برطانوی منسٹر فار مڈل ایسٹ ہمیش فالکنر نے کہا ہے کہ اسرائیل کا غزہ کے لیے امداد اور ٹینٹ روکنا ناقابل معافی ہے۔
پارلیمنٹ میں غزہ کی صورت حال پر بحث کے دوران ہمیش فالکنر نے کہا کہ اسرائیل نے امن منصوبے پر دستخط کے وقت اقوام متحدہ اور دیگر تنظیموں کی مداخلت کے بغیر امداد آنے پر اتفاق کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے 37 این جی اوز پر پابندی لگادی ہے، جن میں ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈر کی 6 اور آکسفیم کی 2 برانچیں شامل ہیں، اسرائیل کی سرحد پر بہت زیادہ امداد پھنسی ہوئی ہے۔
ہمیش فالکنر نے کہا کہ ٹرک غزہ میں داخل ہو رہے ہیں لیکن اہم کراسنگ بند ہیں، قافلوں کو واپس موڑا اور طبی امداد اور شیلٹرز کو روکا جا رہا ہے، این جی اوز کو بند کرکے امن منصوبہ کام نہیں کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ 37 این جی اوز پر پابندی غیر منصفانہ ہے، برطانیہ سمیت دیگر ممالک بھی اسے ناقابل قبول قرار دے رہے ہیں، تجارتی سامان لے جانے والے ٹرکوں کو کم رکاوٹوں کا سامنا ہے۔
برطانوی منسٹر نے مزید کہا کہ غزہ میں سگریٹ اور پرتعیش سامان پہنچانا آسان اور بنیادی ادویات اور رہائشی سامان پہنچانا مشکل ہے۔
انہوں نے کہا کہ برطانوی مدد سے فراہم کردہ ٹینٹس اور شیلٹرز بھی غزہ کی سرحد پر پھنسے ہوئے ہیں، وہاں عوام سرد موسم اور سیلاب و طوفان سے بچنے کےلئے تباہ حال عمارتوں میں پناہ لے رہے ہیں۔
ہمیش فالکنر نے یہ بھی کہا کہ وہ ہائپو تھرمیا اور گلیوں میں بہتے سیوریج کا شکار ہیں جو کہ ناقابل معافی ہے۔
بحث میں حصہ لیتے ہوئے لیبر ایم پی میلانیا وارڈ نے کہا کہ اسرائیل امداد پر پابندی لگانے والے شمالی کوریا، روس اور میانمار کے نقش قدم پر چل رہا ہے، موجودہ صورت حال کے سبب مزید اموات واقع ہو رہی ہیں، اسرائیل پر الفاظ اور بیانات کو کوئی اثر نہیں ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ برطانیہ کب حقیقی کارروائی کرے گا، این جی اوز پر پابندی لگانے والے اسرائیلی حکام پر پابندیاں عائد کی جائیں۔
عمران حسین ایم پی نے کہا کہ امداد سامان روکنے کا مطلب ہے کہ غزہ میں لوگ قتل عام کے بعد بھوک سے مر جائیں، برطانیہ آخر کب بامعنی کارروائی کرے گا، اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت بند اور وسیع پیمانے پر پابندیاں عائد کی جائیں۔
پریتی پٹیل شیڈو فارن سیکرٹری نے کہا کہ دہشت گردوں سے کسی سمجھوتے کے بغیر امداد ضرورت مند افراد تک پہنچائی جائے۔