آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل 21؍ربیع الاوّل 1441ھ 19؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

بیرونس وارثی کا میٹ ہینکاک پر وائٹس پلیننگ کا الزام

لندن (پی اے) بیرونس سعیدہ وارثی نے میٹ ہینکاک پر وائٹس پلیننگ کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے یہ بات ہینکاک کے اس بیان کے بعد کہی کہ ان کی پارٹی میں دوسرے افراد اسلاموفوبیا کے بارے میں بیرونس وارثی سے زیادہ متوازن اپروچ رکھتے ہیں۔ سابق ٹوری چیئرمین بیرونس سعیدہ وارثی کو اپنی پارٹی میں اسلاموفوبیا کے بارے میں رسپانس پر پارٹی قیادت کی جانب سے زبردست تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ وہ پارٹی میں اسلاموفوبیا کے حوالے سے بارہا کھل کر اظہار خیال کر چکی ہیں۔ بیرونس وارثی نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ اس ایشو پرتعلیم دینے کیلئے میرے ساتھیوں میں ہینکاک جیسے لوگ بھی ہیں۔ میٹ ہینکاک نے کہا تھا کہ ٹوریز کو پارٹی میں اسلاموفوبیا کے ایشو پر انکوائری کرانے کی ضرورت ہے، تاہم ان کا دعویٰ تھا کہ پارٹی میں اس ایشو پر لیڈی وارثی کے مقابلے میں دیگر افراد زیادہ متوازن اپروچ رکھتے ہیں۔ ان کا یہ بیان وزیراعظم بورس جانسن کے یہ کہنے کے بعد سامنے آیا کہ کنزرویٹیو پارٹی امتیاز کے بارے میں جنرل انویسٹی گیشن کروائے گی۔ لیڈی وارثی نے کہا

کہ وزیراعظم جانسن کے کمنٹس انتہائی مایوس کن ہیں۔ ہم صرف سیاسی پوائنٹ سکور کرنے کیلئے اینٹی ریشسٹ ہیں۔ بی بی سی ریڈیو فورکے پروگرام ٹوڈے میں گفتگو کرتےہوئے میٹ ہینکاک نے کہا کہ دیکھو مجھے سعیدہ وارثی پسند ہے۔ اس معاملے پر اس کا مخصوص نقطہ نظر ہے۔ پارٹی میں ایسے لوگ موجود ہیں جو اس سے زیادہ متوازن اپروچ رکھتے ہیں۔ ان سے پوچھا گیا کہ آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ غیر متوازن ہیں تو ہینکاک نے کہا کہ نہیں میں یقیناً یہ نہیں کہہ رہا، میں ان کا بے حد احترام کرتا ہوں لیکن ان کا ایک خاص نقطہ نظر ہے۔ اس ایشو پر ایک انکوائری کی ضرورت ہے لیکن آپ کو تمام طرح کے امتیاز کو دیکھنا چاہئے۔ یہ ایک ایسی چیز ہے، جس کو ہر ذمہ دار پارٹی کو ہمیشہ دیکھنے کی ضرورت ہے۔ لیڈی وارثی نے ٹوئیٹ کیا کہ مسٹر ہینکاک میرے ساتھ وائٹس پلیننگ کا شکریہ، مجھے خوشی ہے کہ ریس ریلیشنز پر کام کے میرے 30 سالہ تجربے کے بعد مجھے اس ایشو پر تعلیم دینے کیلئے پارٹی میں آپ جیسے ساتھی موجود ہیں۔ جمعہ کو بی بی سی کے ریڈیو نوٹنگھم شائر کو انٹرویو دیتے ہوئے بورس جانسن نے کہا تھا کہ سماج اور میں مکمل طور پر اس سے متفق ہیں کہ ہم ہر طرح کے تعصب کی عمومی تحقیقات کر رہے ہیں۔ اس سوال پر کہ آپ نے مسلم خواتین کے نقاب پہننے کے بارے میں کہا تھا کہ وہ لیٹر بکس کی طرح نظر آتی ہیں، بورس جانسن نے کہا کہ مجھے اپنے مسلم ورثے پر بہت فخر ہے، میرے گریٹ گرینڈ فادر قران مجید کی تلاوت کر سکتے تھے یہ بالکل سچ ہے۔ جب میں لندن کا انتظام چلا رہا تھا اور میں نے بحیثیت سیاستدان ہر وقت ہر قسم کی مساوات اور انکلوسیونیس کیلئے مہم چلائی تھی۔

یورپ سے سے مزید