آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات19؍محرم الحرام 1441ھ 19؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیراعظم کی زیر صدارت صنعتی ترقی سے متعلق اہم اجلاس

وزیراعظم کی زیر صدارت صنعتی ترقی سے متعلق اہم اجلاس ہوا


وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں کی ترقی سے متعلق اہم اجلاس ہوا۔

اجلاس مشیر تجارت عبدالرزاق داود، گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر ،مشیر برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان، زبیر گیلانی سمیت صوبائی وزراء نے شرکت کی ۔

اجلاس میں پنجاب میں واقع صنعتوں اور ان کو درپیش مسائل سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی ،وزیراعظم کو بتایا گیا کہ بجلی کی مختلف کمپنیوں کے ڈیٹا کے مطابق صوبہ پنجاب میں تقریباً 226600 صنعتی یونٹس ہیں، جن میں سے 55ہزار435کے کنکشن منقطع ہو چکے ہیں۔

اپنے خطاب میں عمران خان نے کہاکہ مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لئے جہاں صنعتی یونٹس کا اندراج کرنا ضروری ہے وہاں آسانیاں پیدا کی جائیں تا کہ صنعتی عمل کسی تعطل کا شکار نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ مزدورں کے حقوق کے تحفظ پر سمجھوتہ کیے بغیر صنعتی ترقی کے فروغ اور کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنے کےلیے کوشاں ہیں۔

وزیراعظم نے زور دیا کہ ملکی معیشت کی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ صنعت و حرفت کو ہر ممکن آسانی فراہم کی جائے تاکہ جہاں معاشی عمل تیز ہو وہاں نوکریوں کے موقع پیدا ہوں۔

اجلاس میں گورنر اسٹیٹ بینک نے بھی بریفنگ دی اور بتایا کہ چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کا فروغ مرکزی بینک کی ترجیحات میں شامل ہے۔

رضا باقر نےبریفننگ میں مزید بتایا کہ چھوٹے درجے کے قرض کی حد بڑھا کر 10لاکھ روپے کردی گئی ہے جبکہ اس کی فراہمی کی مدت بھی ایک ماہ سے کم کرکے 15دن کردی ہے ۔

انہوں نے کہاکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو مہیا کی جانے والی رقوم کا حجم اس وقت 513 ارب روپے ہے جبکہ 2023 تک قرض کا ہدف 1اعشاریہ9کھرب روپے مقررکیا گیا ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے یہ بھی بتایا کہ قرض کا ہدف بڑھانے سے 20لاکھ نوکریاں پیدا ہوں گی جبکہ برآمدات میں ساڑھے 5ارب ڈالر کا اضافہ متوقع ہے۔

اجلاس میں ضروری عوامل سے متعلق انسپیکشن کا عمل تھرڈ پارٹی سے کرائے جانے پر بھی اصولی اتفاق کیا گیا۔

تجارتی خبریں سے مزید