آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر16؍محرم الحرام 1441ھ 16؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی پاکستان کا دوسرا دارالحکومت بن سکتا ہے؟

لاہور (صابر شاہ) دُنیا میں متعدد ممالک کے دو یا اس سے زائد دارالحکومت ہیں اگر کراچی کو پاکستان کا دُوسرا دارالحکومت بنا دیا جائے تو کیسا رہےگا۔ وفاقی وزیر قانون و انصاف بیرسٹر فروغ نسیم کا یہ مشاہدہ کہ قلت آب کا شکار کراچی کو آئین کے آرٹیکل۔149(4) کو فعال کرتے ہوئے علیحدہ انتظامی اکائی بنا دیا جائے۔ لیکن اس پر ملک کی اپوزیشن سیاسی جماعتوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ کراچی کو دُوسرا دارالحکومت قرار دینے کے لئے وفاقی حکومت کو غور کرنا چاہئے۔ بدانتظامی اور نااہلی کا شکار کراچی اس وقت غلاظت اور کچرے کا ڈھیر بن گیا ہے۔ نکاسیٔ آب کے ناقص نظام سے صحت و صفائی کے سنگین مسائل پیدا ہوگئے ہیں۔ سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں جن پر سفر جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔ بجلی کے ننگے تار انسانی جانوں کیلئے سنگین خطرہ بن گئے ہیں۔ گزشتہ بارشوں میں 31 سے زائد افراد کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوئے، بے قابو فضائی آلودگی نے ماحولیاتی مسائل پیدا کر دیئے ہیں۔ 1985ء کے بعد سے اسٹریٹ کرائمز عروج پر ہیں۔ ایک ریسرچ کے مطابق کراچی 2030ء تک دُنیا کا تیسرا گنجان آباد شہر بن جائے گا، لیکن شہر کا انفرا اسٹرکچر بیٹھ گیا ہے، شہری سہولتوں کا کوئی وجود نہیں ہے۔ کراچی میں پہلی حکومت کا قیام 1846ء میں عمل میں آیا تھا جب شہر میں ہیضے کی وباء پھوٹ پڑی تھی۔ اس

وقت کے گورننگ بورڈ کو 1852ء میں میونسپل کمیشن میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ 1933ء میں کراچی میونسپل ایکٹ کے تحت میئر، ڈپٹی میئر اور 57 کونسلرز منتخب کئے گئے۔ 1948ء میں کراچی فیڈرل کیپٹل ٹیریٹوری قرار پایا۔ 1961ء میں اسے ون یونٹ کے تحت مغربی پاکستان میں ضم کر دیا گیا۔ 1976ء میں کراچی کی میونسپل کارپوریشن، میٹروپولیٹن کارپوریشن میں تبدیل کر دی گئی جس کے تحت زونل میونسپل کمیٹیوں کا قیام عمل میں آیا جو 1994ء تک قائم رہیں۔ اس کے دو سال بعد کراچی کو 5 اضلاع میں تقسیم کر دیا گیا۔ پھر 2001ء میں پانچوں ضلعی میونسپل کمیٹیوں کو ضم کردیا گیا۔ 2011ء میں سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ ختم کر کے ایسٹ، ویسٹ، سنٹرل، سائوتھ اور ملیر بحال کر دیئے گئے۔ شہر میں 6 کنٹونمنٹ ایریاز کا انتظام پاک آرمی کے پاس ہے۔ 1729ء میں قلعہ بند کولاچی کے قیام کے بعد اس شہر کی وسعت 3530 مربع کلومیٹرز ہوگئی ہے۔ 2018ء میں ایک جرمن تحقیقاتی ادارے کے مطابق منشیات کے استعمال میں کراچی کا دُنیا میں دُوسرا نمبر ہے۔ پاکستان میں مصنوعات سازی کا 30 فیصد کراچی میں ہے۔ جن ممالک کے دو دارالحکومت ہیں ان میں جنوبی افریقا (بلوم فائونٹین، کیپ ٹائون، پریٹوریا)، نیدرلینڈ (ایمسٹرڈم، دی ہیگ)، جنوبی کوریا (سی جونگ سٹی، سیول)، سری لنکا (کولمبو، کوٹے)، تنزانیہ (دارالسلام، ڈوڈوما)، چلی (سانتیاگو، والپریسو)، ملائیشیا (کوالالمپور، پتراجایا) کے علاوہ جارجیا، بولیویا، آئیوری کوسٹ، مغربی سہارا، سوازی لینڈ، روس، جرمنی، ہنڈراس اور مونٹی نیگرو کے بھی دو، دو دارالحکومت ہیں۔