آپ آف لائن ہیں
پیر10؍صفر المظفّر 1442ھ 28؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

انتقام کی آگ بھڑکتی چلی جا رہی ہے، پاکستان کے اندر بھی اور پاکستان کے باہر بھی۔ یہ منظر سقوطِ مشرقی پاکستان کے مناظر سے گہری مشابہت رکھتا ہے۔ پاکستان کے دولخت ہونے سے پہلے شیخ مجیب الرحمٰن اور جناب ذوالفقار علی بھٹو کے مابین الفاظ کا ناختم ہونے والا معرکہ بپا ہوا تھا جس کی ابتدا وزیرِاعظم نوابزادہ لیاقت علی خاں اور جناب حسین شہید سہروردی کے درمیان بعض غلط فہمیاں پیدا ہو جانے کے باعث شدید محاذ آرائی سے ہوئی تھی جس نے مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان میں گہرے سیاسی فاصلے پیدا کر دیئے تھے۔ آگے چل کر جناب سہروردی نے 1956کے آئین کی تدوین میں بنیادی کردار ادا کیا۔

اقوامِ عالم کی زندگی میں تاریخ کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے جو اُن کے اعمال ہی کی ایک جیتی جاگتی تصویر ہوتی ہے مگر بارہا یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ اِس کی اپنی طاقت قوموں پر حاوی ہو جاتی ہے اور وہ اپنے فیصلے صادر کرنا شروع کر دیتی ہے۔ ہمارے قریبی عہد میں چند ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں جو اِس امر کا تقاضا کرتے ہیں کہ تاریخ سے بھی بازپُرس کی جائے۔ یہ کیسے ہوا کہ دنیا کے سب سے بڑے نام نہاد جمہوری ملک میں دنیا کا بدترین فاشسٹ اور ’گجرات کا قصاب‘ نریندر مودی 2014میں وزیرِاعظم بنا اور 2019میں اُسے لوک سبھا میں دو تہائی اکثریت حاصل ہو گئی۔ اس نے دوبارہ وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالتے ہی بھارتی آئین میں ترمیم کر کے مقبوضہ جموں و کشمیر کو تین حصوں میں تقسیم کرکے بھارتی یونین میں شامل کرلیا اور اَسّی لاکھ کشمیریوں کو ایک بڑی جیل میں بند کر کے اُنہیں پوری دنیا سے کاٹ ڈالا اور طویل المدت کرفیو نافذ کر دیا۔ تاریخ سے یہ بھی پوچھنے کو جی چاہتا ہے کہ دنیا کی واحد سُپر پاور امریکہ میں ایک ایسا شخص کیسے صدر منتخب ہو گیا جو نفرتوں کا سوداگر اور عقل و فہم سے نابلد معلوم ہوتا ہے۔ اسے اپنی زبان پر اختیار ہے نہ اپنے ٹویٹر پر۔ اس نے ایک لحظے میں طالبان سے برسوں پر محیط مذاکرات منقطع کر دیئے جو کامیابی کی حدوں کو چھو چکے تھے۔ اِسی طرح صدر ٹرمپ نے یک لخت شام سے اپنی فوجیں نکالنے کا اعلان کر دیا اور شام کے اندر رُوس کی فتح یابی کا راستہ کھول دیا۔ اِسی تاریخ نے پاکستان میں بھی عجب عجب گُل کھلائے ہیں اور کھلاتی چلی جا رہی ہے جو سقوطِ ڈھاکہ کی جگرپاش یادوں کے زخم کُرید رہی ہے۔ خوف محسوس ہو رہا ہے کہ بھارت کی عسکری قیادت پاکستان کو سبق سکھانے اور خود ساختہ دہشت گردی کا غبار اُٹھا کر فوجی طاقت استعمال کرنے کا جواز پیدا کر رہی ہے جبکہ مودی سرکار مقبوضہ کشمیر سے عالمی رائے عامہ کی توجہ ہٹانے کے لیے تمام تر سفارتی اور اقتصادی ذرائع بروئے کار لا رہی ہے۔ دوسری طرف پاکستان میں حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کو بڑے پیمانے پر چیلنج کرتے ہوئے طاقت آزمائی پر تُلی ہوئی ہیں۔

