آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل12؍ربیع الثانی 1441ھ 10؍ دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

انٹرنیٹ پر ہر 5 میں سے 2 افراد بیماری کی غلط تشخیص کرواتے ہیں، رپورٹ

انٹرنیٹ کی وجہ سے لوگوں کی زندگی جہاں آسان ہوئی ہے وہیں غلط معلومات کی وجہ سے انہیں پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لوگ اپنے مسائل کے حل کے ساتھ ساتھ اب اپنی بیماریوں کے بارے میں بھی انٹرنیٹ سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

نئے سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکا میں موجود ہر 5 میں سے 2 افراد ’ڈاکٹر گوگل‘ کی مدد سے اپنی بیماری کی غلط تشخیص کروالیتے ہیں۔

تقریباً 2 ہزار امریکی شہریوں پر ایک سروے کیا گیا جنہوں ںے خود کی کیفیت کو دیکھتے ہوئے جب اپنی بیماری کا اںٹرنیٹ پر پتہ لگایا تو معلوم ہوا کہ 43 فیصد افراد کو ان کی بیماری کا غلط ادراک ہوا۔

ان افراد نے جب اپنی تشخیص خود انٹرنیٹ پر کروائی تو معلوم ہوا کہ ان افراد نے اپنی حقیقی بیماری کے بجائے بہت خطرناک بیماری کو نتیجتاً اخذ کرلیا۔

74 فیصد افراد نے بتایا کہ جب انہوں نے اپنی بیماری کا پتہ لگانے کے لیے انٹرنیٹ سے رجوع کیا تو نتیجہ اخذ ہونے کے بعد وہ اپنی بیماری کو لے کر مزید پریشانی کا شکار ہوگئے۔

یہ سروے لیٹس گیٹ چیکڈ کی جانب سے ون پول نے کہا جس میں یہ بات سامنے آئی کہ 51 فیصد افراد اپنی بیماری کا پتہ لگانے کے لیے پہلے ایک ماہر ڈاکٹر سے رجوع کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

دریں اثنا سروے کیے گئے افراد کا ایک چوتھائی حصے (26 فیصد) کے پاس بنیادی معالج کی سہولت میسر نہیں تھی جبکہ اس حصے کے ہر 10 میں سے 6 افرا ڈاکٹر کے پاس جانے کو ترجیح نہیں دیتے۔

اس حصے کے 47 فیصد افراد نے ڈاکٹرز کے پاس نہ جانے کی وجہ میڈیکل سہولیات کی قیمتوں میں اضافہ بتائی، 37 فیصد کا ماننا ہے کہ وہ ڈاکٹروں پر یقین نہیں رکھتے جب وہ اپنی کیفیت اسے بتاتے ہیں، جبکہ 37 فیصد افراد کا ماننا ہے کہ وہ ڈاکٹر کے پاس اس لیے نہیں جاتے کیونکہ ان کے پاس معالج کے پاس جانے کا وقت نہیں ہے۔

جو حصہ ڈاکٹر کے پاس جانے کو ترجیح دیتا ہے اس میں 47 فیصد کا ماننا ہے کہ وہ اپنی بیماری پر توجہ دیتے ہوئے اس کا فیصلہ کرتے ہیں کہ اس کا ٹیسٹ ہوسکتا ہے یا نہیں جبکہ 38 فیصد کا ماننا ہے کہ وہ ٹیسٹ اپنے گھر میں کر لیتے ہیں۔

لیٹس گیٹ چیکڈ کے میڈیکل ڈائریکٹر رابرٹ مورڈکن کا کہنا تھا کہ یہ سروے ہمیں بتاتا ہے کہ ایک بڑی تعداد لوگوں کی موجود ہے جو روزانہ کی بنیاد پر منفی کیفیت کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں وہ یا اپنی کیفیت کو ہی نہیں سمجھ پاتے یا پھر ان کی بیماری کی غلط تشخیص ہوجاتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اپنے آپ کو آگاہی دینا اچھی چیز ہوسکتی ہے، لیکن یہ ضروری ہے کہ آپ اپنی بیماری کے لیے بامقصد ٹیسٹ کروائیں۔

سروے کے مطابق اکثر لوگوں کو غدود کا مسئلہ رہتا ہے، تاہم جب سروے میں یہ سوال کیا گیا کہ یہ غدود جسم کے کس حصے میں ہوتے ہیں تو ان میں سے صرف 45 فیصد ہی اس کا صحیح جواب دے سکے۔

صحت سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید