آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ24؍ ربیع الاوّل 1441ھ 22؍ نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

یہ میری نہیں، میرے ہم نفس کی کتھا ہے۔ ہو سکتا ہے اسی قسم کی گھٹنا سے آپ کا پالا پڑا ہو یا پھر پڑنے والا ہو۔ ہم نفس کی بپتائیں میری بپتائیں ہوتی ہیں۔ میری بپتائیں میرے ہم نفس کی بپتائیں ہوتی ہیں۔ آپ اپنی بپتائیں چھپا سکتے ہیں مگر میرا ہم نفس مجھ سے اور میں اپنے ہم نفس سے کچھ چھپا نہیں سکتا۔ حال ہی میں میرے ہم نفس کو اِس قسم کی آزمائش سے گزرنا پڑا تھا۔ اپنے ہم نفس کا ماجرا میں آپ کو ضمیر شخصی میں سنا رہا ہوں۔

ان کے آنے کا کوئی وقت مقرر نہیں ہے۔ دن ہو یا رات وہ جب چاہیں، جس وقت چاہیں آسکتے ہیں۔ وہ پابند نہیں ہیں کہ اپنے آنے کی آپ کو پیشگی اطلاع دیں۔ وہ بغیر بتائے آتے ہیں۔ بن بلائے ان کو اپنے گھر میں دیکھ کر آپ اچھنبے میں رہ جاتے ہیں۔ کچھ اس قسم کی نوعیت سے حال ہی میں میرا واسطہ پڑا تھا۔

نہ جانے رات کا وہ کونسا پہر تھا۔ میں ٹی وی پر اینیمل پلانیٹ چینل دیکھ رہا تھا۔ تقریباً چھ سات شیر ایک بھینسے کو گھیرے ہوئے تھے۔ تمام شیر سامنے آکر بھینسے کو شکار کرنے کے بجائے اس پر پیچھے سے حملے کررہے تھے۔ تنہا بھینسا مڑکر اپنے سینگوں سے ان پر وار کرتا تو شیر بھاگ کھڑے ہوتے اور دوبارہ اس کے پیچھے جمع ہوتے اور پھر سے اس کی پیٹھ پر حملہ کرتے۔ مجھے تعجب ہورہا تھا۔ ایک شیر چھوڑ چھ سات شیر بھی سامنے آکر بھینسے کا مقابلہ نہیں کرتے۔ میں جب اس نوعیت کا پروگرام دیکھتا ہوں تب کہاوتوں اور محاوروں کا طلسم ٹوٹنے لگتا ہے۔ کس بنا پر شیر کو جنگل کا بادشاہ کہتے ہیں؟ ایک اکیلا شیر بھینسے، ہاتھی، گینڈے کے قریب سے بھی نہیں گزرتا۔ تب انگریزی کہاوتAs brave as lion مجھے مضحکہ خیز لگتی ہے پھر بھی نہ جانے کیوں، ایک بھینسے کا چھ سات شیروں سے تن تنہا مقابلہ میں انہماک سے دیکھتا ہوں۔ میں دیکھ رہا تھا کہ ایک اکیلا بھینسا پیچھے سے حملہ کرنے والے شیروں کو پلٹ پلٹ کر اپنی پیٹھ سے گرا رہا تھا۔ تب ایسے میں، میں نے دروازہ پر لگا تار دستک سنی۔ ایسی دستک زندگی میں پہلے کبھی میں نے نہیں سنی تھی۔ میں نے ٹیلی وژن کی آواز بند کردی۔ بادل نخواستہ اٹھ کر میں نے دروازہ کھولا۔ سادہ کپڑوں میں ایک دبنگ قسم کا مچھندر اپنے چھ سات حواریوں کے ساتھ دندناتے ہوئے میرے گھر میں داخل ہوا۔ میں ڈر گیا، میری جگہ اگر آپ ہوتے، تو آپ کیا کرتے؟ کیا آپ مچھندر اور اس کے ساتھیوں کو دندناتے گھر میں داخل ہوتے ہوئے دیکھ کرڈر نہیں جاتے؟ ہم صرف ڈر سکتے ہیں۔ میں نے تھرتھر کانپتے ہوئے مچھندر سے ان کے تشریف لے آنے کا سبب پوچھا۔ مچھندر جیب سے پلاسٹک کے کور میں محفوظ کیا ہوا کارڈ نکال کر غصے سے میری آنکھوں کے قریب لے آیا۔ بڑے بڑے حروف میں NABلکھا ہوا دیکھ کر میری جان نکل گئی۔ میرے منہ سے چیخ نکل گئی، ’’نیب‘‘۔

