آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 20؍ربیع الاوّل 1441ھ 18؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

مصنوعی ذہانت اور مصنوعی جمہوریت کا تال میل

میرے لئے خبر غیر معمولی تھی۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے اعلامیہ جاری کیا ہے کہ سوئٹزر لینڈ کو گرے لسٹ سے نکال دیا گیا ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں پاکستان بھی گرے لسٹ سے خارج ہو جائے گا۔یاد رہے پاکستان 2012سے 2015تک گرے لسٹ میں شامل رہا، اس کے بعد وہ ایک ’’شریف‘‘ ملک بن گیا، پھر نجانے کیا ہوا کہ 2018میں دوبارہ گرے لسٹ میں شامل کر دیا گیا۔ پاکستان پر الزام ہے کہ وہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی سے جڑے معاملات میں ملوث ہے، اگرچہ ان الزامات کے سلسلہ میں بڑا کردار ہمارے ہمسائے بھارت کا ہے جو مسلسل اس کوشش میں ہے کہ پاکستان مشکوک ملک کی حیثیت سے پابندیوں کے لئے چن لیا جائے، مگر پاکستان کی خطہ کے حوالے سے اہم حیثیت نے بھارت کی خواہش پوری نہ ہونے دی۔ اس ساری صورتحال میں پاکستان سرکار کی غیر ذمہ داری کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ سوال یہ ہے کہ اگر سوئٹزر لینڈ گرے لسٹ سے خارج ہو سکتا ہے تو پاکستان کیوں نہیں۔ سوئٹزر لینڈ نے ایک عرصہ دراز سے اپنے ملک میں دنیا بھر کے ممالک کی ناجائز دولت کو ذخیرہ کرنے کی اجازت دے رکھی تھی اور اس دولت کی وجہ سے یورپ میں اس کی مالی حیثیت بہت ہی مضبوط رہی۔ 1989میں جی سیون گروپ جس کے ممبر ممالک میں امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی اور جاپان شامل تھے، FATFتنظیم کی بنیاد رکھی اور بنیادی نکتہ دنیا بھر میں دولت کی تقسیم کی اصولی اور قانونی حیثیت کا تعین کرنا تھا۔ اب 2019میں FATF کے ممبرز ممالک کی تعداد 39ہے، پاکستان ممبر ممالک میں شامل نہیں، مگر اس کے قوانین اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پاکستان پر بھی لاگو ہیں اور ہماری سابقہ حکومتوں نے اس معاملہ پر کبھی بھی مکمل توجہ نہیں دی۔ جب افغانستان میں امریکہ نے مداخلت کی اور پاکستان امریکہ کا حلیف ملک بنا اور افغانستان کے لئے رقوم کی تقسیم میں پاکستان نے کردار ادا کیا تو FATFکو عالمی تناظر میں اپنے قوانین کو نظر انداز کرنا پڑا۔ 2008میں ملٹری صدر پرویز مشرف کی حکومت کے خاتمہ کے بعد پاکستان میں جمہوریت آئی اور انتخابات کے نتیجہ میں پیپلز پارٹی نے سرکار بنائی، اس دور میں پاکستان کے مالی معاملات کچھ متنازع رہے۔ 2013میں میاں نواز شریف تیسری بار وزیراعظم بنے۔ اب ایف اے ٹی ایف نے پاکستان پر نظر رکھنا شروع کر دی۔ ہمارے وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی کہ وہ ان کی شرائط کو پورا کرکے FATFکے ساتھ تعاون کریں گے، مگر ایسا ہو نہ سکا۔ ملک کی سیاسی اشرافیہ منی لانڈرنگ میں ملوث رہی اور ہمارے دوست ممالک اپنے مفادات کے کارن پاکستان کو نظر انداز کرتے رہے۔ نواز شریف نے ذاتی حیثیت میں بھارت سے تعلقات کو فروغ دینے کی کوشش کی مگر بھارت کا میڈیا اس معاملہ میں نواز شریف پر تنقید کرتا رہا اور تاثر دیتا رہا کہ نواز شریف خوف زدہ ہیں۔ پاناما کیس کے بعد وزیراعظم نواز شریف کی عہدے سے برطرفی اور پھر سزا کے بعد نیب نے اپنا قبلہ درست کرکے کرپشن اور بدانتظامی کی وجہ سے نقصان کے حوالہ سے مقدمات شروع کئے۔ 2018میں انتخابات کے بعد عمران خان وزیراعظم بنے تو انہوں نے پاکستان کی لٹی دولت کو واپس لانے کی منصوبہ بندی شروع کر دی۔ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے یہ بات قومی اسمبلی کو بتائی تھی کہ 200بلین ڈالر کے قریب قومی دولت بیرونِ ملک سے واپس لائی جا سکتی ہے۔ اب یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ سب افسانہ تھا، کوئی ملکی دولت بیرونِ ملک نہیں ہے۔ 2018میں FATFنے پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کر دیا۔ ہمارے سابقہ وزیر خزانہ اسد عمر نے آئی ایم ایف اور FATFسے مجبوری کی حالت میں رابطہ کیا اور یقین دلایا کہ اگر کوئی الزام ہے تو اس کی صفائی دی جا سکتی ہے مگر مہربان ممالک اسد عمر کی پالیسی سے خوش نہ تھے۔ انہوں نے پاکستان کے وزیراعظم کو مجبور کر دیا کہ وہ غیر ملکی مشیروں کی مدد سے پاکستان کی مالی اور معاشی حالت کو درست کریں۔ دہشت گردی اور لٹی ہوئی دولت کے سلسلہ میں FATFنے کبھی بھی طاقتور ممالک سے باز پرس نہیں کی۔ اس معاملہ میں امریکہ پیش پیش رہا، پھر افغانستان کی جنگ میں جو رقم امریکہ نے خرچ کی اس کا حساب بھی کسی کے پاس نہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ بھی لٹی ہوئی دولت کے معاملات میں شریک نظر آئے، مگر امریکی صدر پر کون الزام لگائے۔ اب ڈیموکریٹ کی اسپیکر صدر ٹرمپ کو آڑے ہاتھوں لے رہی ہے مگر امریکی گورے صدر ٹرمپ کے ساتھ ہیں اور دنیا بھر جمہوریت بھی جعلی ذہانت کا شکار ہو کر اپنی حیثیت گنوا رہی ہے۔

