A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined index: HTTP_REFERER

Filename: front/layout_front.php

Line Number: 246

Backtrace:

File: /var/www/js.jang.com.pk/application_jang/views/front/layout_front.php
Line: 246
Function: _error_handler

File: /var/www/js.jang.com.pk/application_jang/third_party/MX/Loader.php
Line: 351
Function: include

File: /var/www/js.jang.com.pk/application_jang/third_party/MX/Loader.php
Line: 294
Function: _ci_load

File: /var/www/js.jang.com.pk/application_jang/modules/frontend/controllers/Detail.php
Line: 464
Function: view

File: /var/www/js.jang.com.pk/html/index.php
Line: 333
Function: require_once

آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر14؍ صفرالمظفر 1441ھ 14؍اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ارمش خان

پیارے بچو! چپس تو آپ شوق سے کھاتے ہوں گے۔ آج کل تو چپس نہ صرف بچے بلکہ بڑے بوڑھے سب ہی شوق سے کھاتے ہیں۔ اور مارکیٹ میں بے شمار برانڈ اور فلیورز کے چپس دستیاب ہیں۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ کرارے خستہ چپس کس نے ایجاد کئے تھے؟آج ہم آپ کو بتاتے ہیں ہیں یہ کب اور کس نے ایجاد کیے۔

آلو کے چپس دراصل جارج کرم ( George Crum) نامی ایک شخص نے 1853 میں اتفاقیہ طور پر ایجادکیے تھے۔ جارج کرم ایک سیاہ فام امریکی شیف تھا جو نیویارک کے ایک علاقے ساراٹوگا اسپرنگس (Saratoga Springs) کے مون لیک لاج ریزورٹس ( Moon Lake Lodge resort) میں شیف تھا۔ اس زمانے میں فرنچ فرائز مقبول عام تھیں اور لوگ اکثر لنچ و ڈنر کے ساتھ فرنچ فرائز بھی کھاتے تھے۔ ایک دن ایک گاہک نے شکایت کی کہ کرم نے جو فرنچ فرائز بنائ ہیں وہ بہت موٹی ہیں۔ کرم نے اس کو مطمئن کرنے کے لئے دوسری فرنچ فرائز قدرے پتلے سائز کی بنائیں لیکن گاہک پھر بھی مطمئن نہیں ہوا اور مستقل فرنچ فرائز کے موٹا ہونے کی شکایت کرتا رہا۔ کرم نے چڑ کر تیسری مرتبہ جو فرائز بنائیں وہ انتہائی باریک اور کراری خستہ کردیں، تاکہ گاہک ان کو کانٹے کی مدد سے کھا ہی نہ سکے۔ لیکن کرم کے لئے یہ بات انتہائ حیرت کا باعث بنی کے گاہک کو وہ فرائز بے انتہا پسند آئیں اور اس طرح آلو کے چپس ایجاد ہوگئے۔

کرم کے بنائے چپس ساراٹوگا فرائز کے نام سے مشہور ہوئےاوریہ اتنے مقبول ہو ئے کہ پیکٹس میں بھی فروخت ہونے لگے۔ کرم نے بھی 1860میں اپنا ذاتی ریسٹورنٹ کھول لیا۔ اس ریسٹورنٹ کا نام کرمبزہائوس رکھا،جہاں ہر ٹیبل پر ان خستہ کرارے چپس کی باسکٹ ضرور رکھی ہوتی تھی۔ 1895 میں ولیم ٹیپنڈون ( William Tappendon) نامی شخص نے کلیو لینڈ اوھائیو میں تجارتی بنیادوں پر آلو کے چپس تیار کرنا شروع کئے۔ 1920 میں ہرمن لے  (Herman Lay) نامی ایک سیلز مین نے اپنی گاڑی کی ڈگی میں چپس رکھ کر جگہ جگہ پھر کر فروخت کرنا شروع کئے۔ 1926 میں لورا اسکڈر ( Laura Scudder) نامی ایک خاتون، جس کی کیلیفورنیا میں آلو کے چپس بنانے کی فیکٹری تھی نے مومی کاغذ کے لفافے ایجاد کئے جو چپس کو زیادہ دیر تک تازہ اور خستہ کرارے رکھنے میں مدد گار ثابت ہوئے۔ اس طرح آلو کے چپس مزید مقبول ہوگئے۔ ادھر ہرمن لے کے چپس بہت مقبول ہو ئے۔ یہ امریکہ کے پہلے چپس تھے جو کہ مختلف جگہوں پر مارکیٹ میں بیچےگئے اور ایک مشہور برانڈ بن گیا۔ 1961 میں ہرمن لے نے اپنا کاروبار ڈلاس کی ایک سنیکس فوڈ کمپنی فرائٹوز (Fritos) کے ساتھ مدغم کرلیا،اور اس کے چپس نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا میں مقبول عام ہوگئے۔ آج لیز چپس آپ کو امریکہ کے ملٹی اسٹوری اسٹور سے لے کر پاکستان کے دور دراز گاؤں کی چھوٹی سی پرچون کی دکان تک ہر جگہ مل جائیں گے۔ سوچیئے کہ یہ ایک تنہا انسان نے اپنی کار کی ڈگی میں رکھ کر گلی گلی پھیرا لگا کر بیچنا شروع کئے تھے۔