مچھندر نے جھٹ سے کارڈ میری آنکھوں سے ہٹاکر، پلٹ کر، غور سے پڑھا۔ اس سے پہلے کہ خوف سے تھرتھر کانپتے ہوئے میں مرجاتا، مچھندر نے کرخت لہجے میں برے الفاظ منہ سے نکالتے ہوئے کارڈ سیدھا کرکے مجھے دکھاتے ہوئے کہا ’’سوری پروفیسر صاحب۔ کارڈ میں نے الٹا پکڑا ہوا تھا‘‘۔ ڈرتےڈرتے میں نے کارڈ کی طرف دیکھا، لکھا ہوا تھاBAN۔ مچھندر نے پہلی بار مجھے الٹا کارڈ دکھایاتھا اورBAN مجھےNAB دکھائی دیا تھا۔

میں نے ڈرتے ڈرتے پوچھا ’’سر، یہ بین مشہور زمانہ نیب کا بھائی ہے، یا بہن ہے؟ مچھندر نے کہا ’’بین کا نیب سے دور کا یا قریب کا کوئی واسطہ نہیں ہے‘‘۔ بڑے ادب سے میں نے پوچھا تو پھر بین کس قسم کا ادارہ ہے؟‘‘ مچھندر نے گھنائونی مسکراہٹ کے ساتھ کہا ’’پوچھ گچھ کے دوران تمہیں سب پتا چل جائے گا‘‘۔ میں نے ہکلاتے ہوئے پوچھا ’’آپ مجھ سے پوچھ گچھ کرنے آئے ہیں؟‘‘۔ ’’اور نہیں تو کیا ہم تم سے گپ لڑانے آئے ہیں؟‘‘ مچھندر نے کہا ’’مگر پروفیسر تم اس قدر خوفزدہ کیوں ہو؟‘‘۔ میں نے لرزتے ہوئے کہا ’’دنیا کے کسی حصہ میں میری املاک ہے، نہ گھر بار ہے‘‘۔ ہم نیب والے نہیں ہیں، مچھندر نے کہا ’’ہمیں اس بات سے کوئی دلچسپی نہیں ہے کہ بیرون ملک تمہاری املاک ہے، یا نہیں‘‘۔ میں نے ڈرتے ڈرتے پوچھا ’’تو پھر آپ مجھ سے کیا پوچھنے آئے ہیں؟‘‘

’’تم ایک یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہ چکے ہو ۔ بائیس گریڈ میں ریٹائر ہوئے ہو‘‘۔ مچھندر نے پوچھا ’’تو پھر تم اس قدر پھٹیچر کیوں ہو۔ گندے سے دو کمروں کے تاریک فلیٹ میں رہتے ہو۔ پچاس برس پرانے ماڈل کی کار میں سفر کرتے ہو۔ پھٹے پرانے کپڑے اور جوتے پہنتے ہو اور سنا ہے کہ بال بچے بھی تمہارے ساتھ نہیں رہتے۔ کیا یہ درست ہے؟‘‘ میں نے کہا ’’میرے بال بچے نہیں ہیں‘‘۔ مچھندر نے کہا ’’تمہاری گفتگو ریکارڈ کی گئی ہے۔ ہم تمہارے خلاف پرچہ درج کرچکے ہیں‘‘۔ میں نے چونک کر پوچھا ’’کیسا پرچہ؟ کس بات کا پرچہ؟‘‘۔ ’’ تمہیں عدالت سے سمن آئے گا‘‘۔ مچھندر نے کہا ’’اگر تم عدالت نہیں آئے تو پھر تمہیں گرفتار کرکے عدالت کے سامنے پیش کریں گے‘‘۔ میں نے پوچھا ’’مگر کس پاداش میں؟‘‘۔ مچھندر نے کہا ’’تمہیں عدالت کو مطمئن کرنا پڑے گا کہ تم اپنی آمدنی کے مقابلے میں اس قدر گھٹیا اور پھٹیچر زندگی کیوں گزارتے ہو؟‘‘۔ یہ میری نہیں، میرے ہم نفس کی مختصر آپ بیتی ہے۔