آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل 21؍ربیع الاوّل 1441ھ 19؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

گٹکا, ماوا پر کوئی چھوٹ نہیں، 10سال قید ہوگی، کراچی پولیس چیف

کراچی (ثاقب صغیر / اسٹاف رپورٹر) ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام نبی میمن نے کہا ہے کہ شہر میں گٹکا ،ماوا اور مین پوری کے کاروبار میں ملوث افراد کیلئے اب کوئی چھوٹ نہیں ہے، دفعہJ-337کے تحت انہیں اب 10؍ سال قید ہوگی، میرٹ پر ایس ایچ اوز تعینات کئے۔ 

گزشتہ روز جنگ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کراچی پولیس چیف غلام نبی میمن کا کہنا تھا کہ ہر تھانے میں 3؍ ڈی این اے ایکسپرٹس تعینات کئے جارہے ہیں، پہلے ایک ڈی این اے ٹیسٹ میں 22؍ ہزار روپے لگتے تھےتاہم اب ہمارے ایکسپرٹس یہ کام کریں گے اور اس کیلئے انہیں کراچی یونیورسٹی کے تعاون سے تربیت دی جا رہی ہے۔

اسٹریٹ کرائم میں منشیات کے عادی نوجوان ملوث ہیں ،موبائل فون کی چھننے کے بعدصرف5فیصد شہری ایف آئی آر درج کرواتے ہیں جسکا فائدہ ملزمان کو ہوتا ہے، ناکہ بندی پوائنٹس پر مینوئل کے بجائے آٹومیٹک سسٹم کے ذریعے گاڑیوں کی سرچنگ کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ پہلی بار تھانوں میں ایس ایچ اوز کی تعیناتی کیلئے ٹیسٹ اور انٹرویوز لئے گئے ہیں اور جو افسران اس ٹیسٹ میں کامیاب ہوئے میرٹ کی بنیادپر صرف انھیں تعینات کیا گیا ہے،جب افسر میرٹ پر لگے گا تو وہ تھانہ بھی اچھا چلائے گا،پہلی بار پولیس افسران اور اہلکاروں کے خلاف مقدمات درج کر کے انھیں گرفتار اور نوکری سے فارغ کیا گیا۔ 

انہوں نے بتایا کہ 3؍ ماڈل تھانے بنائے گئے ہیں، ماڈل تھانوں کی عمارتوں میں 10؍ مختلف حصے ہوں گے، ماڈل تھانوں میں آپریشن ٹیم، تفتیشی ٹیم، فارنسک ٹیم، آئی ٹی ٹیم، انٹروگیشن روم الگ الگ بنایا جائے گا، ماڈل تھانوں میں کانفرنس روم بھی بنائے جائیں گے، ماڈل تھانوں میں کمپیوٹر آپریٹرز، ڈین این اے ایکسپرٹ، بائیو میٹرک ایکسپرٹ، آئی ٹی اور سی ڈی آر ایکسپرٹ بھی تعینات ہونگے۔

ماڈل تھانوں میں اکاؤنٹنٹ اور خواتین کی نفری بھی تعینات کی جائے گی ، بیشتر نفری قریب علاقوں میں رہائش پذیر اہلکاروں کی ہوگی۔ 

غلام نبی میمن نے بتایا کہ کراچی میں رواں برس9ہزار سے زائد منشیات فروش پکڑے گئے لیکن سندھ کیمیکل ایگزمینیشن لیب غیر فعال ہونے کے باعث پکڑی گئی منشیات کی رپورٹ نہ ہونے کے باعث عدالت سے ملزمان چھوٹ جاتے ہیں،انہوں نے بتایا کہ ہمیں پکڑی گئی منشیات لاہور کیمیکل لیب بھیجنا پڑتی ہیں اور لاہور سے رپورٹ بنانے والے کیمیکل ایگزامنر وہاں سے ہر رپورٹ کیساتھ کراچی آ کر عدالت میں پیش نہیں ہو سکتا جس کی وجہ سے ملزمان کو اسکا فائدہ پہنچتا ہے۔ 

انہوں نے بتایا کہ سندھ ہائی کورٹ کے حکم کے تحت ان گٹکا اور مین پوری فروشوں پر پی پی سی کی دفعہ J-337؍ لگائی جا رہی ہے جوناقابل ضمانت ہے اور اسکی سزا 10سال قید ہوگی، گزشتہ 3؍ روز میں مذکورہ دفعہ کے تحت96کیس رجسٹر کئے گئے ہیں۔ 

انہوں نے بتایا کہ میں نے تمام ایس ایچ اوز اور افسران کو ہدایت کی ہے کہ اگر کوئی شہری کسی واقعہ کی رپورٹ درج نہیں کرواتا تو پولیس خود اس واقعہ کی رپورٹ درج کرے۔ 

اسٹریٹ کرائم کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر انکا کہنا تھا کہ پولیس اسٹریٹ کرائم پر کام کر رہی ہے اور کئی ملزمان بھی گرفتار کئے گئے ہیں، انہوں نے شہریوں سے درخواست کی کہ وہ اپنے ساتھ ہونے والے واقعہ کی رپورٹ لازمی درج کروائیں۔

اہم خبریں سے مزید