آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 20؍ربیع الاوّل 1441ھ 18؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

وطن عزیز میں ہر طرف مہنگائی مہنگائی کا شور ہے، کل ایک سپر اسٹور جانے کا اتفاق ہوا، بہت سی چیزوں کے نرخ دیکھے، وہی ریٹ تھے جو عام بازار کی دکانوں پر ہوتے ہیں۔ لوگوں کا ہجوم وہاں ایسے تھا جیسے تمام اشیا مفت مل رہی ہوں۔ معلوم ہی نہیں ہو رہا تھا کہ ملک جس میں ہر کوئی معاشی بدحالی کا رونا روتا ملتا ہے، ہر چیز کے مہنگا ہونے کی شکایت کرتا ہے، اس کے باوجود کسی چیز کی خریداری میں کمی نہیں آرہی۔ ایک معاشی اصول یہ بھی ہے کہ جب تک کوئی بھی چیز قوتِ خرید میں رہتی ہے، وہ مہنگی نہیں کہلاتی، جب وہ یا کوئی بھی چیز قوتِ خرید میں نہ رہے، آدمی اپنی خواہش کے باوجود اسے خرید نہ سکے تو وہ چیز واقعی مہنگی ہو جاتی ہے۔

مجھے یاد ہے 1948میں اسی کراچی میں بکرے کا گوشت ایک روپے چار آنے سیر بکا کرتا تھا، قصائی گوشت صاف کرکے تولتا تھا، ہڈی چھیچھڑے کا وزن نہیں ہوتا تھا، قصائی شام تک بمشکل ایک بکرے کا گوشت فروخت کر سکتا تھا۔ اس وقت کے لوگ بھی یہی کہتے تھے کہ بہت مہنگائی ہے، آٹا اچھے قسم کا ایک روپے کا چار سیر ملا کرتا تھا جو عام خریدار کی قوتِ خرید سے باہر ہوتا تھا۔ آج بکرے کا گوشت ہزار بارہ سو روپے کلو ملتا ہے اور ہڈی چھیچھڑوں سمیت تولا جاتا ہے۔ جو صبح گیارہ بارہ بجے کے بعد نہیں ملتا۔ قصائی صاف صفائی کرکے دکان بند کرکے بھی چلا جاتا ہے۔ آٹا پچاس سے اسی روپے کلو ہے تو بھی لوگوں کی قوتِ خرید میں ہے۔ پہلے بڑے عہدیدار کی تنخواہ تین سو سے چار پانچ سو سے زیادہ نہیں ہوتی تھی جبکہ آج پندرہ بیس لاکھ کےبرابر تھی، مہنگائی کا گلہ تب بھی تھا سو اب بھی ہے۔ مہنگائی کا توازن آمدن سے کیا جاتا ہے۔ پہلے ایک آنہ یا دو آنے میں عام طور پر لوگ پیٹ بھر کا کھانا کھا لیا کرتے تھے جبکہ آج ویسا ہی کھانا سو سے پانچ سو میں بھی نہیں ملتا۔ ہر دور میں مہنگائی رہتی ہے، ملکی ہو یا ذاتی معیشت کا تعلق ذریعہ آمدن سے ہوتا ہے، پہلے لوگ حالات سے سمجھوتا کرنا جانتے تھے، نمود و نمائش کا اتنا چلن نہیں تھا، آج حرص و ہوس اور نمود و نمائش نے لوگوں کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔ وہ اپنی حقیقی ضروریات سے زیادہ حرص اور نام و نمود پر خرچ کرتے ہیں اور رونا مہنگائی کا روتے ہیں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ پاکستان کے ابتدائی دنوں میں برٹش ایئر ویز کے ہوائی جہاز کا کرایہ کراچی سے راولپنڈی کا یکطرفہ ایک سو پچاس روپے اور دو طرفہ کرایہ ڈھائی سو روپے تھا۔ اس کے باوجود جہاز ادھے سے زیادہ خالی ہوا کرتا تھا۔ اس وقت کے لحاظ سے ایک سو پچاس روپے بہت اہمیت رکھتے تھے جبکہ آج راولپنڈی یا اسلام آباد کا دوطرفہ کرایہ اڑتالیس ہزار روپے ہے اور جہاز مکمل بھرا ہوتا ہے۔ لوگوں کو اتنے روپوں میں بھی اکثر سیٹ نہیں ملتی، وہ ڈھائی سو روپے کا زمانہ مہنگا تھا یا آج کا اڑتالیس ہزار روپے کا، جس میں اکثر سیٹ دستاب نہیں ہوتی؟ برٹش ایئر ویز اپنے پیسنجرز کو ایئر پورٹ سے گھر تک پہچانے کا انتظام کیا کرتی تھی۔ وہ زمانہ مہنگا تھا یا آج مہنگا ہے ہر دور، ہر زمانے کی اپنی ضروریات ہوا کرتی ہیں، بس آمدنی اور خرچ کے توازن کی ضرورت ہوتی ہے۔ نہ مہنگائی پہلے تھی نہ آج ہے، ہمارے اپنے رویوں اور احساس اور نام و نمود کی بات ہے۔

