آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ 18؍ صفر المظفّر 1441ھ 18؍ اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

میڈیا کیلئے خصوصی عدالتیں، حکومت سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کا احتساب ہوسکے گا، نئے اور زیرالتوا مقدمات اور شکایات کا 90 دن میں فیصلہ کریں گی

اسلام آباد (نمائندہ جنگ‘اے پی پی) وفاقی کابینہ نے میڈیا سے متعلق شکایات کےفوری ازالے کیلئے اسپیشل میڈٖیا ٹر یبونلز بنانے کا فیصلہ کیا ہے جونئے اور زیر التواء مقدمات اور شکایات کا 90دن میں فیصلہ کریں گے جس میں بشمول حکومت تمام اسٹیک ہولڈز کا احتساب ہو سکے گا‘ یہ ٹر یبونلز اعلیٰ عدلیہ کی نگرانی میں کام کریں گے۔

میڈیا ٹربیونل کے قیام کے بعد پریس کونسل اور پیمرا کی تشکیل نو کے بعد ایک باڈی بنائی جائے گی۔ کابینہ نے اس امر پر نہایت تشویش کا اظہار کیا کہ بعض عناصر کی جانب سے آزادی اظہار کی آڑ میں اعلیٰ حکومتی شخصیات پر بغیر کسی ثبوت اور شواہد کے الزامات لگائے گئے اور وزیر اعظم سمیت وزراء کی نجی زندگیوں کو بے بنیاد پروپیگنڈے کا نشانہ بنایاگیا۔

کابینہ نے بے نامی ٹرانزیکشن کی روک تھام کےایکٹ کے تحت مختلف کیسز کو حل کرنے کے لئے خصوصی بینچز تشکیل دینے، سی پیک منصوبوں پر کام کرنیوالےچینی باشندوں کے وزٹ ویزے کو بزنس ویزے میں تبدیل کرنے، مریم نواز کے حوالے سے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کرنے‘ سرکاری ملازمین کی کارکردگی کے حوالے سے تجویز کردہ پرفارمنس مینجمنٹ سسٹم اور متروکہ وقف املاک بورڈ کی جائیدادوں کا ڈیٹا بینک سمیت 18 نکاتی ایجنڈے کی منظوری دیدی۔

یہ فیصلے وزیر اعظم عمران کی زیر صدارت ہو نے والے اجلاس میں کئے گئے جن کا اعلان معاون خصوصی اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے پی آئی ڈی میں میڈیا بریفنگ میں کیا۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ میڈیا کے غلط استعمال کو روکنے کے لئے متعلقہ قوانین میں بین الاقوامی سطح پر رائج قوانین کی طرز پر اصلاحات کی جائیں گی تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ میڈیا مفاد پرست عناصرکے ہاتھوں آلہ کار نہ بن سکے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ میڈیا سے متعلق کوڈ آف کنڈکٹ پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے حوالے سے متعلقہ ادارے مثلاً پیمرا وغیرہ بعض وجوہات کی بنیاد پر اپنا کردار موثر طریقے سے ادا نہیں کر پا رہے۔

فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ خواجہ سراؤں کو ہیلتھ کارڈ جاری کئے جائیں گے جبکہ وزیر اعظم نے ڈینگی کے حوالے سے چاروں صوبائی حکومتوں کو خصوصی اقدامات اٹھانے اور دودھ سمیت ہر کھانے پینے کی اشیاء بشمول ادویات میں ملاوٹ کی روک تھام کے لئے صوبوں سے تجاویز بھی مانگ لی ہیں۔

ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بتایا کہ عمران خان نے کہا کہ بعض عناصر کی جانب سے آزادی اظہار کو ذاتی مقاصد کی تکمیل کے لئے استعمال کیا جارہا ہے اور اس ضمن میں بدقسمتی سے میڈیا کوآلہ کار بنایا جا رہا ہے۔ کابینہ اجلاس میں وزیرِ قانون نے قانونی اصلاحات کے ضمن میں کی جانے والی قانون سازی کی تفصیلات کابینہ کے سامنے پیش کیں۔

’بے نامی ٹرانزیکشن (پروہیبشن) ترمیم، کوڈ آف سول پروسیجر (ترمیمی)، خواتین کے وراثتی حقوق، لیگل ایڈ اینڈ جسٹس اتھارٹی، لیٹر آف ایڈمنسٹریشن اینڈ سکیسشن سرٹیفکیٹ، وسل بلور پروٹیکشن اینڈ ویجیلینس کمیشن، سپریئر کورٹس (کورٹ ڈریس اینڈ موڈ آف ایڈریس) آرڈر (ریپیل)، تارکین وطن کی غیر منقولہ جائیدادوں کے تحفظ کے قوانین کی کابینہ نے اصولی منظوری دی۔

