آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ24؍ ربیع الاوّل 1441ھ 22؍ نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

آج کا جوان خواہ وہ دنیا کے کسی بھی خطے سے تعلق رکھتا ہو، بے پناہ صلاحیتوں کا مالک ہے۔ انہی صلاحیتوں کی بنیاد پر وہ کچھ کر دکھانا چاہتا ہے، ایک دوسرے پر سبقت لے جانا چاہتا ہے۔ بلاشبہ پاکستانی نوجوان کسی سے کم نہیں ان میں بھی وہی جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہے، جو دنیا کے کسی بھی ترقی یافتہ ملک کے نوجوان میں ہونا چاہیے۔ یہ دنیا کے قدم سے قدم ملا کر چلنا بخوبی جانتے ہیں۔ چاہے سائنس کا شعبہ ہو یا فنون لطیفہ ، کھیل کا میدان ہو یا ٹیکنالوجی کا۔ ہمارے نوجوان پیش پیش نظر آئیں گے۔ ان میں قابلیت اور ذہانیت کی کمی نہیں، یہ باہمت اور محنتی تو ہیں ہی، ان میں کچھ کر دکھانے کا بے پناہ جوش و جذبہ بھی ہوتا ہے۔ 

یہ ہی وجہ ہے کہ کئی نوجوانوں نے بین الاقوامی سطح پر ملک کا نام روشن کیاہے۔خوش آئند بات یہ ہے کہ، صرف روایتی شعبہ جات میں ہی نہیں بلکہ وہ اپنی دلچسپی اور پسند کو اہمیت دیتے ہوئے نت نئے شعبوں میں بھی قدم رکھ رہے ہیں اور ان میں مہارت حاصل کرنے کے لیے دن رات محنت بھی کر رہے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ کمپوٹر بالخصوص انٹرنیٹ کا استعمال آج کل کے نوجوانوں کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ گوکہ یہ ایک اہم ایجاد ہے، جس میں وقت کے ساتھ ساتھ بے پناہ تبدیلیاں آئیں ہیں۔ روز مرہ کی زندگی میں انٹر نیٹ کا استعمال اس قدر بڑھ گیا ہے کہ اس نے ضروریات زندگی کی جگہ حاصل کر لی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ آج کے نوجوان اسی سے تعلق رکھنے والے شعبہ جات ان کی ترجیحات کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ اب وہ دور نہیں رہا جب صرف ڈاکٹر اور انجینئرنگ کی تعلیم کو اہمیت دی جاتی تھی۔ بدلتے دور کے ساتھ اس میں بھی جدت آگئی ہے۔ دن بہ دن نت نئی ایپلی کیشن اور سوفٹ وئیر کا اضافہ ہو رہا ہے۔ جس کے باعث نسل نو نہ صرف ان سے منسلک شعبہ جات میں قسمت آزما رہے ہیں بلکہ کام یاب بھی ہو رہے ہیں۔ ایسا ہی ایک شعبہ’’وی-لاگینگ‘‘ ہے، جس کے ذریعے نوجوان نہ صرف پیسے کما سکتے ہیں بلکہ دنیا بھر میں شہرت بھی حاصل کرسکتے ہیں۔ وی لاگ ہے کیا، اس کا آغاز کب اور کیسے ہوا، زیر نظر مضمون میں پڑھیے۔

انٹرنیٹ کی ایجاد کے ساتھ ہی مختلف سرچ انجنز (سرچ انجنز، ان سائٹس کو کہا جاتا ہے، جہاں آپ کوئی بھی چیز لکھ کر تلاش کرتے ہیں) بھی وجود میں آئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے گوگل دنیا بھر میں مقبول ترین سرچ انجن بن کر اُبھرا جس نے کئی مختلف ویب سائٹس، ایپلی کیشنز، سروسز متعارف کروائیں۔ شاید ہی کوئی ایسی معلومات ہو، جو ہمیں گوگل پر نہ ملے۔ چاہے کھانوں کی تراکیب ہوں یا امراض قلب کا علاج ہر چیز کی معلومات گوگل پر میسر ہے۔

