آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر16؍محرم الحرام 1441ھ 16؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی:مسائل کے حل کیلئے آرٹیکل 149واحد آپشن نہیں،علی زیدی

کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیو کے پروگرام ”آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر بحری امور علی زیدی نے کہا ہےکہ کراچی کے مسائل کے حل کیلئے آرٹیکل 149 بھی ایک آپشن ہے لیکن واحد آپشن نہیں ہے۔

کراچی:مسائل کے حل کیلئے آرٹیکل 149واحد آپشن نہیں،علی زیدی


وزیراطلاعات سندھ سعید غنی نے کہا کہ وفاقی حکومت کو کراچی سے ہمدردی ہے تو کراچی میں پیسے لگائے، کمیٹیاں بنانے یا آئین کے آرٹیکل استعمال کرنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے، میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ کراچی آئی سی یو میں ہے، شارٹ ٹرم حل چاہئے تو وفاقی حکومت فوری طور پر فنڈز دے، پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ کراچی کی عوام کیلئے سندھ اور وفاق کو اپنی انا کو ختم کرنا ہوگا۔وزیراطلاعات سندھ سعید غنی نے کہا کہ آئین کے کسی آرٹیکل کو اس کی روح کے مطابق استعمال کیا جائے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے، ایم کیو ایم کی طرف سے جو تاویلیں پیش کی جارہی ہیں وہ آرٹیکل 149/4نہیں کہتا ہے، آرٹیکل 149/4کے تحت امن و امان یا معیشت کو لاحق خطرات ہوں تو ڈائریکشنز دی جاسکتی ہے، اگر وفاق کراچی کا انتظام اپنے پاس لینے کی بات کرتا ہے تو یہ آئین سے انحراف ہوگا، وفاقی حکومت حاصل اختیارات کے تحت ڈائریکشن دے اگر قابل عمل چیزیں ہوں گی تو عمل بھی کریں گے۔ سعید غنی کا کہنا تھا کہ وفاق نے کراچی کیلئے جن 162ارب روپے کا اعلان کیا تھا اس کی اسکیمیں شروع کرے، پی ٹی آئی حکومت نے ایک سال میں کراچی پر ایک پیسہ خرچ نہیں کیا،وفاقی حکومت نے کراچی میں کون سا منصوبہ شروع کیا ہے، صوبائی حکومتوں کی کارکردگی ہی دیکھنی ہے تو خیبرپختونخوا اور پنجاب حکومتوں کا کوئی ایک کام بتادیں، وفاقی حکومت نے ہماری معیشت کا جنازہ نکال دیا ہے، وزیراعظم کی نااہلی کی وجہ سے معیشت کا بیڑہ غرق ہوگیا ہے، ان کی ناکام معاشی پالیسیوں کو بائیس کروڑ عوام بھگت رہے ہیں، فروغ نسیم وفاقی حکومت کو بھی ان کی معاشی کارکردگی پر کوئی آرٹیکل بتائیں۔ سعید غنی نے کہا کہ کچرا اٹھانے کا کام ڈی ایم سیز کا ہے انہوں نے خود سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کو تفویض کیاہے، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کا کام لینا چاہتے ہیں تو واپس لے لیں، وفاقی حکومت کے ایم سی کو فائر فائٹرز دے رہی ہے ہم نے نہیں منع کیا، وفاقی حکومت کو مشینری دینا چاہتی ہے تو آئین نے کہیں نہیں روکا ہے، وفاق کے گرین لائن منصوبہ میں صوبائی حکومت نے ہر جگہ مدد کی ہے۔ سعید غنی کا کہنا تھا کہ کراچی میں اگلے دو تین برسوں میں دو ارب ڈالر سے زیادہ خرچ کرنے جارہے ہیں، اس میں واٹر اینڈ سیوریج کے انفرااسٹرکچر کی بحالی، دو بڑی ٹرانسپورٹ کی لائنیں اور بہت سے کام شامل ہیں، وفاقی حکومت کو کراچی سے ہمدردی ہے تو کراچی میں پیسے لگائے، کمیٹیاں بنانے یا آئین کے آرٹیکل استعمال کرنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے، وفاقی حکومت کراچی میں اپنے اتحادی سے پوچھے ڈی ایم سی کام کیوں نہیں کررہی ہیں۔ وفاقی وزیر بحری امور علی زیدی نے کہا کہ وفاقی حکومت جو بھی کرے گی آئینی دائرہ کار کے تحت کرے گی، فروغ نسیم نے آرٹیکل 149کی بات کی ہے تو وہ آئین کا حصہ ہے، کوئی بھی کام کریں گے تو صوبائی حکومت اور لوکل حکومت کو آن بورڈ لینا ہوگا، ہم ایک دفعہ کچرا اٹھاسکتے ہیں لیکن کراچی میں روزانہ تیرہ ہزار ٹن کچرا پیدا ہورہا ہے ، کراچی کا کچرا اٹھانا سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور بلدیاتی اداروں کا کام ہے، میئر کراچی کا جائزمطالبہ ہے کہ انہیں اختیارات دیئے جائیں۔علی زیدی کا کہنا تھا کہ کراچی کے مسائل کے حل کیلئے آرٹیکل 149 بھی ایک آپشن ہے لیکن واحد آپشن نہیں ہے، کراچی کا کچرا اٹھانے کیلئے ایف ڈبلیو کی مدد لی جو وفاق اور پاک فوج کا ادارہ ہے، نالوں کی صفائی کیلئے عوام سے رقم نہیں مانگی لوگوں نے خود رقم دی، حبیب بینک والوں نے کہا کہ ہماری برانچوں میں پانی آجاتا ہے ہم بھی آپ کی مدد کرنا چاہتے ہیں، وفاقی حکومت نے ہمیں 200ملین دینے کیلئے کہا ہے، ایسا نہیں ہوسکتا کہ میں ہر ہفتے 200ملین لے آؤں۔ علی زیدی نے کہا کہ کراچی کے تینوں سرکاری اسپتالوں میں 70فیصد سیاسی بھرتیاں ہوئی ہیں، نالوں کی صفائی کا جو کام میں نے چھ کروڑ میں کیا وہ کے ایم سی 50کروڑ میں نہ کرسکی، ایف ڈبلیو او اوربحریہ ٹاؤن نے بھی ہمارے ساتھ مل کر کچرا اٹھایا، ہمیں کچرا اٹھانے سے لینڈ فل سائٹ تک پہنچانے میں ساڑھے چھ سے دس ڈالر فی ٹرن پڑاجبکہ ان کا 27ڈالر فی ٹرن کانٹریکٹ ہے، وزیراعظم نے کراچی کمیٹی کو سفارشات پیش کرنے کیلئے دو ہفتے دیئے ہیں، دنیا جو مرضی کہتی رہے 55ملی لیٹر کی بارش میں ڈوبنے والے علاقے دس دن بعد 190ملی لیٹر کی بارش میں نہیں ڈوبے، اب اس معاملہ کو مستقل حل کی طرف لے کر جائیں گے۔میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ فروغ نسیم نے آرٹیکل 149/4کا ذکر کیا یہ ایکسر سائز ہوسکتی ہے، آئین میں ایک آرٹیکل موجود ہے تو اس کا استعمال ہوسکتا ہے، وفاقی حکومت معاملات بہتر کرنے کیلئے صوبائی حکومت کو ڈائریکشن دے سکتی ہے، کراچی آئی سی یو میں ہے، شارٹ ٹرم حل چاہئے تو وفاقی حکومت فوری طور پر فنڈز دے، وزیراعظم نے چھ مہینے پہلے کراچی کیلئے 25ارب، حیدرآباد کیلئے 5ارب دینے کا کہا تھا آج تک انتظار کررہا ہوں، کراچی کا سیوریج نظام تباہ ہوچکا ہے اس میں یہ پیسہ لگانا چاہتا تھا۔ وسیم اختر کا کہنا تھا کہ علی زیدی نے چھ کروڑ میں ایک ہفتے میں سات نالے صاف کیے تھے یہ حل نہیں ہے، کے ایم سی نے پورے سال کے دوران 38نالوں کی صفائی میں 50کروڑ روپے خرچ کیے، کراچی کے لوگ مشکل میں ہیں اس پر سیاست نہیں ہوسکتی ہے، نواز شریف وزیراعظم تھے تو انہوں نے نو دس ارب روپے دیئے تھے جو گورنر ہاؤس میں کے آئی بی سی ایل استعمال کررہا ہے، پی ٹی آئی حکومت نے وعدے کیے ہیں فوری فنڈز ریلیز کرے، ڈسٹرکٹس کو پیسے اور مشینری نہیں ملے گی تو کچرا کیسے اٹھائیں گے، سندھ حکومت کراچی کیلئے کچھ کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ آرٹیکل 149/4کا نفاذ کراچی کے مسئلہ کا حل نہیں ہے، اس ساری داستان میں کراچی کا مسئلہ حل ہوتا نظر نہیں آرہا۔

اہم خبریں سے مزید