• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

واؤڈا کاچیلنج، 15 لاکھ افراد اسلام آباد لائیں گے، راشد سومرو نے لکھ کر دیدیا

کراچی (ٹی وی رپورٹ) جیو کے پروگرام ’’کیپٹل ٹاک‘‘میں وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واؤڈا نے جنرل سیکرٹری جے یو آئی سندھ مولانا راشد محمود سومرو کو بار بار چیلنج کیا کہ وہ 15لاکھ افراد اسلام آباد لائینگے اور وزیراعظم کی چھٹی کرائینگے۔

فیصل واؤڈا کی جیو کے پروگرام ’’کیپٹل ٹاک‘‘میں گفتگو


اس پر جمعیت علمائے اسلام کے رہنما نے کہا کہ میں آپ کو یہ لکھ کر دیتا ہوں اور دستخط کرکے پوری قوم کو دکھاتا ہوں انہوں نے کہا کہ میں یہ بھی لکھ رہا ہوں کہ سندھ سے 4 لاکھ لوگ آئینگے جس پر پروگرام کے میزبان حامد میر نے کہا کہ یہ بھی لکھ کر دیں اگر سندھ سے 4 لاکھ لوگ نہ لاسکے تو آئندہ لاڑکانہ سے الیکشن نہیں لڑینگے۔

راشد محمود سومرو نے فیصل واوڈا کو چیلنج پر یہ تحریر لکھ کر ناظرین کو دکھائی ۔ 

اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کے رہنما شاہنواز رانجھا نے کہا کہ اگر کل مسلم لیگ اور جے یو آئی کے مذاکرات کامیاب ہوجاتے ہیں تو آپ اس تعداد کو دگنا کرلیں۔ 

اس کے بعد نے راشد محمود سومرو کی تحریر پر بطور گواہ دستخط بھی کئے۔ 

پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے فیصل واوڈا کا مزید کہنا تھا کہ جے یو آئی کیا سوچ کر اسلام آباد آرہی ہے، انہیں کوئی مسئلہ یا پریشانی ہے تو ہم سے بات کریں، کسی جگہ نفرت انگیز تقریر کی وجہ سے پیمرا نے مولانا فضل الرحمٰن کی پریس کانفرنس نشر کرنے پر پابندی لگائی جنرل سیکرٹری جے یو آئی سندھ مولانا راشد محمود سومرو نے کہا کہ مدرسہ کے بچوں کو ووٹ دینے کا حق ہے تو اپنے ووٹ کی چوکیداری کیلئے احتجاج کا بھی حق ہے۔

ن لیگ کے رہنما بیرسٹر شاہنواز رانجھا نے کہا کہ ن لیگ میں جاسوس آنے کی بات میں کوئی سنجیدگی نہیں ہے۔ 

فیصل واوڈا نے کہا کہ اپوزیشن میں دراڑیں پڑنا شروع ہوگئی ہیں، بلاول کبھی کہتے ہیں مولانا فضل الرحمٰن ہمارے ساتھ ہیں کبھی کہتے ہیں پی ٹی آئی کے ساتھ ہیں، پی ٹی آئی کا امیدوار لاڑکانہ میں تمام اپوزیشن کے ساتھ مل کر بھی سیٹ نہیں جیت پاتا تو سوال اٹھے گا کہ سندھ حکومت کیسے بنی۔ 

فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ جے یو آئی کیا سوچ کر اسلام آباد آرہی ہے، انہیں کوئی مسئلہ یا پریشانی ہے تو ہم سے بات کریں، حکومت ماں کی طرح ہوتی ہے سب کو ساتھ لے کر چلتی ہے، ماں بچوں کو پیار کرتی ہے تو شرارتی بچوں کو ڈانٹتی اور پھینٹی بھی لگاتی ہے، جے یو آئی مذاکرات کرنا چاہتی ہے تو حکومت خوش آمدید کہتی ہے۔ 

فیصل واوڈا نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے پاس کچھ نہیں اس لئے کرائے پر مولانا فضل الرحمٰن کی خدمات حاصل کرلیں، اب کسی کے گھر میں کوئی مسئلہ ہو مولانا فضل الرحمٰن کو کرائے پر لے لیں، جے یو آئی مدرسہ کے بچوں کو احتجاج میں لارہی ہے، ہم بھی مسلمان ہیں کیا مسلمان یہاں مسلمان کیخلاف کھڑا ہونے والا ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن آنا چاہتے ہیں تو آئیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے، اپوزیشن انتخابی اصلاحات، کشمیر، مہنگائی ، امن و امان پر بات کرنا چاہتی ہے تو ہم تیار ہیں، یہ عمران خان کو اقتدار سے اتارنا چاہتے ہیں ان کی جگہ کس کو لائیں گے۔

فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن دھرنا دینا چاہتے ہیں تو حلوہ، بریانی، باتھ روم سمیت ہر سہولت دیں گے، جے یو آئی ف کو ناراضگی کی کوئی وجہ نہیں دیں گے، مولانا فضل الرحمٰن پیغام دے رہے ہیں کہ مجھے درمیانے راستے کے تحت گرفتار کرلیا جائے۔

مولانا فضل الرحمٰن کی فرمائش آئی ہے کہ مجھے گرفتار کرلو ،لیکن ہم نے کہا آپ نے پرامن احتجاج کرنا ہے تو ضرور کریں۔

فیصل واوڈا نے کہا کہ میری اطلاع کے مطابق کسی جگہ نفرت انگیز تقریر کی وجہ سے پیمرا نے مولانا فضل الرحمٰن کی پریس کانفرنس نشر کرنے پر پابندی لگائی ہے، ہم مولانا فضل الرحمٰن کو کشمیر کمیٹی کی سربراہی، گاڑیاں،جائیدادیں نہیں دے سکتے جو پی پی اور ن لیگ کی حکومتیں دیتی آئی ہیں۔

جنرل سیکرٹری جے یو آئی سندھ مولانا راشد محمود سومرو نے کہا کہ جے یو آئی کا پیپلز پارٹی کے ساتھ سیاسی ملاپ رہا کبھی انتخابی اتحاد نہیں ہوا، پیپلز پارٹی کو لاڑکانہ میں جے یو آئی کے ووٹوں کی ضرورت تھی تو درخواست کرتے ہم اس پر غور کرلیتے، لاڑکانہ کے حالیہ الیکشن میں معظم عباسی امیدوار ہیں جن کے ساتھ میں 2018ء میں لاڑکانہ عوامی اتحاد کے پینل میں شامل تھا، میرا فرض تھا کہ اب بھی میں اسی پینل کو سپورٹ کروں، اپوزیشن جماعتوں کا ایک دوسرے کو سپورٹ کرنے کا مطالبہ عام انتخابات کے بعد چھوٹے انتخابات کیلئے تھا کوئی اتحاد نہیں تھا۔

مولانا راشد محمود سومرو کا کہنا تھا کہ گھوٹکی کے الیکشن میں ہم نے پیپلز پارٹی کے امیدوار کو سپورٹ کیا تھا ،اس الیکشن میں پی ٹی آئی نے ہم سے رابطہ نہیں کیا تھا جبکہ آصف زرداری اور بلاول سمیت پی پی کی قیادت تین مرتبہ مولانا فضل الرحمٰن کے پاس آئی تھی، لاڑکانہ کے انتخابات میں حمایت کیلئے پیپلز پارٹی نے کسی سطح پر ہم سے رابطہ نہیں کیا،پیپلز پارٹی لاڑکانہ کے ضمنی انتخابات جیت جاتی ہے اور دھاندلی نہیں ہوتی تو مبارکباد دیں گے۔

مولانا راشد محمود سومرو کا کہنا تھا کہ مدرسہ کے بچے بھی پاکستان کے شہری اور ووٹرز ہیں، مدرسہ کے بچوں کو ووٹ دینے کا حق ہے تو اپنے ووٹ کی چوکیداری کیلئے احتجاج کا بھی حق ہے، جے یو آئی مولوی کے ہاتھ سے بندوق چھین کر ووٹ کی پرچی تھمائے اور پارلیمنٹ کا راستہ دکھائے تو ناجائز کیوں ہوجاتا ہے، جے یو آئی ف کو طاہر القادری کی طرح کرائے پرآنے کی ضرورت نہیں ہے، طاہر القادری کو پی ٹی آئی نے بلایا تھا انہیں ضرورت تھی، جے یو آئی ف کے پاس تنہا فیصلے کرنے کی طاقت اور صلاحیت ہے۔

انتخابات کے بعد مولانا کا موقف تھا کہ آج تک دال میں کچھ کچھ کالا ہوتا تھا 25جولائی 2018ء کو ساری کالی دال بنائی گئی۔مولانا راشد محمود سومرو کا کہنا تھا کہ جے یو آئی ف انڈوں، کٹوں ،مرغیوں اور لنگر خانے سے یتیم خانے تک جانے والی قوم کو واپس لانے کیلئے آرہے ہیں۔

حکومت ہمارے مارچ میں ٹرانسپورٹ فراہم نہ کرنے کیلئے ٹرانسپورٹرز پر دبائو ڈال رہی ہے، ہم اونٹ ، کشتیوں، سائیکلوں اور پیدل اسلام آباد آرہے ہیں، اونٹوں کا قافلہ تو نوابشاہ سے آگے نکل چکا ہے، ہمارے رہنمائوں اور کارکنوں پر خودکش حملے تک ہوئے ہیں، ہم جنازے اٹھا اٹھا کر تھک گئے ہیں اب جنازے اٹھانے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔

پی ٹی آئی نے مولانا فضل الرحمٰن کی سیکیورٹی واپس لے لی ہے، ہمارے انصار الاسلام کے رضاکار اپنے قائد اور کارکنوں کی حفاظت کیلئے آرہے ہیں، ہم جلائو گھیرائو تشدد یا سول نافرمانی کی بات نہیں کریں گے۔ 

راشد محمود سومرو کا کہنا تھا کہ آزادی مارچ کراچی اور کوئٹہ سے شروع ہوگا، کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے 27اکتوبر کو آزادی مارچ کا آغاز کررہے ہیں، یہ تجویز زیرغور ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کو کشمیر یا سکھر سے مارچ میں شامل ہونا چاہئے،حکومت کی فرمائش آئی ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن تین لفظ این آر او انہیں سنادیں ،ہم نے بھی کہہ دیا ہے کہ عمران خان کو این آر او نہیں دیں گے۔

جب تک عمران خان استعفیٰ نہیں دیتے دھرنا ختم نہیں ہوگا، چورجیل میں ہو یا کابینہ میں اسے لٹکایا جائے، نواز شریف کے دور میں ملک نے جو ترقی کی پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیں کی، حکومت کی چھٹی کروانے کیلئے پاکستانی عوام نے ہمیں کرائے پر لے لیا ہے،میں لکھ کر دیتا ہوں کہ اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام کے پندرہ لاکھ سے زائد کارکن آکر حکومت کی چھٹی کروائیں گے۔

سندھ سے چار لاکھ سے زائد لوگ آزادی مارچ میں آئیں گے،پندرہ لاکھ لوگ اسلام آباد نہیں آئے تو ہر جرمانہ دینے کو تیار ہوں، عمران خان جس کی سیاست ختم کرنے کے دعوے کرتے تھے آج اسی سے مذاکرات کرنے آرہے ہیں، فیصل واوڈا مولانا صاحب پر زمینوں کا کیس ثابت کریں ہم آزادی مارچ ختم کردیں گے۔

ن لیگ کے رہنما بیرسٹر شاہنواز رانجھا نے کہا کہ لاڑکانہ میں جے یو آئی کے پیپلز پارٹی کے امیدوار کی حمایت نہ کرنے سے دھرنے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، اس سے حکومت کی کارکردگی یا الیکشن میں دھاندلی پر پیپلز پارٹی اور مولانا فضل الرحمٰن میں کوئی اختلاف نہیں ہوگا۔

حکومت نے ابھی تک انتخابات میں دھاندلی پر بنائی کمیٹی کی میٹنگ نہیں بلائی، وزیراعظم کی انا اتنی زیادہ ہے کہ اپوزیشن لیڈر کے ساتھ بیٹھ کر الیکشن کمیشن کے ممبران کا مسئلہ حل نہیں کرسکتے۔ 

شاہنواز رانجھا کا کہنا تھا کہ جمعرات کو ن لیگی قیادت کی مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات کے بعد ن لیگ کا روڈ میپ سامنے آجائے گا، مولانا صاحب کا مطالبہ ہے کہ حکومت ختم کی جائے، وزیراعظم مستعفی ہوں اور نئے الیکشن کروائے جائیں، ن لیگ چاہتی ہے کہ اس کیلئے ایسا طریقہ کار اختیار کیا جائے جس میں پچھلے جمہوری سفر کو نقصان نہ پہنچے۔

ن لیگ میں جاسوس آنے کی بات میں کوئی سنجیدگی نہیں ہے۔ شاہنواز رانجھا نے کہا کہ سابق وزیر صحت عامر محمود کیانی نے میڈیسن میں اربوں روپے دبئی میں ایک شخص سے لیے وہ سب ثبوت نیب کے پاس موجود ہیں، علی زیدی کے چار قریبی بزنس مینوں کے اکائونٹس اور ریکارڈ ٹریس ہوچکے ہیں۔

پرویز خٹک کی صحت کمزور لیکن کھانے پینے کا ہاضمہ بہت اچھا ہے، چیئرمین نیب حکومتی نمائندوں کیخلاف کچھ کرنے لگتا ہے تواس کی ویڈیو لیک کردی جاتی ہے، شہزاد اکبر کی بھی چھٹی ہونے والی ہے کیونکہ ان کی تمام باتیں جھوٹ ثابت ہوگئی ہیں۔ 

شاہنواز رانجھا کا کہنا تھا کہ ن لیگ اور جے یوآئی ف کا فیصلہ ہوگیا تو پندرہ لاکھ نہیں تیس لاکھ لوگ اسلام آباد آئیں گے، حکومت میڈیا میں مولانا فضل الرحمٰن کی کوریج پر پابندی لگا کر انہیں ہیرو بنارہی ہے۔  

اہم خبریں سے مزید