے بالعموم ملا کر یعنی ’’ا نشا ء اللہ ‘‘ لکھا جاتا ہے۔ یہ دراصل عربی کے تین الفاظ کا مرکب ہے اور یہ تین الفاظ ہیں اِن (یعنی اگر) شاء (یعنی اس نے چاہا ، اس نے ارادہ کیا ) اور اللہ،اس طرح ان شاء اللہ کا مفہوم ہے : اگر اللہ نے چاہا، اگر اللہ نے ارادہ کیا۔ فرہنگ ِ آصفیہ میں انشاء اللہ درج ہے لیکن حاشیے میں وضاحت ہے کہ صحیح ان شاء اللہ ہے۔

ان شاء اللہ کی ترکیب میں‘‘ان ‘‘ اور ’’شاء‘‘ کو الگ الگ لکھنا اس لیے ضروری ہے کہ یہ دو الگ الگ لفظ ہیں ۔ انھیںملا کر لکھنے سے لفظ بدل جاتا ہے اور معنی میں بھی فرق آجاتا ہے کیونکہ’’ انشا ء ‘‘ عربی زبان میں ایک اور لفظ ہے جس کے لغوی معنی ہیں پیدا کرنا، تخلیق کرنا ، دل سے کوئی بات بنانا۔ یہ تحریر یا عبارت کے معنی میں بھی آتا ہے اور اس سے انشا پردازی کی ترکیب بنی ہے جس کے معنی ہیں مضمون نگاری، عبارت آرائی، لکھنے کا انداز یا اسلوب۔ گویا درست املا ہوگا ان شاء اللہ۔ امید ہے اب آپ اسے درست لکھیں گے ، اگر اللہ نے چاہا۔

قرطاسِ ادب سے مزید