2003 میں گوگل نے ان افراد کے لیے بلاگنگ کا آغاز کیا جو لکھنا چاہتے تھے، اپنے خیالات دوسروں تک پہچانا چاہتے تھے، لیکن انہیں کوئی پلیٹ فارم میسر نہیں تھا، یا پھر ان کے پاس اتنی سہولیتں نہیں تھیں کہ وہ اپنا مضمون کسی اخبار، میگزین یا کتابی شکل میں شائع کروا سکیں۔ ایسے افراد نے ’’بلاگر ڈاٹ کام‘‘ سے خوب استفادہ کیا۔ بلاگ کی مقبولیت اور ٹیکنالوجی میں آنے والی جدد کو مدنظر رکھتے ہوئے گوگل نے بلاگ میں وڈیو کا آپشن متعارف کروا کر ٹیکنالوجی کی دنیا میں تہلکا مچا دیا۔ اب تک جو کچھ لکھ کر قارئین کے ساتھ شئیر کیا جاتا رہا تھا, وہی سب اس سہولت کے بعد وڈیو کے ذریعے شئیر کیا جانے لگا۔ ان وڈیوز کو’’وڈیو لاگ" یعنی ’’وی-لاگ’’ کا نام دیا گیا۔

وی لاگ کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ، ’’نیلسن سولین‘‘ نامی ایک شخص نے1980ء کی دہائی میں سب سے پہلے امریکی شہر نیویارک اور ساوتھ کارولینا کی سڑکوں پر وی لاگ کے طرز پر وڈیوز ریکارڈ کرنا شروع کیں۔ بعدازاں 2 جنوری 2000 کو ’’آدم کونٹراس‘‘ نے اپنے بلاگ کے ہمراہ پہلی بار وڈیو بھی پوسٹ کی، لیکن یہ زیادہ مقبول نہ ہوسکی۔ مشہور فلم ساز ’’لیوک بومین‘‘ نے 2002 میں اور ’’اسٹو گارفیلڈ‘‘ نے 2004 میں وڈیو ڈائریز بنانا شروع کی جن میں وہ اپنے روز مرہ کے معمول ریکارڈ کرتے تھے۔ ان وڈیوز کو صرف ان کے عزیز و اقارب ہی دیکھ سکتے تھے۔

لیکن وی لاگ اس وقت مقبولیت اختیار کرگئے جب 2005ء میں یوٹیوب پر پہلی بار ایک شخص ’’جاوید کریم‘‘ نے اپنا چینل ’جاوید‘ بناکر وڈیو پوسٹ کی، جس میں وہ مقامی چڑیا گھر کی سیر کرتے دکھائی دے رہے تھے، جسے کئی صارفین نے نہ صرف دیکھا بلکہ شئیر بھی کیا۔ 2006 تک مغربی ممالک میں وی لاگینگ کی اصطلاح عام ہوگئی، روزانہ کی بنیاد پر تقریباً دس کڑور وڈیوز دیکھی جاتیں اور ساٹھ ہزار سے زائد وڈیوز اپ لوڈ ہونے لگی تھیں۔ اب کئی افراد اپنے یوٹیوب چینل سمیت دیگر پلٹ فارم پر بھی اپنے وی لاگ دیگر افراد کے ساتھ شئیر کرنے لگے تھے۔ نوجوانوں کی دلچسپی وی لاگینگ میں اس وقت مزید بڑھ گئی، جب یوٹیوب نے سب سے زیادہ دیکھے جانے والی وڈیوز کے بنانے والے کو پیسے دینا شروع کیے۔ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ویڈیو بلاگنگ میں مصروف اور مشغول نظر آنے لگی، کیوں کہ یہ نہ صرف پیسے کمانے کا آسان اور شارٹ کٹ راستہ ہے، بلکہ شہرت حاصل کرنے کا بھی ذریعہ ہے۔

جہاں بلاگ نے، لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کی وہیں وی لاگ ان نوجوانوں کے شوق کو پورا کرتا دکھائی دیا جو اداکاری کے شعبے میں نام کمانا چاہتے تھے۔ واضح رہے کہ 2008ء کے بعد وی لاگ کی دو اقسام سامنے آئیں، ایک ’’پرسنل وی لاگ‘‘ جس میں کوئی بھی عام صارف اپنی روزمرہ کی وڈیو یا پھر معلوماتی وڈیو ریکارڈ کرکے اپنے دوست احباب کے ساتھ شئیر کرتا اور دوسری ’’لائف بروڈکاسٹنگ وی لاگ‘‘ جس میں یوٹیوب لائف کے ذریعے صارف کسی سیمینار یا فنکشن میں موجود ہوں تو اسے دیگر افراد کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے استعمال کیا جانے لگا، مثال کے طور پر کسی ایسے سیمینار یا تقریب میں ہیں، جس میں محدود افراد نے شرکت کی ہو، لیکن آپ چاہتے ہیں کہ اسے بیک وقت دنیا کے کسی دوسرے کونے میں بیٹھے افراد کے ساتھ بھی شئیر کیا جائے تو لائف براڈکاسٹنگ وی لاگ کے ذریعے اسے دنیا بھر میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک، انسٹا گرام اور یوٹیوب صارفین کے ساتھ وقت شئیر کرسکتے ہیں۔