بھارتی آرمی چیف کی غلط بیانی اور الزام تراشی کا پول کھولنے کے لیے پاکستان کے دفترِ خارجہ اور آئی ایس پی آر نے پچھلے دنوں غیرملکی سفیروں اور عالمی ابلاغِ عامہ کے ذرائع کو آزاد کشمیر آنے اور صحیح صورتحال کا مشاہدہ کرنے کی دعوت دی۔ بھارتی ناظم الامور سے بھی کہا گیا تھا کہ وہ اُن تربیتی کیمپوں کی نشاندہی کرے جن کو تباہ کرنے کے لیے بھارتی فوج نے امریکہ سے حاصل شدہ توپوں کے گولے استعمال کیے ہیں۔ بھارتی ہائی کمیشن سے کوئی نہیں آیا، تاہم دو درجن سے زائد غیرملکی سفارت کار آئے اور اُنہوں نے اِس امر کی توثیق کی کہ بھارتی فوج کی گولہ باری سے شہریوں کی دکانیں اور مکانات مسمار اور متعدد شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ حکومت کے اِس بروقت اقدام سے پاکستان کو اخلاقی برتری حاصل ہوئی ہے مگر بھارت کا فتنہ اِس قدر خطرناک ہے کہ ہماری طرف سے مزید اقدامات کی شدید ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ جارحانہ سفارت کاری کے ساتھ ساتھ سلامتی کونسل میں بھارت کی طرف سے انتہائی سنگین جنگ بندی لائن کی خلاف ورزیوں کا مسئلہ اُٹھانا اور بھارت کے اسٹرٹیجک مفادات پر کاری ضرب لگانا ہوگی۔ اِس کے لیے کشمیری قیادت کو فرنٹ لائن پر لانا اور اہم دارالحکومتوں میں اپنی آواز پہنچانا ہوگی۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ امریکی کانگرس نے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی زیادتیوں کی حرارت محسوس کی ہے۔

اِس بلند نصب العین کا حصول اِسی طرح ممکن ہے کہ قوم پوری طرح متحد ہو اور سیاستدان ایک دوسرے کو ملیامیٹ کرنے کے بجائے تدبر اور تحمل سے کام لیں۔ دشمن تلوار سونتے سر پر کھڑا ہے، ایسے میں داخلی اِنتشار تباہ کن ثابت ہوگا اور ہماری تاریخ کو آزمائش میں ڈال دے گا۔ میں ایک نجی ٹی وی پر گورنر پنجاب چوہدری سرور کا انٹرویو سن رہا تھا۔ وہ کہہ رہے تھے کہ سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنے کی ذمہ داری حکومت کی ہے اور ہمیں اپنے اختلافات مذاکرات کے ذریعے طے کرنا چاہئیں۔ اُن کی باتوں سے بڑا حوصلہ ہوا۔ سیاسی صورتحال کے بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ جناب عمران خان کے بعض وزیر اور مشیر نفرت اور اِنتقام کو ہوا دے رہے ہیں۔ جناب نوازشریف اور جناب آصف زرداری کی صحت کے بارے میں جو غفلت برتی گئی اور اُن کی بیماری کا مذاق بھی اُڑایا گیا، اس نے قومی حلقوں میں شدید ارتعاش پیدا کیا ہے۔ ہماری مولانا فضل الرحمٰن اور اپوزیشن جماعتوں سے اپیل ہوگی کہ آزادی مارچ کو پُرامن رکھنے کی بھاری ذمہ داری نبھائیں اور حکومت پکڑ دھکڑ سے اسلام آباد کو لاک ڈاؤن کرنے سے پوری طرح اجتناب کرے۔ انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کے لیے جو پارلیمانی کمیٹی قائم ہوئی تھی، اُس کی سربراہی تبدیل اور اُسے فعال کر کے اس کی سفارشات کے مطابق شفاف انتخابات کی مشترکہ حکمتِ عملی طے کی جائے۔ وزیرِاعظم عمران خان کو محسوس کرنا چاہئے کہ جناب نوازشریف کی صحت شدید خطرے میں ہے، اِس لئے فوری طور پر مریم نواز کو پیرول پر رہا کیا جائے اور عیادت کی روایت قائم کی جائے۔