معاون خصوصی نے کہا کہ وزیرِ اعظم نے ملاوٹ کے خلاف ملک گیر مہم کے آغاز کا اعلان کیا۔ وزیرِ اعظم عمران خان نے ہدایت کی کہ وفاقی دارالحکومت میں کھوکھا مالکان اور ٹھیلے والوں کو متبادل جگہ کی فراہمی کے کام کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔

معاون خصوصی برائے نیشنل ہیلتھ سروسز نے بتایا کہ آئندہ مرحلے میں تیسری جنس کے افراد کو صحت انصاف کارڈ کی فراہمی کا عمل شروع کیا جا رہا ہے۔ یہ عمل آئندہ چند ہفتوں میں شروع کر دیا جائے گا۔ کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کے 29اگست 2019کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی توثیق کی۔

کابینہ نے ای سی سی کے اجلاس مورخہ 28اگست 2019میں لیے جانے والے کچھ فیصلوں کی تو ثیق کی۔ وفاقی کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے انرجی کے 28اگست2019کے فیصلوں کی بھی توثیق کی۔ کابینہ نے پاکستان ٹوبیکو بورڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تنظیم نو کی بھی منظوری دی۔ کابینہ نے پاکستان الائیڈ ہیلتھ پروفیشنل اینڈ پیرامیڈکس کونسل ایکٹ کی بھی اصولی منظوری دی۔

کابینہ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز اسلام آباد ریفارمز ایکٹ 2019کے مسودے کی بھی اصولی منظوری دی۔ کابینہ نے سابقہ قبائلی علاقوں کے لئے مختص کردہ زکوٰۃ کی رقم صوبہ خیبر پختونخوا کو منتقل کرنے کی منظوری دی۔ اس کی مالیت 29 کروڑ 99 لاکھ 43 ہزار 435 روپے ہے۔

ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بتایا کہ میڈیا سے متعلق کیسز التواءکا شکار ہونے سے خود احتسابی کا عمل متاثر ہوتا ہے، اس لئے اسپیشل میڈیا ٹربیونل بنانے جارہے ہیں، اس میں تمام اسٹیک ہولڈرز کی شکایات کا ازالہ کریں گے، ان ٹربیونل کی سرپرستی اعلی عدلیہ کرے گی، جو بھی آئین اور قانون سے باہر کام کرے گا اس سے متعلق میڈیا کے الزامات کا جائزہ ٹربیونل کرے گا اور اپنا فیصلہ دے گا،90دن میں ٹربیونل فیصلہ کرنے کا پابند ہوگا۔

وزیراعظم کی ہدایات پر الیکشن کمیشن کی جانب سے نائب صدارت کے حوالے سے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے کیونکہ ذوالفقار بھٹہ کیس اور بے نظیر کیس میں واضح کہا گیا ہے کہ نااہل شخص عہدہ نہیں رکھ سکتا، یہ اپیل جلدفائل ہوگی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میڈیا ٹربیونل کے قیام کے بعد پریس کونسل اور پیمرا کی تشکیل نو کے بعد ایک باڈی بنائی جائے گی۔ پاکستان کے عوام، میڈیا مالکان اور ادارے، میڈیا ورکرز، سرکاری غیر سرکاری اداروں کے حکام اور حکومت میڈیا ٹربیونل کے اسٹیک ہولڈرز ہونگے، حکومتی شکنجوں سے میڈیا ٹربیونل مکمل آزاد ہونگے۔

ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ وزیراعظم پہلے سعودی عرب جائیں گے اسکے بعد وہ اقوام متحدہ جائیں گے، جلد کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لئے جمعہ کے پلان سے میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ایک تاثر تھا کہ کسی مخصوص شخصیت کے لئے میٹنگ کا انعقاد کیا گیا، ایسا کچھ نہیں ہے کوئی ڈیل نہیں ہوگی، لوٹے ہوئے پیسے چوروں سے نکلوائیں گے تاہم نیب آرڈیننس کے تحت پلی بارگین کا آپشن ہے۔

وزیراعظم کشمیریوں کی آزادی اور مولانا فضل الرحمان 22نمبر بنگلے کے لئے مارچ کی باتیں کررہے ہیں، دس سال مولانا فضل الرحمان نے چیئرمین کشمیر کمیٹی بن کر جو غیر ملکی دورے کیے ہیں کاش وہ یہ ہی قرض ادا کر دیں۔

اہم خبریں سے مزید