آج کے دور میں لیپ ٹاپ، ٹیبلیٹ یا پھر اسمارٹ موبائل فون تو ہر ایک کے پاس ہوتا ہے، لیکن اگر آپ وی لاگر بنا چاہتے ہیں تو بس اتنا کرنا ہے کہ، اپنے ارد گرد کوئی بھی دلچسپ واقعہ رونما ہوتا دیکھیں تو فوراً اسے کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرلیں، پھر اپنا تجزیہ و تبصرہ دیں اور وڈیو کو اپنے فیس بک یا یوٹیوب اکاونٹ سے دیگر افراد کے ساتھ شئیر کریں، یا پھر آپ میں کوئی ہنر ہے تو اس کی وڈیو بنا کر اپنے چینل پر اپ لوڈ کردیں۔ اگر آپ کے چینل کے دس لاکھ سبسکرائبر ہوجائیں تو یوٹیوب آپ کو گولڈن بٹن بطور انعام دیتا ہے، صرف یہ ہی نہیں بلکہ وڈیو کے سبب حاصل ہونے والے پیسوں کا پچپن فیصد حصہ آپ کو دیا جاتا ہے، ساتھ ہی مختلف ایڈورٹائزرس یوٹیوبرز کو اسپانسر بھی کرتے ہیں۔

پاکستان میں اس وقت چھ یوٹیوبرز کے پاس گولڈن بٹن ہے۔ وی لاگر بننے کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں، چاہے آپ نو عمر ہوں یا ادھیڑ ، بس وڈیو کا مواد دلچسپ، معلوماتی، سبق آموز ہونا چاہئے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ اکثر اوقات بعض وڈیوز غیر ارادی طور پر وائرل ہوجاتے ہیں۔ مثلاً آپ کو پچھلے سال وائرل ہونے والی ننھے احمد شاہ کی ’’میرا بستہ واپس کرو‘‘ کی وڈیو یاد ہوگی، یا پھر فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے پینٹر عاطف کی گانا گاتے ہوئے ریکارڈ کی جانے والی وڈیو، تین برس قبل وائرل ہونے والی عائشہ ثناء کی ’’برائٹ کریں‘‘ والی وڈیو یہ اور ایسی کئی وڈیو غیر ارادی طور پر وائرل ہوئی ہیں۔ ایسی وڈیوز کو اکثر افراد وی لاگ کے زمرے میں شمار کرتے ہیں مگر ایسا ہرگز نہیں ہے۔

لیکن یوٹیوب ایسی وڈیوز کے وائرل ہونے پر بھی وڈیو پہلی بار نیٹ پر شئیر کرنے والے کو پیسے دیتے ہیں۔ واضح رہے کہ ایسی وڈیوز یا وی لاگ کے ذریعے پیسے کمانا چاہتے ہیں تو اس بات کا خیال رکھیں کہ آپ کی وڈیو کوئی اور ڈاؤن لوڈ کرکے اپنے چینل پر اپ لوڈ نہ کرئے، آپ کی وڈیو کا مواد بھی بالکل نیا ہو، ساتھ ہی آپ کے چینل کی وڈیو کم سے کم ہزار بار دیکھی جائے، اگر یہ تعداد ایک ہزار سے تجاویز کرگئی ہے تو یہ آپ کے لیے اچھی خبر ہے، کیوں کہ وڈیو جتنی بار دیکھی اور شئیر کی جائے گی، اتنی ہی بار آپ کو اس کے پیسے ملیں گےجو کم سے کم اٹھارہ ڈالر سے شروع ہوتے ہیں۔ نیز سبسکرائبرز بڑھانے کی کوشش جاری رکھیں۔ پاکستان میں سوشل میڈیا کا استعمال معاشی اور سماجی ناانصافی سے متاثر نوجوانوں کو سامنے لا رہا ہے۔  

