آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل 14؍ربیع الاوّل 1441ھ 12؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

سری لنکا انٹیلی جنس کے سربراہ میجر جنرل (ر) کولا تھنگے نے کہا ہے کہ ٹیم پر پاکستان میں حملے کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ پاکستان میں سری لنکا کے ہائی کمشنر کو بھی سری لنکا میں کسی ممکنہ حملے کی کوئی اطلاع نہیں تھی۔

سری لنکا کرکٹ کا کہنا ہے کہ کراچی اور لاہور میں پاکستان آرمی براہ راست سیکیورٹی انتظامات کی نگرانی کرے گی۔

سری لنکا کرکٹ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ہمیں یقین دلایا گیا ہے کہ پاکستان آرمی تمام انتظامات کرے گی۔ وزارت دفاع نے ٹیم کو پاکستان بھیجنے کی اجازت دے دی ہے۔ حکومت پاکستان نے سری لنکن حکومت کو خط لکھ کر ٹیم کو فول پروف سیکیورٹی کی یقین دہانی کرادی ہے جس سے سری لنکا کےدورہ پاکستان پر چھائے خدشات کے بادل چھٹ گئے ہیں۔

لاہور میں سیریز کے لیے قومی ٹیم کے 4 روزہ تربیتی کیمپ کا بھی آغاز ہو گیا ہے۔ کیمپ میں کپتان سرفراز احمدبھی شریک ہوگئے ہیں۔

پاکستان اور سری لنکا کے درمیان ون ڈے اور ٹی20 سیریز 27 ستمبر سے 9 اکتوبر تک شیڈول ہے۔

جمعرات کوسری لنکا کرکٹ کےسیکرٹری موہن ڈی سلوا نے کہا کہ حکومت کی جانب سے گرین سگنل مل گیا ہے، میں خود اور دیگر بورڈ عہدیدار بھی ٹیم کے ساتھ جائیں گے۔

ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ سری لنکن ٹیم کو کراچی اور لاہور میں سربراہ مملکت کے برابر سیکیورٹی فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔

سری لنکا کی ٹیم بدھ کو پاکستان آئے گی، پہلا ون ڈے 27 ستمبر کو کراچی میں کھیلا جائے گا، اس کے بعد مزید دو ایک روزہ میچز نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں ہوں گے، تین ٹی ٹوئنٹی میچز لاہور میں شیڈول ہیں۔

موہن ڈی سلوا نے کہا کہ کولمبو میں پاکستانی ہائی کمیشن نےحکومت پاکستان کی جانب سے ہمیں یقین دلایا ہے کہ ٹیم کو غیر ملکی سربراہ مملکت کے مساوی سیکیورٹی فراہم کی جائے گی۔

ہائی کمشنر کی جانب سے خط میں سری لنکا ٹیم کو پاکستان میں غیر ملکی سربراہوں کے مساوی سیکیورٹی فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ پاکستان میں سری لنکا ٹیم کا خاص خیال رکھا جائے گا۔

گذشتہ ہفتے دورہ اس وقت شدید خدشات کا شکار ہوگیا تھا جب سری لنکا کے بورڈ کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کے دفتر نے ہدایت جاری کی ہے کہ مختصر طرز کرکٹ کے 6 میچوں کے دورے میں قومی ٹیم کے خلاف، ممکنہ دہشت گرد خطرے کے حوالے سے باوثوق معلومات ملنے کے بعد صورت حال کا دوبارہ جائزہ لیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ سری لنکا کی حکومت کو سیکیورٹی کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے کہا جائے گا۔ سری لنکا کرکٹ نے سیکیورٹی انتظامات پر اطمیان کا اظہار کیا ہے۔

2009 میں لاہور میں سری لنکا کرکٹ ٹیم پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد پاکستان میں دس سال سے کوئی ٹیسٹ میچ نہیں ہوا ہے۔ سری لنکا دس سال بعد پاکستان میں ون ڈے انٹر نیشنل کھیلنے والی پہلی ٹیم بن جائے گی۔

سری لنکا کے دس کھلاڑیوں نے سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے پاکستان آنے سے انکار کردیا ہے۔

سیکریٹری موہن ڈی سلوا کا یہ بھی کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ پاکستان کا دورہ کیا تو سیکورٹی انتظامات اطمینان بخش تھے۔ پی سی بی نے سیریز کو کسی اور ملک منتقل کرنے سے انکار کردیا تھا۔

کھیلوں کی خبریں سے مزید