آنے والے دنوں میں پاکستان FATFکی گرے لسٹ سے نکلتا نظر آرہا ہے۔ امریکہ کو افغانستان اور ایران کے معاملہ میں پاکستان کی اشد ضرورت ہے، پھر آئی ایم ایف پاکستان کی معیشت میں انقلابی تبدیلیوں کا خواہش مند ہے۔ اس وقت ٹیکس کے معاملات کی وجہ سے کاروباری لوگ اور تجارت کے ناخدا عمران خان کی سرکار سے ناراض نظر آتے ہیں۔ ملک میں کاروبار میں مسلسل مندا نظر آرہا ہے مگر میڈیا بات کو بڑھا رہا ہے، حقیقت اس کے برعکس ہے۔ تنازع کشمیر کی وجہ سے پاکستان عالمی اداروں میں اپنی پہچان کروا رہا ہے۔ امریکہ اور برطانیہ بھی بھارتی اقدامات سے خوش نہیں اور بھارتی معیشت بھی تیزی سے زوال پذیر ہے۔ ایسے میں بھارت FATFکو استعمال کرکے پاکستان کے لئے مشکلات پیدا کر رہا ہے۔آنے والے دنوں میں FATFسے زیادہ خطرہ نہیں، مگر اندرونِ ملک مصنوعی سیاسی ذہانت سے خطرہ ضرور ہے۔ ایسے میں عدلیہ اپنا کردار ادا کر سکتی ہے مگر مقدمات کی طوالت نے انصاف کی حیثیت بھی مشکوک کر رکھی ہے۔ پاکستان میں اگر انصاف ہی وقت پر ہو جائے تو نہ صرف جمہوریت پر یقین آجائے گا بلکہ عوام کے مسائل حل کرنے میں سرکاری مدد بھی ہو سکے گی۔

ادارتی صفحہ سے مزید