آپ آف لائن ہیں
جمعرات6؍ صفر المظفّر 1442ھ24؍ستمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

گریٹر تھل کینال کی توسیع پر اعتراضات

اخباری اطلاعات کے مطابق 6اگست کو پنجاب کابینہ نے گریٹر تھل کینال منصوبے کے دوسرے مرحلے پر کام شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں ایشیائی ترقیاتی بینک سے مالی مدد حاصل کرنے کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی صدارت میں ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا۔ اس فیصلے پر سندھ میں کافی ردعمل ہو رہا ہے، سندھ کے اقتصادی اور قانونی ماہرین کے مطابق گریٹر تھل کینال کا اصل منصوبہ ہی متنازع تھا۔ اس سلسلے میں یہ آبی ماہرین اور قانونی ماہرین خاص طور پر 91ء کےپانی کے معاہدے کی شق 14کا حوالہ دیتے ہیں۔ میں یہ شق لفظ بلفظ یہاں پیش کر رہا ہوں۔ اس شق میں کہا گیا ہے کہ

"The system-wise allocation will be worked out separately, on ten daily basis and will be attached with the agreement as part and parcel of it"

14(b): The record of actual average system uses for the period 1977-82 would form the guideline for devloping a future regulation pattarn. These ten daily uses would be adjusted PRO-RATA to correspond to the indicated seasonal allocations of the different canal systems and would form the basis for sharing shortage and surpluses on all Pakistan basis"

91ء کے معاہدے کے اس سیکشن کی بنیاد پر پاکستان کے ہر صوبے کے لئے ان کینالز کی فہرست بننا تھی جن کو اس سیکشن کی بنیاد پر پانی فراہم کرنا تھا‘ اس سیکشن پر عملدرآمد کرنے کے لئے مرکزی حکومت کے نمائندے کی صدارت میں چاروں صوبوں کے نمائندوں کا اجلاس بلایا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پہلے اجلاس میں صرف سندھ حکومت کے نمائندے نے اپنے صوبے کی ان کینالز کی فہرست پیش کی جن کو اس فارمولے یعنی Ten Dailyکے تحت پانی فراہم کرنا تھا چونکہ اس اجلاس میں فقط صوبہ سندھ کے نمائندے یہ فہرست لائے تھے اور باقی تین صوبوں میں سے کسی نے بھی اپنے صوبے کی کینالز کی فہرست فراہم نہیں کی لہٰذا پھر اس ایشو پر فیصلہ کرنے کے لئے ایک دوسرا اجلاس بلایا گیا۔ اس اجلاس میں سندھ کے علاوہ بلوچستان اور کے پی کے نمائندے اپنے اپنے صوبے کی کینالز کی فہرست لے آئے جبکہ پنجاب نے اس دوسرے اجلاس میں بھی مطلوبہ فہرست فراہم نہ کی۔ پنجاب کے اس رویے کے نتیجے میں کئی چہ میگوئیوں نے جنم لیا اور ایک رائے یہ بھی سامنے آئی کہ شاید وہ اس شق سے اپنے مخصوص مفاد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اس وقت سندھ کے وزیراعلیٰ جام صادق تھے اور وزیراعظم میاں نواز شریف تھے۔ جام صادق نے پنجاب کے اس رویے کا سخت نوٹس لیا۔ وہ پہلے ہی پریشان تھے کہ معاہدہ ہونے جا رہا ہے اور شاید سندھ کے عوام اس کو قبول نہ کریں لہٰذا اطلاعات کے مطابق جام صادق نے سندھ کے سیکریٹری آبپاشی کو ہدایت کی کہ وہ ان کی طرف سے وزیراعظم کے نام ایک ڈی او لیٹر تیار کریں جس میں یہ موقف اختیار کریں کہ اگر پنجاب اس شق پر عمل نہیں کرتا تو ہو سکتا ہے کہ سندھ معاہدے سے ہی الگ ہو جائے مگر یہ لیٹر وزیراعظم کو بھیجنے کی نوبت ہی نہیں آئی۔ اس دوران اسلام آباد میں وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعلیٰ سندھ جام صادق کی ایک اجلاس کے دوران ملاقات ہو گئی جس میں جام صادق نے زبانی وزیراعظم کو الٹی میٹم دیدیا۔ جواب میں وزیراعظم نے جام صادق کو یقین دلایا کہ آئندہ اجلاس میں پنجاب یہ فہرست پیش کردے گا۔ جب اجلاس میں پنجاب نے یہ فہرست پیش کی تو اس پر خاص طور پر سندھ کے نمائندوں نے اعتراضات کئے جس کی وجہ یہ تھی کہ اس فہرست میں گریٹر تھل کینال کو بھی شامل کیا گیا تھا۔ سندھ کے علاوہ کچھ اور ممبران نے اعتراض کیا کہ اس فہرست میں فقط وہ اسکیمیں شامل کی جائیں گی جو آپریشنل ہیں۔ باقی جو ابھی پلاننگ کے مرحلے میں ہیں وہ اس شق کے تحت اس فہرست میں شامل نہیں کی جا سکتیں مگر پنجاب نے یہ بات نہ مانی۔ (جاری ہے)