ہر حکومت آنے کے بعد جانے والی حکومت کے سر سارا ملبہ ڈال کر الزامات کی بارش برسا کر اپنی آنے والی مشکلات کا رونا ضرور روتی ہے تاکہ عوامُی شور شرابے سے بچا جائے اور پھر وہ کام جو گزشتہ حکومت کے غلط ہوا کرتے تھے، جن کی وجہ سے ان آنے والوں کو اقتدار نصیب ہوا ہوتا ہے، بصد مجبوری وہی سارے نااہلی والے کام، خود کرنا پڑتے ہیں تو ملک کی ترقی و خوشحالی کا راگ سنایا جا رہا ہوتا ہے۔ اُن سارے الزامات و نااہلی کا سہرا اب اپنے سر سجایا جا رہا ہے تو سب اچھا ہی نہیں، بہت اچھا ہے۔ دراصل وطن عزیز کو جن مخلص، بے لوث سیاستدانوں کی ضرورت ہے وہ ناپید ہو چکے ہیں۔ اب جس کی لاٹھی اُس کی بھینس کا زمانہ ہے۔ اقتدار اس کا ہی ہوتا ہے جس کے ساتھ قوت ہو، ورنہ تمام اہلیت و قابلیت دھری کی دھری رہ جاتی ہے۔ طاقت کے زور پر آنے والوں کو نہ عوام سے اور نہ وطن عزیز سے غرض ہوتی ہے، وہ اپنے اور اپنے پشتبانوں کے مفادات میں مصروف رہتے ہیں۔ نوکر شاہی اپنی من مانی سے حکومت چلا رہی ہے، شاید تبھی موجودہ وزیراعظم بار بار اپنے کیے ہوئے وعدوں سے انحراف کرتے دکھائی دیتے ہیں چونکہ عمران خان کو نہ تو نوکر شاہی، نہ ہی اسٹیبلشمنٹ کا کوئی تجربہ تھا، بیورو کریسی نے جس طرف چلایا، جو راستہ دکھایا وہی حکومت کے لئے بہتر سمجھا حالانکہ اُن کی کابینہ میں ایک سے ایک منجھا ہوا کاریگر سیاست دان شامل ہے لیکن کسی میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ بیورو کریسی سے اختلاف کی جرات کر سکے۔ بس چل سو چل، نوکرشاہی نے حکمران وقت کو اپنے شکنجے میں اس طرح جکڑ لیا ہے نہ نگلتے بنتی ہے نہ اُگلتے بنتی ہے۔ حکمرانوں کی نااہلی کا سارا ملبہ حزب اختلاف پر منتقل کر دیا گیا۔ مخالفین کو زیر عتاب لاکر سمجھا جا رہا ہے کہ حکمران وقت جو کر رہے ہیں وہی درست ہے جبکہ تماشا کچھ اور ہی ہے۔ یہ اسٹیبلشمنٹ اور بیورو کریسی کی کھنچا تانی ہے کیونکہ اسٹیبلشمنٹ نے بیورو کریسی کو اعتماد میں لیے بغیر اپنی قوت کے بل پر ملک میں غیر متوقع تبدیلی بپا کر دی ہے جس کے نتیجہ میں اختیارات کی رسہ کشی چل پڑی ہے۔ عوام اس میں روندے جا رہے ہیں۔ حکمران بے بسی سے اپنے اقتدار کی خیر منا رہے ہیں۔ کہنے والے کہہ رہے ہیں کہ سیاسی جماعتوں کی موجودہ ہلچل، احتجاج اور دھرنے کی حکمت عملی بھی اسی رسہ کشی کا نتیجہ ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن پر چونکہ بدعنوانی یا کرپشن کا الزام نہیں، اُن کی شخصیت سب سیاسی جماعتوں کیلے قابل قبول ہے، ان کے کردار پر کوئی داغ بھی نہیں، سب ان کی عزت کرتے ہیں اور تو اور نیب کے سربراہ نے بھی یہ کہہ کر کلین چٹ دے دی ہے کہ مولانا پر کسی بھی قسم کی بدعنوانی یا کرپشن کے کوئی الزام نہیں، اس سے بھی یہ ظاہر ہے کہ چیئرمین نیب نے مولانا کی صفائی کسی کہنے پر ہی کی ہوگی، وہ بھی ایسے موقع پر جب مخالفین ان کی طرف انگلیاں اُٹھا رہے ہیں۔ اللہ ہماری اور ہمارے وطن کی حفاظت کرے، آمین!

ادارتی صفحہ سے مزید