نوجوان نسل ویڈیو بلاگ کے ذریعے اپنی رائے کا آزادانہ اظہار کررہی ہے، ان کے تصورات ،صلاحیتیں اور جوش دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کا مستقبل بہت روشن ہے۔ ویڈیو بلاگنگ کے ذریعے نوجوان نسل اپنے خیالات اور اپنی آواز کو بلند کرتے ہیں جس کو اکثر ہمارا میڈیا بھی نظر انداز کر دیتا ہے۔ فیس بک پر مختصر دورانئے کی ویڈیو زیادہ بہتر کارکردگی دکھاتی ہیں۔ فیس بک پر مالی فائدہ حاصل کرنے کے لئے دو مہینے کے اندر کم از کم تین منٹ کی ویڈیو پر 30ہزار ویوز حاصل کرنا ضروری ہیں، کیوں کہ یوٹیوب پر مختلف کمپنیاں اشتہارات دیتی ہیں۔ جس میں 45 فیصد یوٹیوب والے پیسے رکھتے ہیں، جب کہ 55 فیصد ویڈیو بنانے والے کو دیئے جاتے ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ دس لاکھ ویورز سے 100 ڈالرز سے ہزار ڈالرز تک کمائے جا سکتے ہیں اور یہ کمائی ایک بار نہیں ہوتی کیوں کہ لوگ سالوں ان ویڈیوز کو دیکھتے رہتے ہیں۔ اگر آپ کی اچھی، معیاری ،معلوماتی، اور دلچسپ ویڈیوز کو دنیا بھر کے لوگوں کی بڑی تعداد دیکھنا شروع کر دے گی تو ایڈور ٹائزر خود چل کر آپ کے پاس آئیں گے۔ یہ ایک پورا مربوط نظام ہے، اس کا مرحلہ وار طریقہ کچھ یوں ہے کہ آپ کو اپنے مواد کے لئے پلیٹ فارم چاہئے ہو گا۔ وہ یوٹیوب، چینل کی صورت میں فراہم کرتا ہے۔ 

وی بلاگ پر تخلیقی مواد ہو تو زیادہ ویورز آتے ہیں، اور یہ ہی ایڈورٹائزر کو چاہے ہوتا ہے۔ ابتداً چھ مہینے میں ویڈیوز کے ویورز کم ہوتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی دو چار ویڈیوز وائرل ہوتی ہیں۔ باقی تمام ویڈیوز پر بھی ویورز آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ ویڈیو بلاگ کی تیاری کے لئے لائٹنگ، آڈیو اور ایڈیٹنگ کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ آسان الفاظ کا استعمال کریں، تو ٹیکنالوجی کی ایجادات سے جہاں، علمی ، مالیاتی، معاشی ، سماجی ، روایتی ترقی کے نئے ابواب میں اضافہ ہوا ہے۔ وی لاگینگ کے مثبت پہلو کے ساتھ منفی پہلو بھی ہیں، جن پر قابو پانا بے حد ضروری ہے۔ کم وقت میں زیادہ سے زیادہ سبسکرائبرز اور ناظرین بنانے کی دوڑ میں کئی وی لاگر غیر اخلاقی حرکات کر گزرتے ہیں، یا نامناسب مواد اپنے چینل پر شئیر کرتے ہیں۔ جس سے ان کے چینل کے فالوورز تو بڑھ جاتے ہیں لیکن ان کی ساکھ خراب ہوجاتی ہے۔ 

وی لاگینگ ایک ذمہ دارانہ عمل ہے کیوں کہ یہ نسل نو کی سوچ و عمل پر براہ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ اس لیے اس کے استعمال میں احتیاط برتنی چاہیے۔ جب انفرادی حیثیت میں انسان نظم و ضبط کا پابند ہو جاتا ہے۔ تو اپنے کام میں نمایاں کامیابی حاصل کر کے معاشرے کیلئے بھی ایک کارآمد فرد بن جاتا ہے۔ سوشل میڈیا کی کوئی بھی ایپس چاہے ویڈیو بلاگینگ ہی کیوں نہ ہو اس کا ایک حدتک استعمال کریں اور ویڈیو بلاگینگ کے ذریعے اچھی معیاری ویڈیوز بنا کر ملک و قوم کی اصلاح کریں اور اپنی ویڈیوز کے ذریعے معاشرے کی مختلف خامیوں کی نشاندہی کریں۔ آپ تعلیمی ،مذہبی ،معلوماتی اور طنز و مزاح پر مبنی ویڈیوز بنائیں۔ ہر نئی ویڈیو کو، پہلے سے بہتر بنائے جائیں تو انشاء اللہ آپ کامیاب ہو جائیں گے۔

نوجوان سے مزید